آج صبح سے سفر پر ہو بہت دنوں بعد اپنے شہر جانے کا اتفاق ہوا، ریل گاڑی میں کھڑکی والی سیٹ پہ اپنے رخسار کے نیچے ہاتھ دھڑے بیٹھا تھا راستے میں، میں نے دیکھا، کہ آج کا موسم بڑا ہی سہانا اور بڑا ہی البیلا ہے، ہوا بھی خوشبودار ہے، سورج مجھے اپنا محبوب سمجھ کر میرے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا ہے، کہسار سے چشمے پھوٹ رہے ہیں اور نخلستان لہرا رہے ہیں، میں سوچ میں پڑ گیا کہ موسم ہی ایسا ہے یا میری خوشی نے موسم کو ایسا بنا دیا ہے۔
میں غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ہو نہ ہو: اُس کے چہرے کی خوب صورتی سے سورج شرما کر بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا ہوگا، اُس کی زلفیں ہائے تابدار ہواؤں میں لہرائی ہونگی جس کے سبب فضا معطر ہے۔ خوشبودار ہوائیں کھڑکی کے راستے سیدھے میری پیشانی سے ٹکراتی رہیں اور میرا مشامِ جاں معطر ہوتا رہا۔
اِسی کشمکش میں میری آنکھ لگی اور میں غنودگی کی حالت میں چلا گیا؛ میں نے دیکھا کہ میں جس کیلیے سفر کر رہا ہوں وہ تو میری بانہوں میں سر رکھ کر اس ظالم دنیا سے بےخبر سوئی ہوئی ہے؛ اُسکے معصوم چہرے پر زلفیں پھیلی ہوئی ہیں، اور میں اپنے انگلیوں کے نازک پوروں سے اُنہیں ہٹا رہا ہوں اور چہرے کی خوب صورتی کو دیکھے جا رہا ہوں، چہرے کی کشش ایسی کہ پلک جھپکنے کو بھی دل نہ چاہے؛ اُسکی بند آنکھیں لؤ لؤ کی چمک کی طرح اپنی طرف کھینچ رہی تھیں، میں نے بوسا دینا چاہا لیکن گرد و نواح لوگ بیٹھے تھے۔
اِتنے میں میری آنکھیں کھل گئیں اور ٹھنڈ ہواؤں نے میری آنکھوں سے اشک بہانا شروع کر دیا، میں بار بار صاف کرتا رہا لیکن "روکے نہ رکے" والا حال تھا، میں نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کردیا اور پُر سکون مناظر سے لطف اندوز ہونے لگا، لیکن پھر بھی میری آنکھوں سے اشکیں امنڈنا بند نہیں ہوئیں، تو میں فکر میں پڑ گیا کہ یہ خوشی کے آنسو ہیں یا پھر یہ ٹھنڈ ہوائیں میری خوشی کو تہ و بالا کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن جو بھی ہو میں اپنے شہر پہنچنے والا ہو۔۔۔
نوٹ۔۔ اس تحریر کو جامۂ حقیقت پہنانے کی کوشش نہ کیجیے، یہ نہ کوئی رودادِ واقعہ ہے اور نہ سرگزشتِ واردات؛ بلکہ ایّامِ سفر کی فراغت، تنہائیِ راہ اور ذوقِ سخن کی ایک بے ضرر شوخی ہے۔
سفر کی گرد، لمحوں کی بیکاری، اور طبیعتِ شگفتہ نے قلم کو جنبش دی تو چند سطریں صفحۂ قرطاس پر اُتر آئیں۔
پس اسے محض ایک تخیّلی نقش، تفنّنِ طبع، اور ذوقِ تحریر کی سرمستی سمجھا جائے؛ ورنہ نہ یہاں کوئی داستانِ پنہاں ہے اور نہ کوئی حکایتِ سربستہ۔
اہلِ ذوق کے لیے یہ فقط ایک ادبی مشغلہ ہے، جسے بادۂ خیال اور کیفِ سفر نے جنم دیا ہے۔
محمد مصعب پالنپوری