"اب میں ابو کس کو بلاؤں گی؟

یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایک بیٹی کے ٹوٹتے ہوۓ دل کی صدا تھی۔

گھر بہت سے افراد سے بھرا ہوا تھا، ہر طرف آہستہ آہستہ سسکیاں گونج رہی تھیں، کوئی دلاسہ دے رہا تھا، کوئی دعاء کر رہا تھا، کوئی خاموش کھڑا آنکھیں پوچھ رہا تھا...
مگر اس ہجوم کے درمیان
ایک بیٹی ایسی بھی تھی جس کی دنیا اس لمحے بالکل ویران ہو چکی تھی،  کیونکہ اس کا باپ اس سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہو چکا تھا۔
اس لمحے مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ موت صرف ایک انسان کو نہیں لے جاتی، وہ کسی کی پوری دنیا اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔
وہ بیٹی خاموش کھڑی تھی…
کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ دنیا اب اس کو ویسے ٹریٹ نہیں کرے گی جس طرح اس کے باپ کی موجودگی میں کرتی تھی۔
آنکھوں سے آنسو رواں تھے مگر شاید دل ابھی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ جس شخص نے اُسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، آج وہ ہمیشہ کیلئے اُس کا ہاتھ چھوڑ گیا ہے۔
جو شخص ہر مشکل میں اُس کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا تھا، آج وہ خود بےحس و ۔بے حرکت پڑا ہے، وہ کیسے یقین کر لیتی کہ آج اسکا باپ ڈھے گیا
جیسے ابھی وہ آنکھیں کھول دیں گے اور ہمیشہ کی طرح اُسے اپنے قریب بلا لیں گے۔

مگر اس بار ایسا نہیں ہونا تھا، اس بار خاموشی بہت گہری تھی… ایسی خاموشی، جو انسان کے اندر تک اتر جائے۔
اس کی آنکھوں میں عجیب سی بے بسی جھلک رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے اُس کے ذہن میں ایک ایک منظر زندہ ہو رہا ہو۔
بچپن میں ابو کی انگلی پکڑ کر چلنا
بازار جاتے ہوئے اُن کے کندھوں پر بیٹھنا…
بیمار ہونے پر ساری رات اُن کا جاگتے رہنا
ہر ضد پوری کرنا…
ہر خوف سے بچانا
اور ہر مشکل میں وہ ایک جملہ فکر مت کرو میں ہوں نا

مگر اب اچانک…

وہی آواز اب ہمیشہ کیلئے خاموش ہو چکی تھی۔

پھر وہ اچانک بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، جو آنسو ابھی تک ضبط کیے ہوئے تھی اب شاید دل انہیں مزید روکنے کی ہمت کھو چکا تھا۔

"اب میں ابو کس کو بلاؤں گی؟"

یہ الفاظ صرف اُس کے ہونٹوں سے نہیں نکلے تھے، یہ اُس کے ٹوٹے ہوئے دل کی آواز تھی۔
ایسا لگا جیسے اُس ایک جملے نے وہاں موجود ہر انسان کے دل کو چیر دیا ہو۔ اُس لمحے سب نے محسوس کیا کہ باپ صرف ایک رشتہ نہیں ہوتا…
وہ بیٹی کی پوری دنیا ہوتا ہے۔

آج ایک بیٹی صرف یتیم نہیں ہوئی تھی …
آج اُس کے سر سے وہ سایہ اٹھ گیا تھا، جس کے ہوتے ہوئے دنیا کی ہر تکلیف چھوٹی لگتی تھی۔ باپ واقعی گھر کی وہ چھت ہوتا ہے جس کے نیچے اولاد خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے۔
آج ایک باپ دنیا سے گیا تھا مگر اس کے ساتھ اس کی بیٹی کی بے فکری، اس کی ہنسی، اس کی سب سے بڑی طاقت اور اس کا سکون بھی کہیں دفن ہو گیا تھا۔

آج میں نے ایک باپ کو اس کی بیٹی سے بچھڑتے دیکھا اور شاید پہلی بار محسوس کیا کہ باپ کا جانا صرف ایک انسان کا دنیا سے چلے جانا نہیں ہوتا بلکہ ایک پوری دنیا کا اجڑ جانا ہوتا ہے۔ اس منظر نے میرے دل کے کسی نرم حصے کو خاموشی سے توڑ دیا۔

اور اس کے وہ جملے ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔

"میں ابو کس کو بلاؤں گی؟"