*تعلیمی دہشت گردی اور سیکیورٹی کا جنازہ اندھی سرکار کے نام قوم کا نوحہ*
*افسوس صد افسوس* ایک بار پھر اس گندی سرکار کی نااہلی کا بدبودار تعفن پورے ملک میں پھیل چکا ہے، پیپر کا لیک ہونا اب کوئی اتفاقی حادثہ یا انتظامی کوتاہی نہیں رہی، بلکہ یہ ایک منظم *تعلیمی نسل کشی* بن چکی ہے، یہ ان لاکھوں طالب علموں کے خون پر شب خون مارنے کے مترادف ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں میں ایک روشن مستقبل کے خواب سجا رکھے تھے، جب ریاست اپنے بچوں کے قلم اور کتاب کی حفاظت نہیں کر سکتی، تو اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔
*سیکیورٹی کا ڈھونگ اور محافظوں کی غداری*
اس نظام میں سیکیورٹی کے نام پر جو تماشہ رچایا جاتا ہے، اس پر جتنی لعنت بھیجی جائے کم ہے، حکمرانوں کے پاس اپنے پروٹوکول اور سیاسی جاسوسی کے لیے تو جدید ترین ٹیکنالوجی اور ہزاروں آنکھیں موجود ہیں، لیکن جب بات امتحانی پرچوں کی حفاظت کی آتی ہے، تو ان کی تمام تر سیکیورٹی اندھی، بہری اور اپاہج ہو جاتی ہے،
ان فول پروف سیکیورٹی حصاروں، سیل بند لفافوں اور خفیہ نگرانی کے دعووں پر *تھو ہے* جو ایک کاغذ کے ٹکڑے کو چند گھنٹوں کے لیے محفوظ نہیں رکھ سکتے، سچ تو یہ ہے کہ سیکیورٹی کے محافظ ہی سیکیورٹی کے لٹیرے بن چکے ہیں، پیپر کسی غریب کے گھر سے نہیں، بلکہ ان مضبوط ایوانوں اور محفوظ دفاتر سے لیک ہوتا ہے جہاں تم جیسے ضمیر فروش بیٹھے ہیں،
*لعنت ہے* ان ہاتھوں پر جو چند ٹکو کے عوض دیانت کا سودا کرتے ہیں، *پھٹکار ہو* ان افسران پر جن کی ناک کے نیچے پرچے سرِ عام بازاروں میں بکتے ہیں اور وہ مصلحت کی چادر تان کر سوئے رہتے ہیں۔
*بدبودار نظام اور کرپٹ کرداروں پر عوامی جلال*
اس پلیٹ فارم پر موجود ہر وہ شخص، چاہے وہ انتظامیہ کی کرسی پر بیٹھا کوئی بڑا وزیر ہو، یا وہ نیچ اہلکار جس نے چند روپوں کی خاطر اپنا ایمان بیچا، اس قوم کا غدار اور مجرم ہے، تم وہ گدھ ہو جو زندہ بچوں کے مستقبل کی لاشوں کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہو، تمہاری تجوریوں میں جمع ہونے والا یہ حرام کا پیسہ ان غریب طالب علموں کی آنکھوں سے نکلنے والے خون کے آنسو ہیں جن کی محنت کا تم نے مذاق اڑایا ہے، تمہاری نسلیں ان لقموں سے کبھی خیر نہیں پائیں گی جو تم نے ایک محنتی بچے کا حق مار کر حاصل کیے ہیں، تم نے تعلیم جیسے مقدس نور کو بازار کی جنس بنا کر رکھ دیا ہے۔
*بچوں کی زندگی سے سنگین کھلواڑ ایک نسل کی تباہی نہیں پورے سماج کے ساتھ گندی راج ہے* نا اہل اور جاہل حکمرانوں تمہیں کیا خبر کہ جب ایک طالب علم رات بھر چراغ جلا کر، اپنی تمام تر خوشیوں کو قربان کر کے امتحان کی تیاری کرتا ہے، اور صبح اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی محنت تمہاری کرپشن کی بھینٹ چڑھ گئی، تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ *اعتبار کا قتل* تم نے صرف پرچہ لیک نہیں کیا، تم نے محنت، لگن اور سچائی پر سے ایک پوری نسل کا اعتبار اٹھا دیا ہے، اب بچہ کتاب کھولنے سے ڈرتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ ڈگری قابلیت سے نہیں *قیمت* سے ملے گی۔
*تم ظالموں نے محنتی اور جفاکش طلبہ کو نفسیاتی مریض بنا دیا* تم ان بچوں کو خودکشیوں، شدید مایوسی اور ذہنی امراض کی طرف دھکیل رہے ہو، تم نے ان کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں نظام کا باغی بنا دیا ہے، *میرٹ کی پامالی* جس ملک میں امتحان بکتے ہوں، وہاں ڈاکٹر نہیں *قصائی* اور انجینئر نہیں *موت کے سوداگر* پیدا ہوتے ہیں، تم اس ملک کی جڑوں میں زہر گھول رہے ہو۔
*آخری تنبیہ اب حساب کا وقت قریب ہے* اے اقتدار کے نشے میں چور اندھی سرکار یاد رکھو کہ جب مظلوموں کی آہیں عرشِ معلیٰ تک پہنچتی ہیں تو تمہارے یہ مضبوط ایوان تنکوں کی طرح بکھر جایا کرتے ہیں، تم بچوں کی زندگیوں سے نہیں کھیل رہے، بلکہ تم اپنے انجام کی آگ بھڑکا رہے ہو، ظالموں وہ دن دور نہیں جب ان طالب علموں کا جلال تمہارے ان محلات کا محاصرہ کرے گا، اب وقت روایتی *تحقیقاتی کمیٹیوں* کا نہیں، بلکہ ان لٹیروں کو چوراہوں پر نشانِ عبرت بنانے کا ہے،ایسا نظام جو اپنے بچوں کو انصاف اور شفافیت نہ دے سکے، اسے مٹ جانا چاہیے! اگر آج ہم نے ان کے گریبان نہ پکڑے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
*لعنت ہو اس نظام پر، اس سرکار پر اور اس پلیٹ فارم کے ہر اس مجرم پر جس نے ہماری نسلوں کا سودا کیا، اب خاموشی جرم ہے، اب وقت گریبان پکڑنے کا ہے*
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*