اس وقت جو کفر و اسلام اور حق و باطل کے درمیان نظریاتی کش مکش اور فکری معرکہ سرگرم ہے،باطل کے پاس اس کا سب سے بڑا اور مضبوط ہتھیار حق کی بنیاد کو متزلزل کرنا ہے؛ تاکہ اس پر قائم عمارت از خودز میں بوس ہوجائے ، یہی وجہ ہے کہ باطل نظریات کے حاملین نے باضابطہ تنظیم اور پارٹی کی شکل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ‌کو عیب دار اور طعن و تشنیع‌ سےداغ دار کر کے برسر عام لانے کی بارہا کوشش کی ، وہ حیاتِ مبارکہ جس کی عفت و عصمت اور حیا و پاک دامنی کی گواہی خود معاندین ِ حق اور مخالفینِ اسلام نے دی ہے، کیا اس پر کوئی صاحبِ عقل و فہم حرف گیری اور نکتہ چینی کر سکتا ہے؟ مگر کیا کیجیے تعصب، بغض، عناد اور حسد و حقد کا ! جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ سعید کے بارے میں اعتراضاتِ واہیہ اور شبہات رکیکہ کرنے پر برانگیختہ کر دیا ، اور مستشرقین جیسے نام نہاد طبقے نے آپ کی کثرتِ نکاح اور تعددِازدواج کو لے کر پرو پیگنڈہ کرنا شروع کردیا ، اور آپ کو عیش پسند اور ہوس پرست قرار دینے کی مذموم کوشش کی ؛ لیکن ہر وہ شخص جو سیرتِ مبارکہ سے ادنی بھی واقفیت رکھتا ہو، وہ بہ خوبی ان اعتراضات کی حقیقت کا اندازہ لگا سکتا ہے، کہ جس ذات کی معیشت کا یہ حال ہو کہ اس نے اپنی ساری زندگی میں جو کی روٹی پیٹ بھر نہ کھائی ہو، اور بسا اوقات بھوک کی شدت کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھنے کی نوبت آئی ہو، جس ہستی کی آسائشِ لیل و نہار کا یہ عالم ہو کہ اکثر اوقات ایک قمیص، ایک تہہ بند اور عمامہ سے زائد کوئی کپڑا پاس نہ ہو، جس کے بسترِ راحت کی کل کائنات چمڑے کا ایک گدا اور ایک تکیہ ہو، جس میں کھجور کی چھال کوٹ کر بھری ہوئی ہو، جس ذات نے ایسے حجرے میں زندگی بسر کی ہو ، جس میں اکثر اوقات چراغ بھی میسر نہ ہو، جس کا صحن فقیر کی جھونپڑی کے صحن سے زیادہ کشادہ نہ ہو، اس پر مستزاد یہ کہ یہ سب کچھ اس وقت ہو، جب کہ وہ چاہے تو اپنے لیے سونے اور چاندی کا محل تیار کراسکتا ہے، اور خدم و حشم کے جلو میں زندگی بسر کر سکتا ہے؛ مگر وہ یہ کہہ کر لات مار دیتا ہے کہ” میری تمنا ہے کہ ایک وقت بھوکا رہوں اور صبر کی حقیقت معلوم کروں، اور ایک وقت کھاؤں اور نعمت شکر سے بہرہ ور ہوں“( ترمذی ، ج:٢ ص: ٦٠) جس ذات کے دن کے مشاغل کا یہ حال ہو کہ اکثر اوقات تبلیغِ اسلام، انسدادِ رسومِ جاہلیت، اصلاحِ امت، تیارئ جہاد اور پنج گانہ نماز میں گزر جاتا ہو ، جس کی رات کا مستقل مشغلہ شب بیداری اور تہجد گزاری ہو، جس ذات اقدس کے طولِ قیام کا یہ عالم ہو کہ پاؤں مبارک میں ورم آجاتا ہو، جس کے قیامِ لیل پر خالق کائنات بھی تعریف کے کلمات ارشاد فرماتے ہو، تو ایسی ہستی کی زندگی کو عیش پسند زندگی کہنا چاند پر خاک ڈالنا اور عدل و انصاف کا خون نہیں تو اور کیا ہے؟
          کیا جس نے اپنی جوانی اور شباب کا بہترین حصہ محض تجرد میں بسر کیا ہو ، اس کے بعد سب سے اول شریکِ حیات ایسی خاتون ہو جو دو مرتبہ بیوگی کی زندگی کاٹ چکی ہو، ان کے بعد بھی جتنی عورتیں آپ کے عقد میں آئیں، وہ سب کے سب بجز حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بیوہ اور صاحب اولاد ہوں ، یہ سب کچھ ایسی حالت میں ہو کہ ایک اشارہ پر بہتر سے بہتر حسین و جمیل کنواری لڑکیاں آپ کے عقد میں آنے کو فخر سمجھتی ہوں ، اور اہل خاندان بھی تمنائیں کرتی ہو ، کیا وہ واقعہ یاد نہیں کہ سردارانِ مکہ اپنی نو جوان دوشیزاؤں اور پرکشش حسیناؤں کو آپ کے قدموں میں نچھاور کرنے پر آمادہ ہو گئے ؛ تا کہ آپ تبلیغِ اسلام سے باز آجائیں ؛ لیکن وہ ذاتِ بابرکت دنیا کی زیب وزینت اور اس کے طمطراق کو کس طرح ایک جملہ کہہ کر ٹھوکر مار دیتی ہے کہ ”اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں آفتاب اور بائیں میں مہتاب بھی رکھ دیں تو میں اپنے مشن سے باز نہیں آؤں گا“(اصح السیر :١٠٨) تو کیا ایسے مقدس وجود کے متعلق بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے ان بیوہ اور بوڑھی عورتوں سے اس لیے عقد کیا تھا کہ وہ دنیا کی عیش پرستیوں میں مشغول رہے ؟ نہیں ، ہرگز نہیں ! اس کی تاریخ وسیرت کا ایک ایک حرف اور نقطہ اس بات کا انکار کرتا ہے ، اس کی معیشت اس کو جھٹلاتی ہے، اور اس کا ہر عمل اس کو رد کرتا ہے، پس اگر شپرہ روشنئ آفتاب پر چشمک کرے تو آفتاب کا کیا قصور؟ لہذا اگر جہالت کی تاریکی ہزار بار بھی علم کی روشنی کو ماند کرنا چاہے تو نہیں کر سکتی، اور تعصب وضلالت کی گھٹائیں اگر لاکھ مرتبہ بھی آفتاب صداقت پر پردہ ڈالیں تو نہیں ڈال سکتیں۔ "يريدون ليطفؤا نور الله بافواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون“
✍️: محمد شاہد گڈاوی