ہنسی کی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں، کوئی زور زور سے قہقہے لگا رہا تھا، کوئی چائے کے کپ کے ساتھ باتوں میں مگن تھا تو کوئی کل کے منصوبے بنا رہا تھا۔
زندگی اپنے پورے شور و غُل کے ساتھ چل رہی تھی۔
پھر اچانک.....
ایک فون کال....
میں نے بس یونہی بے دلی سے کال اٹھائی، "فلاں شخص کا انتقال ہو گیا"
کیا…؟
"
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن…"
بس یہی ایک جملہ....
ایک جملے نے چند لمحے قبل والے خوشگوار ماحول کو ایک سیکینڈ میں ساکت کر دیا۔
"ابھی کچھ دن پہلے ہی تو میں نے دیکھا تھا انہیں" 
"وہ تو بالکل ٹھیک تھے" 
"ابھی چند روز قبل ہی تو گھر آئے تھے"
اتنی اچانک…؟
زبان پر یہی جملے تھے، مگر حقیقت تو کسی کے جملوں کی محتاج نہیں ہوتی نا۔
وہ شخص، جس کی اپنی پہچان تھی، اپنے خواب تھے، اپنی مصروفیات تھیں اور اپنے منصوبے تھے…
اب "شخص" نہیں رہا تھا۔
لوگ اب اُس کا نام نہیں لے رہے تھے، کسی اور لفظ سے مخاطب کر رہے تھے "میت"

"میت کب آئے گی؟"
"جنازہ کہاں ہوگا؟"

ایک لمحہ.... بس ایک لمحہ انسان سے اس کی شناخت چھین کر باڈی (body) بنا دیتی ہے۔
جو کل تک ہنس رہا تھا، آج اُس کے لیے لوگ رو رہے ہیں۔
جو کل تک اپنے مستقبل کی باتیں کر رہا تھا، آج اُس کا مستقبل صرف چند گز کفن رہ گیا۔
اور ہم…
ہم یہ سب دیکھ کر بھی ایسے جیتے ہیں جیسے موت صرف دوسروں کیلئے لکھی گئی ہو۔
جیسے ہمارے پاس ابھی بہت وقت باقی ہو۔
جیسے ہم ہمیشہ رہنے والے ہوں۔
حالانکہ سچ یہ ہے کہ موت دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے خبر نہیں بھیجتی۔
وہ نہ عمر دیکھتی ہے، نہ منصوبے، نہ خواب۔
موت برحق ہے یہ بات ہم سب کے علم میں ہے۔
لیکن اس موت کے بعد جن مرحلوں سے گزرنا ہے اس کی تیاری ہم میں سے کسی کے پاس نہیں۔
ہمیں بس موت کے نام سے ڈر لگتا ہے لیکن اپنے نامۂ اعمال کا ذرا بھی خیال نہیں۔
قیامت کا نام سنتے ہی سب لرز اٹھتے ہیں لیکن قبر، پُل صراط اور میدانِ حشر کو ہم بھول بیٹھے ہیں! ـــــ افسوس! ـــــ

ان ساری باتوں کو بھول جانا اس بات کی علامت ہے کہ ہم آخرت کی ابدی زندگی پر دنیا کی وقتی زندگی کو فوقیت دے چکے ہیں۔

" دنیا محض ایک مسافرخانہ ہے"
" کل نفس ذائقة الموت "
"کفن بازار میں آ بھی چکا لیکن میں غافل تھا"
"میری میت کا تختہ بھی بنا لیکن میں غافل تھا"
"خدا محشر میں پوچھے گا گزاری زندگی کیسی؟"

افسوس کہ یہ ساری لائنیں ہمارے لۓ محض الفاظ ہی ہیں، جنہیں ہم بہت سرسری سا پڑھتے، دیکھتے اور سنتے ہیں مگر ان پر غور کرو تو یہ الفاظ ہمارے رونگٹے کھڑے کر دینے کیلۓ کافی ہیں۔
کبھی سوچا ہے...؟
اگر اگلی خبر ہماری ہو تو؟
اگر اگلی خاموشی ہمارے بعد چھا جائے تو؟
اگر کل لوگ ہمارے بارے میں یہی کہیں کہ:
"ابھی تو کل ہی بات ہوئی تھی…"
تو کیا ہم تیار ہیں؟
کیا ہماری نمازیں، ہمارے اعمال، ہمارے راز، ہمارے گناہ…
یہ سب اُس سفر کیلئے کافی ہیں جہاں سے واپسی نہیں؟
کیونکہ جب حقیقت سامنے آئے گی، جب سانسیں ساتھ چھوڑ دیں گی تو کوئی واپسی نہیں ہوگی۔
﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ ۝٩٩ لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ﴾
"یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے:
اے میرے رب! مجھے واپس لوٹا دے، تاکہ میں نیک عمل کرلوں اُس میں جو چھوڑ آیا ہوں۔"
مگر تب واپسی نہیں ہوگی…
صرف حسرت ہوگی۔
كَلَّا ۚ
"ہرگز نہیں!"
﴿اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا ۚ وَمِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ ۝١٠٠﴾
" یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہنے والا ہے، اور ان کے آگے ایک پردہ (برزخ) ہے اُس دن تک جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔"
یہ آیت ہمیں اندر سے جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے، ہمیں یاددہانی کرواتی ہیکہ موت کے بعد مہلت ختم ہو جاتی ہے، پھر نہ توبہ کا وقت رہتا ہے، نہ نیک اعمال کا۔
زندگی حقیقت میں بہت مختصر ہے۔
اتنی مختصر کہ ایک فون کال، ایک لمحہ، ایک سانس…
اور سب ختم
۔