بعد میں کر لوں گا…”
یہ ایک ایسا جملہ ہے جو بہت سے لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
ہم اکثر ہر اہم کام کو ٹالتے رہتے ہیں،
یہ سوچ کر کہ ابھی بہت وقت ہے، بعد میں کر لیں گے۔ مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ “بعد” آئے گا بھی یا نہیں…
یا ہمیشہ کے لیے “بعد” ہی رہ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🍁
عامر اور عادل دونوں میں بہت گہری دوستی تھی
ایک مرتبہ عامر کی اچانک طبیعت بہت خراب ہو گئی۔
اس کا دوست عادل فوراً اسے اسپتال لے گیا۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ عامر کو ایک خطرناک بیماری لاحق ہے،
اور اس کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ آئیں گے۔
عادل کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اپنے دوست کا علاج کرا سکتا۔
گھر والے بھی شدید پریشان تھے، کیونکہ عامر گھر کا اکلوتا بیٹا تھا۔
جوان تھا، اور پورے خاندان کی امیدیں اسی سے وابستہ تھیں کہ وہ کامیاب ہو کر گھر کے حالات بدل دے گا۔
مگر بیماری ایسی آئی کہ گھر بیچ دینے کے بعد بھی علاج ممکن نظر نہیں آ رہا تھا۔
اسی پریشانی اور کشمکش کے دوران ایک آدمی آیا۔
اس نے کہا:
“میں تمہارے علاج کا سارا خرچ اٹھاؤں گا… لیکن شرط یہ ہے کہ تم اپنا مذہب چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لو۔”
عامر یہ سن کر خاموش ہو گیا۔
اس نے اپنے دوست عادل سے مشورہ کیا۔
عادل نے کہا:
“میرے بھائی! ایمان سب سے قیمتی چیز ہے۔ دنیا کی ہر چیز دوبارہ مل سکتی ہے، مگر ایمان نہیں۔”
مگر عامر نے آہ بھرتے ہوئے کہا:
“یار… اگر زندہ رہنا ہے تو شاید یہ کرنا پڑے گا، ورنہ موت کو گلے لگانا ہوگا۔”
پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے کہا:
“ایک کام کرتے ہیں…
میں ابھی ان کی بات مان لیتا ہوں۔
جیسے ہی میرا آپریشن ہو جائے گا، تم فوراً
آجانا اور مجھے دوبارہ کلمہ پڑھا دینا
عادل خاموش ہو گیا۔
حالات نے دونوں کو بے بس کر دیا تھا۔
آخرکار عامر کو آپریشن تھیٹر لے جایا گیا۔
عادل کچھ دیر آرام کرنے کے لیے گھر آ گیا۔
تھکن سے چور تھا۔ اچانک اس کی نظر ٹی وی اسکرین پر چلتی ہوئی ایک خبر پر پڑی۔
یہ اسی اسپتال کی خبر تھی جہاں عامر داخل تھا۔
نیوز رپورٹر چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:
“اسپتال میں اچانک آگ لگنے کے باعث تمام مریض جاں بحق ہو گئے…”
یہ سنتے ہی عادل کے ہاتھ کانپنے لگے، آنکھیں پتھرا گئیں، اور وہ سکتے میں آ گیا۔
اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جملہ گونج رہا تھا
“میں بعد میں کلمہ پڑھ لوں گا "
زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں
کیونکہ بعض اوقات “بعد” کبھی نہیں آتا۔
عائشہ 🍁