ماں کے قدموں تلے جنت ہے — حقیقت یا
محاورہ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
مضمون (105)
بعض اوقات دینی جملوں کو ان کے اصل مفہوم کے بجائے صرف ظاہری الفاظ پرپرکھا جاتا ہے، اور یہی طرزِ فکر کئی اشکالات کو جنم دیتا ہے۔ انہی سوالات میں ایک سوال یہ بھی سامنے آیا:
"اگر ماں کے قدموں تلے جنت ہے تو جو ماں ایمان نہیں لاتی، کیا وہ اپنی جنت سمیت جہنم میں جائے گی؟"یہ سوال بظاہر سادہ محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ الفاظ کے ظاہری معنی اور حقیقی مراد کے فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اسلامی نصوص میں بہت سے ایسے جملے آتے ہیں جو تشبیہ، محاورہ، ترغیب اور بلاغت کے انداز میں کہے جاتے ہیں تاکہ بات دل پر اثر کرے اور انسان کسی نیکی کی اہمیت کو محسوس کرے۔"ماں کے قدموں تلے جنت ہے" یہ بھی ایک ایسا ہی بلیغ اور جامع اسلوب ہے جس کا مقصد ماں کی عظمت بیان کرنا ہے، نہ کہ یہ کہنا کہ جنت حقیقتاً ماں کے قدموں کے نیچے رکھی ہوئی ہے۔اگرچہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے" والی روایت سند کے اعتبار سے ضعیف قرار دی گئی ہے، لیکن اس کا مفہوم والدہ کی عظمت خدمت اور حسنِ سلوک کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ افسوس کہ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر اسی جملے کو مزاحیہ انداز میں پیش کرکے، دانستہ یا نادانستہ طور پر جنت جیسے مقدس تصور کو باتوں بات میں تمسخر کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اسی پس منظر میں امت کی فکری رہنمائی اور غلط فہمی کےازالےکےلیےاپنےمحدود علم کے مطابق چند معروضات قلم بند کی جا رہی ہیں. _سوال؟
کیا واقعی جنت ماں کے قدموں کے نیچے موجود ہے؟ جواب یہ ہے کہ نہیں۔ہرگز نہیں. اس جملے کا اصل مفہوم یہ ہے کہ:ماں کی خدمت، اطاعت، ادب اور حسنِ سلوک انسان کو جنت تک پہنچانے کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔اسلام نے ماں کے مقام کو جس عظمت سے بیان کیا ہے، شاید ہی کسی اور رشتے کو یہ درجہ عطا کیا گیا ہو۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"الجنة تحت أقدام الأمهات (مسند الشهاب/حدیث: 119) 
"جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔(یہ روایت محدثین کے نزدیک سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، تاہم اس کا مفہوم دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔)چنانچہ اسی مفہوم کو زیادہ مضبوط انداز میں صحیح حدیث واضح کرتی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا"یا رسول اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟"آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہاری ماں"اس نے دوبارہ پوچھا: پھر کون؟
آپ ﷺ نےفرمایا:"تمہاری ماں"تیسری بار پوچھا: پھر کون؟آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہاری ماں"
چوتھی بار فرمایا: "تمہارا باپ(صحیح بخاری: حدیث. 5971 (کتاب الادب، باب: بروالدین)صحیح مسلم: حدیث. 2548 (کتاب البر والصلۃ) 
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ ﷺ 
 نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے“(سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3106) 
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کی غیر معمولی تاکید کرتا ہے۔ قرآن بھی فرماتا ہے:
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا (سورۃ العنکبوت: 8)"ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی۔"سوال؟ __اگر یہ حقیقی معنی نہیں تو پھر ایسا کیوں کہا گیا؟
کیونکہ دنیا کی ہر زبان میں محاورہ، تشبیہ، استعارات اور مبالغہ کا استعمال ہوتا ہے تاکہ بات دل میں اتر جائے۔
مثلاً:(1) آپ کا سر آنکھوں پر"جب کوئی معزز مہمان آتا ہے تو کہا جاتا ہے:"آپ کا سر آنکھوں پر"تو کیا واقعی کسی کا سر اٹھا کر آنکھوں پر رکھا جاتا ہے؟
ہرگز نہیں۔یہ صرف عزت و احترام کا اظہار ہے۔
(2) میرا دل ٹوٹ گیا"
جب انسان شدید غم میں ہوتا ہے تو کہتا ہے:
"میرا دل ٹوٹ گیا"تو کیا دل حقیقتاً ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے؟ نہیں۔ یہ درد کی شدت بیان کرنے کا انداز ہے۔(3) فلاں شخص میری جان ہے"
کیا واقعی کوئی انسان دوسرے کی جان بن جاتا ہے؟ نہیں۔ یہ محبت کے اظہار کا انداز ہے۔
(4) اس نے میرے پیروں تلے زمین نکال دی"کیا زمین واقعی غائب ہوگئی؟ نہیں۔یہ حیرت اور صدمے کی کیفیت بیان کرنے کا انداز ہے۔
(5) دنیا اس کے قدم چومتی ہے" کیا واقعی پوری دنیا قدم چومتی ہے؟ نہیں۔ یہ عزت اور مقام کی طرف اشارہ ہے۔
بالکل اسی طرح:"ماں کے قدموں تلے جنت ہے"
کا مطلب یہ ہے کہ:اگر تم جنت چاہتے ہو تو اپنی ماں کی خدمت کرو۔
سوال؟ __کیا غیر مسلم ماں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک ضروری ہے؟جی ہاں۔
قرآن واضح کہتا ہے:
وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي... فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا(سورۃ لقمان: 15)
اگر والدین غیر مسلم ہوں اولاد کو شرک پر آمادہ کریں تب بھی اسلام بدتمیزی، قطع تعلقی اور نفرت کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ عقیدے میں عدمِ اطاعت کے ساتھ اخلاق میں حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ ماں، ماں ہوتی ہےخواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو۔ اسلام ہر ماں کی عزت، خدمت اور احترام کی تعلیم دیتا ہے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بھرپور ترغیب دیتا ہے۔ یہی اسلام کے اخلاقی حسن، عدل اور اعلیٰ انسانی اقدار کا روشن مظہر ہے۔
سوال __پھر جنت کا اصل معیار کیا ہے؟
قرآن فرماتا ہے:
وٌ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ. "بے شک جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے..."یہی جنت کے اصل مستحق ہیں۔
(سورۃ البقرہ: 82)
یعنی:
ماں کی خدمت ایک عظیم نیکی ہے 
لیکن آخری فیصلہ ؛ ایمان؛ اعمال؛ اللہ کی رحمت سے ہوگی 
لہٰذا؛ اگر ہر جملے کو ظاہری معنی پر محمول کیا جائےجیسے_"دل ٹوٹ گیا""سر آنکھوں پر""جان نثار""خون جلانا" وغیرہ. یہ سب بے معنی ہوجائیں گے۔اسلام عقل کے خلاف نہیں بلکہ عقل کی درست رہنمائی کرتا ہے۔ماں کا مقام یقیناً بہت بلند ہے، مگر اس جملے کا مقصد عقیدہ بیان کرنا نہیں بلکہ اولاد کو ماں کی خدمت پر آمادہ کرنا ہے۔ یہ ایک بلیغ تشبیہ، ایک مؤثر محاورہ اور ایک عظیم اخلاقی پیغام ہے۔
اصل پیغام صرف اتنا ہے:
اگر تم جنت چاہتے ہو تو اپنی ماں کے قدموں کی خاک بن جاؤ۔
کیونکہ جو شخص ماں کی خدمت نہ کرسکا، وہ زندگی کی ایک عظیم سعادت سے محروم ہوسکتا ہے۔ شعر... 
لفظ کے خول میں ہر بات کو سمجھا نہ کرو
نورِ معنی کو یوں لفظوں میں کھویا نہ کرو
ماں کی عظمت ہے یہ اندازِ محبت سمجھو
ہر سخن کو فقط ظاہر سے پرکھا نہ کرو
اللہ تعالیٰ ہمیں والدین خصوصاً ماؤں کی قدر کرنے، ان کی خدمت کرنے اور دین کو صحیح فہم کے ساتھ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
بقلم محمودالباری 
mahmoodulbari342@gmail.com