*قانونِ اسلام، قربانی اور جانوروں کے حقوق کا فلسفہ* *(قسط اول)*
اسلام میں قربانی محض ایک رسم نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم الشان عبادت، تسلیم و رضا کی علامت اور معاشی و سماجی بہبود کا ایک مربوط نظام ہے، دورِ حاضر میں ملحدین (Atheists) کی جانب سے اس اسلامی شعار پر کئی قسم کے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں، جن کا مقصد مسلمانوں میں احساسِ کمتری پیدا کرنا اور اسلام کو ایک *بے رحم* مذہب کے طور پر پیش کرنا ہے،آئیے ان اعتراضات کا علمی، عقلی اور جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں تفصیلی محاکمہ کرتے ہیں۔
ملحدین کا سوال نمبر 1:
کیا بے زبان جانوروں کا گلا کاٹنا ظلم اور بے رحمی ہے؟ اسلام اگر رحم دلی کا درس دیتا ہے، تو سالانہ کروڑوں جانوروں کا خون کیوں بہایا جاتا ہے؟
جواب (نقلی و عقلی دلائل)اسلام نے جانوروں کے حقوق اور ان کے ساتھ نرمی کا جو معیار قائم کیا ہے، اس کی نظیر دنیا کے کسی فلسفے یا قانون میں نہیں ملتی، قربانی ظلم نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کے حکم کی تعمیل اور کائناتی نظام کا حصہ ہے۔
*قرآنِ کریم کا فرمان* اللہ تعالیٰ سورہ الحج میں واضح فرماتا ہے:
*لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۤؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ اللہ کو ہرگز نہ ان (جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے،*
اس آیت سے واضح ہے کہ اسلام کا مقصد محض خون بہانا یا گوشت کھانا نہیں، بلکہ انسان کے اندر جذبۂ ایثار، اطاعت اور تقویٰ پیدا کرنا ہے۔
*رحمدلانہ ذبح کا نبوی معیار* رسول اللہ ﷺ نے فرمایا *اللہ نے ہر چیز میں احسان (نرمی/خوبی) کو لازم کیا ہے، اس لیے جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچائے،* ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی جو کسی جانور کو باندھ کر نشانہ بنائے یا اسے تڑپا کر مارے۔ چھری کو جانور کے سامنے تیز کرنے تک سے منع کیا گیا ہے تاکہ اسے کوئی ذہنی اذیت نہ ہو، *حیاتیاتی زنجیر (Food Chain)* کائنات کا پورا نظام ایک دوسرے کی غذا بننے پر قائم ہے، اگر شیر ہرن کا شکار نہ کرے، تو جنگل کا توازن بگڑ جائے گا، انسان حیاتیاتی طور پر ہمہ خور ہے، یعنی اس کے دانت اور نظامِ ہضم پودے اور گوشت دونوں کھانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ جانوروں کو انسانی فائدے کے لیے استعمال کرنا عینِ عقلِ فطرت ہے۔
*سوال نمبر 2: اسلامی طریقۂ ذبح (ذبحِ اختیاری) کے بارے میں جدید سائنس کیا کہتی ہے؟ کیا جانور واقعی شدید تکلیف سے تڑپتا ہے؟*
*جواب (سائنسی اعترافات اور فوائد)* جدید سائنس اور حیاتیاتی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی طریقۂ ذبح جانور کے لیے *سب سے کم تکلیف دہ* اور انسانی صحت کے لیے *سب سے زیادہ مفید* ہے، اس حوالے سے سائنس کے اعترافات درج ذیل ہیں:
*حسی جھٹکے کا فوری خاتمہ* جرمنی کی ہانوور یونیورسٹی میں پروفیسر ولہلم شلٹز اور ان کے ساتھیوں نے ای ای جی کے ذریعے ذبح کے وقت جانور کے دماغی لہروں کا مطالعہ کیا، تحقیق سے ثابت ہوا کہ جب تیز چھری سے جانور کی شہ رگ، شاہ رگ اور حلقوم کو اچانک کاٹا جاتا ہے، تو دماغ کو خون سپلائی کرنے والی رگیں کٹ جاتی ہیں، اس کے نتیجے میں سیکنڈ کے چند ہزارویں حصے میں دماغ کو آکسیجن اور خون کی فراہمی فوراً بند ہو جاتی ہے اور جانور گہری بے ہوشی میں چلا جاتا ہے، اس حالت میں اس کا درد محسوس کرنے کا نظام فوراً ناکارہ ہو جاتا ہے، اور اسے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
*تڑپنے کی سائنسی حقیقت* ذبح کے بعد جانور کا پیر مارنا یا تڑپنا درد کی وجہ سے نہیں ہوتا، سائنس کے مطابق یہ صرف ایک اضطراری عمل ہے، چونکہ ریڑھ کی ہڈی سلامت ہوتی ہے، اس لیے دل مسلسل پمپ کرتا ہے تاکہ دماغ تک خون پہنچا سکے، یہ تڑپ دراصل جسم کے پٹھوں کا سکڑنا اور پھیلنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خون باہر نکل سکے، *پاک اور جراثیم سے محفوظ گوشت* اسلامی طریقے سے ذبح کرنے کا سب سے بڑا سائنسی فائدہ یہ ہے کہ دل کی مسلسل پمپنگ کی وجہ سے جسم کا سارا گندا اور زہریلا خون (جس میں یوریا، یورک ایسڈ اور جراثیم پائے جاتے ہیں) باہر نکل جاتا ہے،
خون جراثیم کی افزائش کے لیے سب سے بہترین جگہ ہے، اگر خون اندر رہ جائے تو گوشت بہت جلد خراب ہو جاتا ہے، اسلامی ذبیحہ کا گوشت دیر تک تازہ رہتا ہے اور صحت کے لیے انتہائی مفید ہوتا ہے۔
*مغربی طریقے (جھٹکا) کی سائنسی خرابیاں* مغربی ممالک میں جانور کو ذبح کرنے سے پہلے سر پر گولی ماری جاتی ہے، کرنٹ لگایا جاتا ہے یا گیس دی جاتی ہے سائنس نے ثابت کیا ہے کہ اس طریقے سے جانور کا دل اچانک رک جاتا ہے یا کمزور پڑ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سارا زہریلا خون گوشت کے اندر ہی جم جاتا ہے،ایسا گوشت کھانے سے انسانوں میں دل کی بیماریاں اور انفیکشنز پھیلتے ہیں، مزید برآں، کرنٹ لگنے سے جانور کو جو شدید اندرونی تکلیف ہوتی ہے، وہ اس بیرونی تکلیف سے ہزار گنا زیادہ ہے جو چھری چلنے سے ہوتی ہے۔
*سوال نمبر 3 قربانی کے دنوں میں اتنے بڑے پیمانے پر جانوروں کو ذبح کرنے سے ماحول گندا ہوتا ہے اور معیشت کا نقصان ہوتا ہے، یہ پیسہ غریبوں میں کیوں نہیں بانٹ دیا جاتا؟*
جواب (معاشی و سماجی بہبود کا نظام)یہ اعتراض معیشت کے بنیادی اصولوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ قربانی معیشت کو تباہ نہیں کرتی، بلکہ اسے ایک زبردست تحرک دیتی ہے، *معاشی گردش* اگر قربانی کا پیسہ صرف غریبوں میں بانٹ دیا جائے، تو وہ رقم چند دنوں میں ختم ہو جائے گی اور غریب مستقل طور پر محتاج رہے گا، اس کے برعکس، قربانی کی وجہ سے ایک بہت بڑا معاشی پہیہ چلتا ہے، شہروں کا پیسہ دیہات کے غریب چرواہوں، کسانوں اور زمینداروں تک منتقل ہوتا ہے جو سال بھر جانور پالتے ہیں، اس سے لائیوسٹاک، چمڑے کی صنعت، ٹرانسپورٹ، اور چارے کے کاروبار سے جڑے لاکھوں غریب خاندانوں کا سال بھر کا روزگار وابستہ ہے۔
*پروٹین کی منصفانہ تقسیم* غریب طبقہ جو مہنگائی کی وجہ سے سال بھر گوشت خریدنے کی سکت نہیں رکھتا، قربانی کے تین دنوں میں اسے عزتِ نفس کے ساتھ وافر مقدار میں بہترین گوشت فراہم ہوتا ہے، اسلام نے قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے کا حکم دیا ہے (ایک اپنے لیے، ایک رشتہ داروں کے لیے اور ایک غریبوں کے لیے)، جو کہ دولت اور غذا کی تقسیم کا بہترین فارمولا ہے، *ماحولیاتی انتظام اور آبادی کا توازن* اگر ان حلال جانوروں (گائے، بھینس، بکری، اونٹ) کو ذبح نہ کیا جائے، تو ان کی آبادی اس قدر بڑھ جائے گی کہ زمین پر انسانوں کے لیے چارہ، پانی اور دیگر وسائل کم پڑ جائیں گے، جس سے خود ماحول کا توازن تباہ ہو جائے گا، رہی بات گندگی کی، تو وہ انتظامیہ اور شہریوں کی غفلت کا نتیجہ ہے، نہ کہ قربانی کے قانون کا، اسلام تو خود صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔
*سوال نمبر 4 مٹی کے برتن بنانے والے کی منطق کے تحت اللہ کو یہ حق کیسے حاصل ہے کہ وہ جانوروں کو ذبح کرنے کا حکم دے؟*
جواب (ملکیت کا عقلی اصول)
اسے ایک سادہ منطقی مثال سے سمجھیں، فرض کریں ایک مٹی کا برتن بنانے والا مٹی کے کچھ خوبصورت برتن بناتا ہے، وہ کچھ برتنوں کو پگھلا کر دوبارہ نئی شکل دے دیتا ہے یا انہیں توڑ کر کسی دوسرے کام میں لے آتا ہے، کیا دنیا کا کوئی عاقل شخص اس مٹی کے برتن بنانے والے پر اعتراض کرے گا کہ تم نے اپنا ہی بنایا ہوا برتن کیوں توڑا؟ بالکل نہیں، کیونکہ اس برتن پر کامل ملکیت اسی کی ہے، اس نے اسے عدم سے وجود بخشا ہے، اسی طرح، تمام جانوروں، انسانوں اور پوری کائنات کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے، اس نے جانوروں کو انسانوں کی خدمت، سواری اور غذا کے لیے ہی پیدا کیا ہے، جب اصل مالک کا حکم ہے کہ انہیں ایک خاص رحمدلانہ طریقے سے ذبح کر کے کھایا جائے اور اس کے بدلے غریبوں کی مدد کی جائے، تو کسی بھی مخلوق کو اپنے خالق کے اس فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی عقلی و قانونی حق نہیں پہنچتا۔
*سوال نمبر 5 ملحدین کی کلاسیفائیڈ رحم دلی کا کیا تضاد ہے؟ کیا ان کا یہ اعتراض صرف مسلمانوں کے خلاف ایک بغض ہے؟*
*ملحدین پر جوابی اعتراضات*
یہاں ملحدین کے اپنے ہی خود ساختہ فلسفوں کا دہرا معیار اور تضاد کھل کر سامنے آتا ہے *کلاسیفائیڈ رحم دلی کا تضاد* ملحدین سال کے 362 دن دنیا بھر کے میکڈونلڈز، کے ایف سی اور دیگر بڑے برانڈز کے چکن برگر، بیف سٹیکس اور مچھلیاں بڑے شوق سے اڑاتے ہیں، مغربی ممالک میں روزانہ لاکھوں جانور سلاٹر ہاؤسز میں بے دردی سے مارے جاتے ہیں، تب ان کی جانوروں سے محبت کو سانپ سونگھ جاتا ہے، لیکن جیسے ہی ذوالحجہ کا مہینہ آتا ہے اور مسلمان سنتِ ابراہیمی ادا کرتے ہیں، تو ان کی سودے بازی پر مبنی *رحم دلی* اچانک جاگ اٹھتی ہے، یہ واضح تضاد ثابت کرتا ہے کہ اعتراض جانوروں کے درد پر نہیں، بلکہ اسلامی شعائر پر ہے۔
*مادیت پسندی کا تضاد* الحاد کے نزدیک کائنات کا کوئی خدا نہیں اور سب کچھ محض مادہ اور ارتقاء کا نتیجہ ہے، الحاد کے مطابق انسان بھی ایک ترقی یافتہ جانور ہی ہے، اگر کائنات میں کوئی اخلاقی قانون بنانے والا خدا ہی نہیں، تو ملحدین کے نزدیک ظلم اور رحم کی تعریف کیا ہے؟ ایک خالص مادی کائنات میں اخلاقیات کا کوئی مابعد الطبیعاتی وجود نہیں ہوتا۔ وہاں صرف بقائے اصلح کا قانون ہوتا ہے، یعنی طاقتور کمزور کو کھا جائے، پھر ملحدین کس بنیاد پر قربانی کو اخلاقی طور پر غلط یا ظلم کہہ سکتے ہیں؟ ان کا اپنا فلسفہ انہیں کسی چیز کو اچھا یا برا کہنے کا حق ہی نہیں دیتا۔
*پودوں کی زندگی کا تضاد* جدید نباتیاتی سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ پودے بھی باقاعدہ جان رکھتے ہیں، ان کا اپنا اعصابی نظام ہوتا ہے، وہ درد محسوس کرتے ہیں اور آپس میں کیمیائی سگنلز کے ذریعے بات چیت بھی کرتے ہیں، اگر کسی جاندار کو مارنا ہی مطلقاً ظلم ہے، تو ملحدین سبزیاں، پھل اور دالیں کیوں کھاتے ہیں؟ کیا پودوں کا قتل جائز ہے؟ اگر پودوں کو کھانا ظلم نہیں کیونکہ وہ انسان کی غذا ہیں، تو حلال جانوروں کو کھانا بھی ظلم نہیں کیونکہ وہ بھی انسان کی غذائی ضرورت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں،قربانی کا یہ فلسفہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام ایک متوازن، فطری اور سائنسی مذہب ہے جو جذباتیت کے بجائے ٹھوس حقائق پر مبنی نظامِ زندگی پیش کرتا ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*