جب رہبر مفقود ہوں
میرا وہ نوجوان، جو کبھی جنگوں کی شان ہوا کرتا تھا،
آج وہ سکرین کے اگے بیٹھ کر،
اور کبھی طرب و خانہ میں،
اور کبھی مے خانے کی زینت بنا ہوا ہے۔
اور اگر وہ ان معاملات میں نہیں ہے، تو پھر وہ سیاسی ہتھکنڈوں کا شکار ہے۔
وہ جوان جو خود ایک مفکر و مدبر، گرم خون،
اگر رات مصلے پر تو دن گھوڑے کی پیٹھ پر،
صف اول کا نمازی،
مگر آج اس کی سوچ کا زاویہ نظر بدل گیا ہے۔
آج اس کی لگن کبھی خواتین پر جملے کسنے،
آوازیں لگانے، یا پھر نصیحت کرتے ہوئے ہوس پرست انداز اختیار کر کے جذبہ ہوس کی تسکین کرنا ہے۔
پھر میں سوچتا ہوں،
کہ نوجوان نسل کیا شکوہ؟
وہ بزرگ و دانا شخص،
جنہیں ہماری رہنمائی کرنی چاہیے تھی،
میں انہیں مفقود پاتا ہوں۔
میں تو ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں،
جنہوں نے نوجوان نسل کو سنبھالنا تھا۔
اے زعماء امت!
اے بزرگان ملت!
آپ تو ان کے لیے مشعلِ راہ تھے۔
کیا وہ آپ جیسوں کی رہنمائی میں آئیں؟
کیا وہ آپ کے نقشِ قدم پر چلیں؟
کیا کبھی آپ نے اپنی سوچ پر غور کیا؟
کیا آپ نے اپنے الفاظ کو پرکھا؟
خدارا امت پر رحم کیجیے۔
اگر آپ اسلام کی خدمت نہیں کر سکتے،
تو امت پر بوجھ مت بنیں، خاموشی اختیار کریں۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
من صمت نجا
الحدیث
طوفان احمری
طوفان احمری