*لالچ ایک بری بلا ہے* 

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
 لالچ بری بلا ہے یہ کہاوت تو آپ نے بھی بارہا سنی ہوگی لیکن حقیقت میں اس پر عمل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ 
آج کے دور میں جلد دولت مند بننے کی خواہش نے انسان کو اندھا سا کردیا ہے۔ ہر شخص کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہی خواہش بعض اوقات اسے ایسے راستوں پر لے جاتی ہے جہاں نقصان پریشانی اور پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ دھوکے باز لوگ بھی انسانی کمزوریوں کو خوب سمجھتے ہیں اسی لیے وہ بڑے بڑے منافع دلکش منصوبوں اور چمکدار نعروں کے ذریعے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب انسان کے سامنے زیادہ فائدے اور جلد امیر بننے کا لالچ رکھا جاتا ہے تو بڑے بڑے عقل مند اور سمجھ دار لوگ بھی دھوکا کھا جاتے ہیں۔ 
اس معاملے میں لالچ کی وجہ سے نہ صرف عام لوگ بلکہ کئی دیندار اور اہلِ علم حضرات بھی متاثر ہوتے ہیں بڑے بڑے دعوے اور خوش نما وعدے سب بے حقیقت ثابت ہوئے۔ لوگوں کو سنہرے خواب دکھاتے ہیں مگر آخر میں وہ سب دھوکا اور فریبی نکلتا ہے ۔
افسوسناک بات ہے کی انسان جب لالچ میں آجاتا ہے تو وہ نہ صحیح مشورہ لیتا ہے نہ انجام پر غور کرتا ہے اور نہ ہی حقیقت جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ بس چند لوگوں کی ظاہری کامیابی دیکھ کر اپنی پوری جمع پونجی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ بعد میں جب حقیقت سامنے آتی ہے تو ہاتھ ملنے اور افسوس کرنے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ ان تلخ تجربات کے باوجود کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اب نئے ناموں اور نئی شکلوں میں پھر اسی قسم کے کاروبار سامنے آ رہے ہیں۔ بھاری منافع اور غیر معمولی فائدے کا لالچ دے کر لوگوں کو دوبارہ پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 
ایسے حالات میں ہماری مخلصانہ گزارش یہی ہے کہ لالچ سے خود کو بچایا جائے کیونکہ لالچ انسان کو تباہی کے راستے پر لے جاتی ہے۔ اپنی محنت کی کمائی اور جمع شدہ سرمایہ ایسے لوگوں کے حوالے ہرگز نہ کریں جو بڑے بڑے نفع اور رنگین خواب دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس کے بجائے محنت دیانت صبر اور کفایت شعاری کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں تاکہ مستقبل میں کسی بڑی آزمائش اور نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔
یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پرانا شکاری اکثر نئے انداز اور نئے جال کے ساتھ واپس آتا ہے تاکہ دوبارہ لوگوں کو اپنے فریب میں مبتلا کرسکے۔ اس لیے ہر شخص کو بیدار محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ کسی بھی کاروبار یا سرمایہ کاری میں قدم رکھنے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کرے اہلِ علم اور تجربہ کار لوگوں سے مشورہ لے اور صرف چمکدار نعروں اور وقتی فائدے کو دیکھ کر فیصلہ نہ کرے۔ یہی احتیاط انسان کو بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ہر قسم کے دھوکے اور فریب سے محفوظ رکھے آمین یارب العالمین۔