*رشتے ہوگئے مطلب کے تو وفاداری کہاں سے آئے؟* 

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
______________________________
آج کے زمانہ کا انسان عجیب دوراہے پر کھڑا ہے ہر طرف دولت کی دوڑ لگی ہوئی ہے ہر شخص زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے میں مصروف ہے۔ رشتوں کی اہمیت بہت کم ہوتی جارہی ہے اور مادی چیزوں کی قدر بڑھتی جارہی ہے انسان نے دولت کو زندگی کا مقصد تو بنا لیا مگر محبت اخلاص ہمدردی اور خلوص جیسی عظیم نعمتوں کو پس پشت ڈال دیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج دلوں میں دوریاں بڑھ رہی ہیں گھروں سے سکون ختم ہورہا ہے اور تعلقات صرف مطلب تک ہی محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔
پہلے زمانے میں لوگ کم وسائل کے باوجود ایک دوسرے سے بےحد محبت کرتے تھے رشتوں میں خلوص ہوتا تھا پڑوسی ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے خاندان کے افراد ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے تھے مگر آج انسان نے پیسے کو سب کچھ سمجھ لیا ہے اب دوستی دولت دیکھ کر کی جاتی ہے رشتہ حیثیت دیکھ کر جوڑا جاتا ہے اور عزت بھی اکثر مالداری کے ترازو میں تولی جاتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ دولت کی محبت نے انسان کو خود غرض بنا دیا ہے لوگ اپنے مفاد کیلئے دوسروں کے جذبات کو پامال کرنے لگے ہیں بھائی بھائی سے جدا ہورہا ہے اولاد والدین سے دور ہورہی ہے اور محبت صرف لفظوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے حالانکہ پیسہ زندگی کی ضرورت تو ضرور ہے مگر زندگی کا سکون اور اصل خوشی محبت اخلاص اور اچھے اخلاق میں ہے۔
اسلام نے ہمیشہ اعتدال کی تعلیم دی ہے رزق حلال کمانا عبادت ہے مگر دولت کو دل میں بسانا اور رشتوں پر ترجیح دینا تباہی و بربادی کا سبب ہے ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے محبت بھائی چارہ صلہ رحمی اور انسانیت کی خدمت کو ایمان کی علامت قرار دیا اگر انسان صرف مال جمع کرنے میں لگ جائے اور دوسروں کے حقوق بھول جائے تو پھر دلوں میں محبت کیسے باقی رہے گی؟
آج ہم سب کو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو دولت کی اندھی محبت سے پاک کریں رشتوں کی جیتے جی قدر کریں اپنے والدین بھائی بہنوں دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ محبت اور خیرخواہی کا معاملہ کریں کیونکہ پیسہ وقتی آسائش دے سکتا ہے وقتی سکون دے سکتا ہے مگر حقیقی سکون صرف محبت اخلاص اور اچھے تعلقات سے حاصل ہوتا ہے۔
یاد رکھیں جس معاشرے میں انسان پیسے کے ہوجائیں وہاں محبتیں دم توڑنے لگتی ہیں اور جہاں دلوں میں اخلاص زندہ ہو وہاں غربت میں بھی سکون اور خوشیاں ہوا کرتی ہیں۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین یارب العالمین ۔