بارش ہو رہی تھی اور محلے کے بچے خوشی سے اچھل کود کر رہے تھے۔ کوئی کاغذ کی کشتیاں چلا رہا تھا، کوئی پانی میں چھپ چھپ کر رہا تھا۔ اتنے میں دو بچوں میں جھگڑا شروع ہوگیا۔ ایک بچہ مسلسل دوسرے پر پانی اچھال رہا تھا۔ دوسرا غصے میں آکر اسے دھکا دینے لگا۔
اسی وقت دادا جان وہاں آگئے۔ انہوں نے دونوں بچوں کو پاس بلایا اور مسکرا کر کہا:
“بیٹو! بارش اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ گرمی دور کرتی ہے، کھیتوں کو سیراب کرتی ہے اور ہر طرف تازگی پیدا کر دیتی ہے۔ لیکن اگر یہی بارش حد سے بڑھ جائے تو سیلاب بن جاتی ہے اور تباہی مچا دیتی ہے۔”
پھر انہوں نے نرمی سے کہا:
“اسی طرح انسان کی ہر عادت اور ہر خوشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جو چیز اپنی حد سے تجاوز کر جائے، وہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، بری بن جاتی ہے۔ مذاق اگر حد سے بڑھ جائے تو لڑائی بن جاتا ہے، اور خوشی اگر قابو میں نہ رہے تو دوسروں کے لیے تکلیف بن جاتی ہے۔”
دادا جان کی بات سن کر دونوں بچوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے معافی مانگی اور پھر محبت سے کھیلنے لگے۔