🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
کچھ لوگ بولتے بہت کم ہیں، مگر اُن کے دلوں میں لفظوں کے پورے سمندر موجزن ہوتے ہیں۔
وہ بظاہر خاموش دکھائی دیتے ہیں، لیکن اُن کی خاموشی کے پیچھے بے شمار چیخیں دفن ہوتی ہیں۔
ایسے لوگ اکثر محفلوں میں مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر اُن کی مسکراہٹوں کے پیچھے ایک ایسی تھکن چھپی ہوتی ہے جسے صرف اُن کا رب جانتا ہے۔
وہ اپنے درد کو زبان نہیں دیتے، کیونکہ ہر درد سنانے کیلئے نہیں ہوتا، اور ہر آنسو دکھانے کیلئے نہیں بہایا جاتا۔
خاموش لوگ کمزور نہیں ہوتے…
بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بہت زیادہ محسوس کرنے والے ہوتے ہیں۔
وہ لفظوں سے زیادہ رویّوں کو سمجھتے ہیں، لہجوں کے پیچھے چھپی نفرت کو پہچان لیتے ہیں، اور مسکراہٹوں میں چھپے فاصلوں کو محسوس کر لیتے ہیں۔
وہ ہر بات دل پر لے لیتے ہیں، مگر کسی سے شکوہ نہیں کرتے۔
وہ ٹوٹتے بھی ہیں، بکھرتے بھی ہیں، مگر اپنی ذات کے ملبے کو دوسروں کے سامنے نہیں گرنے دیتے۔
کبھی کبھی ایک خاموش انسان اپنے اندر اتنے طوفان سمیٹے ہوتا ہے کہ اگر اُس کے دل کی دیواریں بول پڑیں تو سننے والے بھی رو پڑیں۔
کچھ خاموشیاں محرومیوں کی ہوتی ہیں،
کچھ اپنوں کے بدل جانے کی،
کچھ ادھورے خوابوں کی،
اور کچھ اُن دعاؤں کی…
جو برسوں مانگی گئیں مگر ابھی قبول نہ ہو سکیں۔
خاموش لوگ اکثر راتوں میں جاگتے ہیں۔
دن بھر جو درد ہونٹوں تک نہیں آتا، وہ رات کے اندھیروں میں آنکھوں سے بہنے لگتا ہے۔
وہ تکیے میں منہ چھپا کر روتے ہیں تاکہ کسی کو اُن کے ٹوٹنے کی آواز نہ سنائی دے۔
وہ دنیا کے سامنے مضبوط بنے رہتے ہیں، کیونکہ اُنہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ٹوٹے ہوئے لوگوں کو تسلی کم اور تماشہ زیادہ بنایا جاتا ہے۔
بعض اوقات خاموشی انسان کی مجبوری نہیں، اُس کا ادب ہوتی ہے۔
وہ جواب دے سکتا ہے، مگر بحث نہیں کرتا۔
وہ حقیقت جانتا ہے، مگر کسی کو شرمندہ نہیں کرتا۔
وہ سب کچھ محسوس کرتا ہے، مگر ہر احساس کا اظہار ضروری نہیں سمجھتا۔
ایسے لوگ اپنے کردار سے بولتے ہیں، اپنے صبر سے پہچانے جاتے ہیں، اور اپنی دعاؤں سے لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خاموش لوگوں کے دل بہت نرم ہوتے ہیں۔
وہ دوسروں کو تکلیف نہیں دینا چاہتے، اِسی لیے اکثر خود تکلیف سہہ لیتے ہیں۔
وہ اپنے حصے کے دکھ چپ چاپ برداشت کر لیتے ہیں، مگر کسی کے چہرے پر اداسی نہیں دیکھ سکتے۔
وہ محبت خالص کرتے ہیں۔
اگر وہ کسی کو اپنا مان لیں تو اُس کیلئے دعا بن جاتے ہیں، اور اگر کسی سے دل ٹوٹ جائے تو خاموشی کو اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔
کبھی کسی خاموش انسان کو یہ مت کہو کہ “تم بدل گئے ہو”
کیونکہ بعض تبدیلیاں حالات لکھتے ہیں، اور کچھ زخم انسان کو پہلے جیسا رہنے نہیں دیتے۔
جو شخص پہلے ہر بات پر ہنس دیا کرتا تھا، کبھی کبھی وہی شخص زندگی کے تھپیڑوں کے بعد اتنا خاموش ہو جاتا ہے کہ اُس کی آنکھیں بھی بولنے سے ڈرنے لگتی ہیں۔
خاموش لوگوں کو سمجھنے کیلئے الفاظ نہیں، احساس چاہیے۔
اُن کے قریب بیٹھ کر اُن کی آنکھوں کو پڑھنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ زبان سے کم اور کیفیت سے زیادہ بولتے ہیں۔
وہ اکثر محبت، توجہ، خلوص اور اپنائیت کے بھوکے ہوتے ہیں، مگر مانگتے کچھ نہیں۔
وہ بس یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اُن کی خاموشی کو بھی سن لے
ہر خاموش شخص مغرور نہیں ہوتا،
ہر کم گو انسان بے احساس نہیں ہوتا،
اور ہر مسکراتا چہرہ خوش نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ اپنی زندگی کے سب سے بڑے معرکے خاموش رہ کر لڑ رہے ہوتے ہیں۔
وہ اندر ہی اندر ٹوٹ کر بھی خود کو سنبھالے رکھتے ہیں۔
وہ دنیا سے نہیں، اپنے نصیب، اپنے حالات، اپنی محرومیوں، اور کبھی کبھی اپنے ہی دل سے جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔
اور شاید یہی خاموش لوگ اللہ کے سب سے قریب ہوتے ہیں…
کیونکہ جب دنیا اُنہیں نہیں سمجھتی، تب وہ سجدوں میں اپنے رب سے باتیں کرتے ہیں۔
وہ لوگوں سے کم اور اللہ سے زیادہ گفتگو کرتے ہیں۔
اُن کے آنسو زمین پر کم اور جائے نماز پر زیادہ گرتے ہیں۔
لہٰذا اگر تمہاری زندگی میں کوئی خاموش انسان ہے، تو اُس کی خاموشی کو نظر انداز مت کرو۔
ہوسکتا ہے اُس کے اندر ایک ایسا طوفان چل رہا ہو جس نے اُس کی پوری دنیا ہلا رکھی ہو…
اور وہ صرف اِس لیے خاموش ہو کہ اُسے یقین ہو چکا ہو کہ
“ہر درد سنانے والوں کو سمجھنے والے نہیں ملا کرتے…”