کوئی بھی تحریر صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی،
تحریر لکھنا صرف لفظوں کو جوڑ کر لفظوں کی زنجیر بنانے کا نام نہیں ہے،
 یہ اپنے خیالات کو ایک مستقل طاقت دینے کا بہترین طریقہ ہے، 
ہر تحریر کا ہر لفظ، ہر جملہ، لکھنے والے کا احساس ہوتا ہے۔
 اس کا تجربہ ہوتا ہے، 
اس کا دکھ ہوتا ہے، 
اس کی خوشی ہوتی ہے، 
اس کا غم ہوتا ہے، 
اس کا راز ہوتا ہے،
اس کی پسند ہوتی ہے، 
 اس کے سوچنے کا نظریہ ہوتا ہے۔
اس کی گہری خاموشی ہوتی ہے ، وہ خاموشی جسے وہ کسی سے کہہ نہیں پاتا اسے قلم کے ذریعے لوگوں کے سامنے لے آتا ہے۔
کسی کا وہ احساس ہوتا ہے جو وہ لوگوں کے سامنے بیان نہیں کر پاتا ہے، ان احساسات کو وہ کاغذ یا اسکرین کے حوالے کر کے تھوڑا سا پرسکون اور مطمئن ہو جاتا ہے۔
ہر تحریر ایک آئینہ ہوتی ہے، جو لکھنے والے کے اندر کی دنیا کو دکھاتی ہے،
 اس دنیا میں کبھی ہمیں کسی کی خواہشات ملتی ہیں، کسی کی آرزوئیں ملتی ہیں اور کسی کی زندگی کی کہانی ملتی ہے۔
کیونکہ لکھنے والا اکثر وہی لکھتا ہے جو اس کے دل کی آواز ہوتی ہے کبھی وہ اپنے متعلق لکھتا ہے تو کبھی اپنے سے جڑے لوگوں کے متعلق اور کبھی اپنی زندگی میں ہوۓ کسی واقعے کے متعلق یا پھر کبھی اپنی اس سوچ کو دنیا کے سامنے لے آتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان ہوتا ہے کہ یہ کسی کے لیۓ مفید ہو سکتی ہے یا اس سے کوئ نصیحت مل سکتی ہے یا وہ دنیا کے سامنے ایک پیغام کی شکل میں پہنچے گی_

  میرے حساب سے ایک قلمکار کبھی جھوٹ نہیں لکھتا اور اگر کوئی قلمکار جھوٹ لکھتا ہے تو وہ ہنر مند تو ہو سکتا ہے لیکن قلمکار نہیں کیونکہ جھوٹ دل کی گہرائ سے نہیں دماغ کی چالاکی سے نکلتا ہے۔

✍️ بنت شہاب💫