مضامین نگار کے لیے ایک پیشکش۔۔۔۔۔۔ بذریعہ اقتباس
24 مئی، 2026
عزیز مضامین نگار!
ہماری کی ایک دلی خواہش ہوتی ہے کہ ہم ایک بہترین مضمون لکھ کر قلم کی خدمت کریں اور ایک اچھے مضمون نگار بنیں ، کتب بینی کے دوران چند نکات پر نظر پڑی، خیال آیا کہ ان نکات کو آپ کے تک بھی پہونچایا جاۓ، ان نکات کے ذریعے ہم اور آپ دونوں فائدہ اٹھائیں گے، قلم کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔۔
ذیل میں اقتباس رقم کرتے ہیں
ملاحظہ فرمائیں:-
”مضمون نویسی
اپنے خیالات، جذبات محسوسات اور مشاہدات کو صاف، شستہ اور مؤثر زبان میں ادا کرنے کا نام " مضمون نویسی" ہے۔ مضمون نویسی کے لیے چار چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں
(۱) خیالات
کسی مضمون میں خیالات جس قدر بلند اور وسیع ہوں گے، اسی قدر وہ مضمون دلکش ہوگا۔ خیالات کی بلندی اور عمدگی کے لیے مطالعہ کی وسعت اور مشاہدہ کی گہرائی ضروری ہے ۔
(۲) طرز بیان
ایسے ہی اگر انسان کے پاس عمدہ سے عمدہ خیالات موجود ہوں مگر ان کو پیش کرنے کے لیے دو مناسب طرز بیان اختیار نہ کرے تو اس کے عمدہ خیالات کی وقعت اور قدر و قیمت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ مضمون کا معنوی حسن بلند خیالات اور ظاہری حسن طر ز بیان کا مرہون منت ہے۔
(۳) ترتیب
اگر مضمون نگار اپنی معلومات کو ضروری ترتیب کے ساتھ قرطاس پر منتقل نہ کرے تو اس سے قارئین صحیح معنوں میں مستفید نہیں ہو سکتے ۔ ربط ، ترتیب اور تسلسل کے بغیر جو کچھ بھی لکھا جائے گا۔ اس کی حیثیت لفظوں کے ایک ڈھیر کے سوا کچھ نہ ہوگی۔
(٤) صحت زبان:
ان ساری باتوں کے ساتھ ساتھ صحت زبان کا خیال رکھنا بھی از بس ضروری ہے۔ یعنی جو کچھ لکھا جائے املا لخت محاورہ زبان اور قواعد کے لحاظ سے پوری طرح درست ہو۔“
(اقتباس: لکھنا سیکھیے از مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صفحہ ١٩٩)