توبہ کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں ۔


✍🏻ازقلم محمد عادل ارریاوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


قارئین کرام! انسان خطار اور نسیان سے مرکب ہے ۔کوئی انسان یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی ،کسی قسم کے گناہ کا صدور نہیں ہو سکتا ۔انبیائے کرائم کے سوا کوئی انسان معصوم نہیں ۔غلطیاں اور چوک و گناہ ہر ایک سے ہو سکتے ہیں ،ہو جاتے ہیں ۔

گناہ ہو جانا حیرت انگیز نہیں لیکن گناہوں پر اصرار اور گنا ہوں پر اڑے رہنا حیرت انگیز بھی ہے اور بہت بڑی معصیت بھی۔ انسان سے جوں ہی کوئی گناہ ہوجائے خواه جان بوجھ کر یا غفلت و لاپرواہی سے اس پر لازم ہے کہ فوراً نادم ہو ،توبہ و استغفار کرے اور اس گناہ کا ارتکاب نہ کرنے کا عہد کرے۔

اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی صدق دل سے معافی مانگنا اور آئندہ ان سے بچنے کا پختہ عزم کرنا توبہ کہلاتا ہے ۔ نفس و شیطان کے بہکاوے کے ساتھ ساتھ انسان میں نسیان کا عنصر بھی پایا جاتا ہے اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقے اور شریعت اسلامیہ کی پاکیزہ تعلیمات سے روگردانی کر بیٹھتا ہے۔ کبھی نفسانی خواہشات کبھی شیطانی وساوس کبھی برے ماحول کبھی جہالت اور لا علمی کی بنیاد پر بد عملی اس سے سرزد ہو جاتی ہے ۔ یہ وہ واقعاتی حقائق ہیں جن سے ہم سب کا اکثر اوقات واسطہ پڑتا رہتا ہے۔

افسوس کا مقام ہے بلکہ یوں کہیے کہ افسوس صد افسوس یہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں پرورش پارہے ہیں اس معاشرے میں علم دین اسلامی تہذیب و تمدن اخلاقیات و آداب اور احساس عبدیت و انسانیت ختم ہوتا جارہاہے ۔اس لیے معاشرے میں مسلسل بے سکونی بڑھتی چلی جارہی ہے ۔آج ہمارے گھروں اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں باہمی نفرتیں آپسی ناچاقیاں دوریاں اور لڑائی جھگڑے فسق و فجور بری عادات و اطوار اور فرنگی تہذیب و کلچر فروغ پا رہا ہے ۔ یہ ہم سب کا مشترکہ المیہ ہے جس کا رونا ہم روتے تو رہتے ہیں لیکن اس مصیبت سے عملاً جان چھڑانے کی کوشش نہیں کرتے۔

علم سے دوری بد عملی بد اخلاقی بدامنی بد تہذیبی جہالت اور معاشرتی جرائم کا پورا معاشرہ بحیثیت قوم مجرم بن چکا ہے ۔ ایسے حالات میں اپنے ماحول کو درست کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے باغی انسانیت کو پھر سے اللہ کے لطف وکرم فضل و احسان مہربانی اور رحمت کے قریب کرنے کی اشد ضرورت ہے اسے گناہوں کی دلدل سے نکال کر اطاعت و فرمانبرداری کی شاہراہ پر ڈالنا ہو گا جو شاہراہ سید ھی جنت جاتی ہے۔

اس کے لیے بنیادی طور جن اوصاف کی ضرورت ہے ان میں سے ایک وصف یہ ہے کہ برائی اور اس پر ندامت گناہ اور اس پر شرمندگی کا احساس دلوں میں زندہ ہو جائے ۔ یہی احساس انسان کو تو بہ پر آمادہ نیکی پر ابھارتا اور شریعت پر چلاتا ہے۔ اس کو باقی رکھنے کے لیے اپنی زندگی کا محاسبہ کرنا ہو گا کہ ہماری زندگی کس قدر شریعت کے مطابق اور کتنی شریعت کے مخالف گزر رہی ہے ؟

جب بندہ کوئی گناہ کرے پھر اس کا اعتراف کرتے ہوتے توبہ و استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور کسی بھی بندہ کے لئے یہ بہت ہی سعادت و نیک بختی ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار ہو۔

تو بہ کے بعد پھر وہی گناہ ہو جائے تو پھر تو بہ کرنا چاہے بار بار گناہ ہو جائے تو بار بار توبہ کرنا چاہئے اور کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہتے اور یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ توبہ کرتا ہوں پھر گناہ کر بیٹھتا ہوں اب بھلا اللہ تعالیٰ معاف کرے گا۔ ایسا سوچنا بےجا ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کفر تک پہنچا دیتی ہے ۔

لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ

اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو۔

اگر ہماری زندگی اس رخ پر چل رہی ہے جس پر اللہ اور اس کے رسول چاہتے ہیں تو مقام شکر ہے اور اگر خدانخواستہ ہماری زندگی شیطان کی مقرر کردہ پر خطر راہوں میں سے کسی بھیانک راہ پر چل رہی ہے تو مقام فکر ہے۔

ہر شخص اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے ضمیر کا فیصلہ سن سکتا ہے حالات و واقعات اور زمینی حقائق یہ بتلاتے ہیں کہ اس وقت پوری مسلم امہ گناہوں کے گرداب میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے ۔بد اعمالیوں کا ایک طوفان ہے جو ہماری ٹوٹی پھوٹی نیکیوں کو بہائے لے جا رہا ہے ہمارے نیک اعمال بھی بعض کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مٹتے جا رہے ہیں اس لیے ہمیں اپنے اندر احساس پیدا کرنا ہو گا تا کہ توبہ کی توفیق نصیب ہو۔

جب توبہ کی جائے خالص توبہ کی جائے آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہو لیکن اگر خدا نخواستہ نفس کے بہکاوے میں آکر پھر گناہ ہو جائے تو چپ نہ بیٹھے پھر تو بہ کرے اور جب جب ایسا ہو تب تب توبہ کرے اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہے اللہ غفور رحیم ہے وہ گناہوں کو بخش دے گا بار بار بخشے گا خواہ گناہوں کی مقدار آسمان و زمین کی وسعت کے برابر ہو جائے اور وہ خوش بھی ہو گا کہ میرا بندہ میری بخشش و مغفرت کا امید وار ہے اور جانتا ہے کہ میں غفور رحیم ہوں میں ہی گناہوں کو بخشتا ہوں ۔

اگر انسان صدق دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے فرشتوں کو بھلا دیتے ہیں اعضاء کو بھلا دیتے ہیں زمین کو بھلا دیتے ہیں اور نامہ اعمال سے مٹا دیتے ہیں۔ دنیاوی و اخروی مصائب و تکالیف سے اسی توبہ کی بدولت نجات ملتی ہے اس سے اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ ہمیں توبہ کی کس قدر ضرورت ہے۔

سوچنے کا مقام ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم تو گنا ہوں سے معصوم ہونے کے باوجود ایک ایک دن میں تو سو سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتے تھے اور ہم جیسے گنہگار خطاؤں میں غرق معصیت میں ڈوبے ہوئے توبہ کی بات بھی نہ سوچتے جبکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اللہ کی رحمت و مغفرت ہمارا انتظار کررہی ہے مگر ہم ہیں کہ اللہ کی رحمت و مغفرت سے دامن بھرنے کے لئے آگے نہیں بڑھتے۔

زیادہ تو بہ کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ.

(سورة البقرة، آیت نمبر 222)

ترجمہ۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت زیادہ تو بہ کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں۔

توبہ سے کامیابیاں ملتی ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَتُوبُوا إِلَى اللهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔

(سورة النور آیت نمبر 31)

ترجمہ ۔ اے ایمان والو ۔ تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ میں تو بہ کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

ارشاد نبوی ہے ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمُ السَّمَاءِ، ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری برائیاں اور بد اعمالیاں اس قدر زیادہ ہو جائیں کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں اس کے باوجود بھی اگر تم تو بہ کرو تو اللہ تعالی تمہاری توبہ قبول فرمائیں گے۔

(سنن ابن ماحبه باب ذكر التوبة، حدیث نمبر 4248)

توبہ کی تین شرائط ہیں ۔

1 سب سے پہلے تو اس گناہ کو چھوڑ دے۔

2 ندامت کے ساتھ اللہ کے حضور معافی مانگے۔

3 اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔

اللہ ربّ العزت ہمیں توبہ کی توفیق نصیب فرمائے اور ہماری تو بہ کو قبول بھی فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔