وہ آخری سانس
23 مئی، 2026
*✍🏻 بنتِ انور
*دنیا جہاں کا سب سے بڑا سچ "موت" ہے، مگر ہم اسے اس طرح نظر انداز کرتے ہیں جیسے یہ کسی اور کو آنی ہو۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کی ساری فرعونیت، انا اور تکبر مٹی میں مل جاتے ہیں، اور ایک پل میں شہنشاہ کو بھی بے بس و لاچار بنا دیتا ہے۔*
*اے کاش! ہم اس حقیقت کو سمجھ لیتے اور سنبھل جاتے۔*
*موت اتنی آسان نہیں کہ دنیا کے مصائب سے تنگ آ کر اس کی دعا کی جائے، نہ ہی اتنی آسان کہ اسے خوشی خوشی گلے لگا لیا جائے، اور نہ ہی ہر کوئی اس کی سختی کو برداشت کر سکتا ہے۔*
*موت کے بارے میں، اس اکھڑتی ہوئی سانس کے بارے میں سوچنا تو درکنار، اس کا خیال بھی انسان کے وجود کو ہلا دیتا ہے۔ ہر دل اس کی وحشت اور تکلیف کا تصور کر کے دہل جاتا ہے، اور اس وقت دنیا کی رنگینیاں بھی کوئی خوشی نہیں دیتیں۔*
*آئیے! خود کو اس نزع کے عالم میں لے جا کر دیکھتے ہیں...*
*جب ہم ملک الموت کو دیکھیں گے، عقل ششدر رہ جائے گی، آنکھیں خیرہ ہو جائیں گی، اور بے بسی کے عالم میں ہم کہیں گے: "اے رب! بس پانچ منٹ کی مہلت دے دے، بخدا! میں وہ سب کچھ کر لوں گا جو پوری زندگی نہ کر سکا..." لیکن اس وقت نہ رونے کا فائدہ ہوگا، نہ گڑگڑانے کا، اور نہ ہی توبہ کا دروازہ کھلا ہوگا۔*
*اللہ تعالیٰ نے اسی کیفیت کو سورۂ منافقون میں یوں بیان فرمایا ہے:*
`"فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَآ أَخَّرْتَنِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّالِحِينَ"`
*"پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں صدقہ کر لیتا اور نیک لوگوں میں شامل ہو جاتا۔"*
`مرحلۂ ثانیہ:`
*اب روح کو جسم سے جدا کیا جائے گا۔ ذرا غور کیجیے! ہم اس مرحلے کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ایک دانت نکالا جائے تو انسان تکلیف سے کراہ اٹھتا ہے، تو جب پوری روح جسم سے نکالی جائے گی تو کیا کیفیت ہوگی؟*
*اللہ اکبر!*
*انسان بالکل بے بس ہو چکا ہوگا—نہ بھاگ سکتا ہے، نہ فرشتوں کو روک سکتا ہے۔ اللہ کا حکم نافذ ہو چکا ہوگا، اور اب نافرمانی کا کوئی اختیار باقی نہیں رہے گا۔*
*جیسے ہی آخری سانس نکلے گی، انسان کے ہاتھ سے مال و دولت، عزت و شہرت، گھر اور خاندان—سب کچھ چھن جائے گا۔ جس دنیا کے لیے ساری زندگی بھاگ دوڑ کی، آج اسی کو الوداع کہنا ہوگا۔*
*پھر وفات کے بعد، روح کو ثواب یا عذاب کے لیے تیار کیا جائے گا۔ غسل دیا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا، اور ایک تاریک قبر میں اتار دیا جائے گا۔*
*وہی قبر یا تو جنت کا باغ بنے گی یا جہنم کا گڑھا۔*
*اگر خوش نصیبی ہوئی تو قبر کشادہ ہو جائے گی، ٹھنڈی اور پرسکون ہوائیں چلیں گی، جنت کی نعمتوں کی جھلک دکھائی جائے گی، اور انسان ہر غم بھول جائے گا۔*
*اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا—نعوذ باللہ—*
*تو قبر تنگ کر دی جائے گی، یہاں تک کہ پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی۔ اندھیرا، خوف، سانپ، بچھو، اور ہر صبح و شام جہنم کا منظر دکھا کر حسرت بڑھائی جائے گی۔*
*اللہ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے...*
*بس! اللہ کی پناہ...*
*اے اللہ! ہم پر اپنی رحمتوں کی نظر فرما، ہماری مغفرت فرما دے، اور ہمیں معاف کر دے۔ اے اللہ! ہم نالائق بندوں کو اپنی رحمت سے محروم نہ فرما۔*
*آمین یا رب العالمین۔*
*میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ اس تحریر میں ایسی تاثیر پیدا فرما دے کہ یہ میرے لیے اور تمام پڑھنے والوں کے لیے نفع بخش بن جائے۔*
*آمین یا ربّی۔*