قربانی کے احکام
قربانی کی گھڑیاں جلد ہی منصۂ شہود پر آنے والی ہیں یہ قربانی سنت ابراہیمی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سنت کو خود بھی انجام دیا اور اپنی امت کو اسکی ترغیب نہ کرنے پر ترہیب سے روشناس کرایا ہے اسی وجہ سے اس سنت ابراہیمی کو چار چاند لگ گئے ہیں چناں چہ دور مصطفی سے آج تک مسلمانوں نے نہ اس سے بے توجہی برتی ۔اور نہ ہی پس پشت ڈالا ،اور امت کے علماء نے نہ یہ کہہ کر اسکی عظمت کا بٹہ لگایا ہے کہ مالداروں کے لیے ترک قربانی گنجائش ہے ۔بلکہ فقہاء ومحدثین حدیث و فقہ کی کتابوں میں کتاب الاضحیہ کے نام سے باب باندھا ھے ۔پوری شرح وبسط کے ساتھ مسائل اجاگر کیے ہیں قربانی کے متعلق کسی بحث کو تشنہ بلب نہیں چھوڑا ہے مکمل تسلی بخش گفتگو کی ہر پہلو کو نمایاں کیا ہے تاکہ قربانی سے متعلق کوئی حکم چھوٹ نہ جائے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کے معیار پر نہ اتر سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قربانی کے احکام
قربانی کا وجوب ۔
جتنے مال پر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے اگر اتنا مال ہے تو اس پر قربانی واجب ہے ۔۔۔اسکو اپنی جانب سے قربانی کرنا واجب ہے
اگر اتنا مال نہیں غریب ہے البتہ اس نے قربانی کی نیت سے بکرا خریدا ہے تو اس بکرے کی قربانی واجب ہے یہ صاحب قربانی اپنی طرف سے یا کسی میت کی جانب سے کرے
قربانی کا وقت
قربانی کے ایام 3 دن ہیں ۔۔10/11/12/پہلے دن قربانی زیادہ بہتر ہے پھر دوسرے دن ،پھر تیسرے دن ۔۔۔
ان ایام میں شب وروز میں کسی بھی وقت قربانی کرنا جائز ہے —--
شہر اور قصبے والے دس تاریخ کو عید کی نماز کے بعد قربانی کرنا درست ہے اور دیہات والے عید سے پہلے قربانی کرسکتے ہیں