خوابوں کے سہارے خلافت کے دعوے — ایک خطرناک فتنہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (106)
امتِ مسلمہ اس وقت جن فتنوں، آزمائشوں اور فکری انتشار سے گزر رہی ہے، ان میں ایک نہایت خطرناک فتنہ وہ ہے جو دین، روحانیت اور خوابوں کے پردے میں عوام کے عقائد و جذبات سے کھیلنے کی کوشش کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص چند دعوے، چند جذباتی باتیں اور چند مبالغہ آمیز قصے سنا کر لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ بہت کم لوگ ایسے دعوؤں کو قرآن و سنت اور اہلِ علم کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔حال ہی میں دہلی سے تعلق رکھنے والے شخص عبد الرشید کے متعلق یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے خواب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے بشارت دی گئی ہے کہ اب وہ “خلیفۃ المسلمین” ہے، اور جو اسے نہ مانے وہ کافر ہے۔ مزید یہ کہ اس کے بیانات میں عجیب و غریب دعوے، غیر محتاط الفاظ اور ایسے نظریات سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔یہ امر بھی بیان کیا جا رہا ہے کہ اس کے ماننے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ عبد الرشید کے جبّے اور سیاہ پگڑی اس کی پہچان بن چکی ہیں۔ مزید افسوس کی بات یہ کہ وہ پہلے تبلیغی جماعت کے ایک علاقائی امیر کے طور پر وابستہ رہا، مگر اب اس نے ایک نئی فکری راہ اختیار کر لی ہے جس کے باعث ایک الگ فرقہ بننے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔یہ صورتحال محض ایک فرد کے دعوے تک محدود نہیں، بلکہ یہ امت کے اتحاد، عوام کے عقائد اور دینی شعور کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی علامت بن سکتی ہے۔ کیونکہ اسلام میں خواب کسی فرد کے لیے ذاتی بشارت تو ہو سکتے ہیں، مگر پوری امت پر حجت نہیں۔ نہ خلافت خوابوں سے ثابت ہوتی ہے، نہ ایمان و کفر کے فیصلے کسی شخص کے ذاتی دعوؤں پر کیے جا سکتے ہیں۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج بہت سے لوگ علم و تحقیق کے بجائے جذبات، نعروں اور شخصیت پرستی کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ جب کوئی شخص مذہبی لباس، روحانی انداز یا جذباتی گفتگو کے ذریعے عوام کو متاثر کرتا ہے تو بعض سادہ لوح لوگ فوراً اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں، اور یہی آندھی وابستگی بعد میں بڑے فتنوں کو جنم دیتی ہے۔
تاریخِ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ امت میں جب بھی کسی نے دین کے نام پر غیر معمولی دعوے کیے، اور عوام نے بغیر تحقیق ان کی پیروی شروع کی، تو نتیجہ ہمیشہ انتشار، گمراہی اور فرقہ بندی کی صورت میں نکلا۔ اسی لیے ہمارے اکابر علماء ہمیشہ یہ نصیحت کرتے آئے ہیں کہ دین کو اشخاص کے بجائے قرآن، سنت اور معتبر اہلِ علم سے سمجھا جائے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ علماءِ کرام، دینی ادارے اور باشعور مسلمان ایسے معاملات پر خاموش تماشائی نہ بنیں، بلکہ حکمت، علم اور سنجیدگی کے ساتھ عوام کی رہنمائی کریں تاکہ امت مزید کسی فکری انتشار کا شکار نہ ہو۔ خصوصاً نوجوان نسل کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ہر دعویٰ سچ نہیں ہوتا، ہر خواب دلیل نہیں ہوتا، اور ہر نعرہ حق کی نمائندگی نہیں کرتا۔فتنے ہمیشہ کھلے کفر کے لباس میں نہیں آتے،کبھی وہ خوابوں، کشف، روحانیت اور مقدس نعروں کا لبادہ اوڑھ کر بھی سامنے آتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں امت کو سب سے زیادہ بصیرت، احتیاط اور علمی بیداری کی ضرورت پڑتی ہے۔
عبد الرشید جیسے دعووں کے حوالے سے ضروری ہے کہ جذبات کے بجائے علم کو معیار بنایا جائے، اور ہر بات کو قرآن و سنت، جمہور اہلِ علم اور امت کے متفقہ عقائد کی روشنی میں پرکھا جائے۔ ایسے فتنہ انگیز دعوے اگر بروقت نہ روکے جائیں تو وہ عوام کے عقائد، امت کے اتحاد اور دینی امن کے لیے خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
لہٰذا علماءِ کرام، دینی اداروں اور متعلقہ ذمہ داران پر لازم ہے کہ حکمت، بصیرت اور سنجیدگی کے ساتھ فوری طور پر ایسے گمراہ کن نظریات پر قدغن لگائیں، تاکہ سادہ لوح مسلمان فکری انتشار، شخصیت پرستی اور باطل دعوؤں کے جال میں پھنسنے سے محفوظ رہ سکیں۔
شعر
خواب کے زور پہ جب دین سنبھالا جائے گا
پھر تو مؤمن نہیں، گمراہ بنایا جائے گا
حق وہی ہے جو ہو قرآن و سنّت کے قریب
ورنہ ہر جھوٹا دعویٰ ہی مٹایا جائے گا
اہلِ دانش کو ابھی وقت ہے بیدار ہوں سب
ورنہ ہر ذہن عقیدت میں بہکایا جائے گا
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com