*ماڈرن زمانے کی لڑکی اور روایتی زمانے کی لڑکی*


*✍🏻 محمد پالن پوری*

*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

*حیا کی چادر اوڑھے جو چلتی ہے نرم لہروں میں*

*وہی عورت ہے جسے سب زمانے تاج کہتے ہیں*

ایک ہی فطرت کی دو تصویریں ہیں مگر زمانے کی ہوا نے ایک کو چمک دے کر تھکا دیا اور دوسری کو سادگی دے کر باوقار بنا دیا۔ روایتی لڑکی صبح کی اذان کی طرح تھی خاموش، گہری، اپنی ماں کی تربیت اور اپنے باپ کی غیرت کے سائے میں پلنے والی۔ اس کے پاس کم تھا مگر اس کے چلن میں حیا کی پوری کہکشاں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور آج کی ماڈرن لڑکی روشنیوں میں ڈوبی ہوئی مگر اندر سے پیاسی ہاتھ میں اسکرین کا جہان مگر دل میں ایک خالی پن۔ علم زیادہ مگر سمت کم، لباس بے شمار مگر چادر کی معنویت نایاب۔ وہ آزاد بھی ہے اور کسی انجانی بےچینی کی اسیر بھی۔۔۔۔

فرق صرف اتنا ہے کہ روایتی لڑکی نے کم چل کر زیادہ پا لیا تھا اور ماڈرن لڑکی بہت دوڑ کر بھی اصل تک نہیں پہنچ پاتی۔ اصل عظمت نہ قدامت میں ہے نہ جدّت میں بلکہ اصل عظمت اس عورت میں ہے جو اپنی چادر کو بوجھ نہیں تاج سمجھتی ہے اور اپنی فطرت کے وقار کو زمانے کی چیخوں پر قربان نہیں کرتی۔۔۔ جب عورت اپنی اصل پہچان میں جیتی ہے تو وہ ہر دور کی ملکہ ہے۔۔۔۔