محبت

یہ وہ جذبہ ہے جو کائنات کے ہر جاندار میں کسی نہ کسی صورت زندہ ہے۔
چڑیوں کو دیکھیں
 تو وہ اپنے بچوں کے لیے چونچ میں دانہ دبائے پھرتی ہیں،
جانوروں کو دیکھیں
تو وہ اپنے مالک کی ایک محبت بھری آواز پر سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں،
درختوں کو دیکھیں
تو وہ پتھر کھا کر بھی سایہ دیتے ہیں، پھل دیتے ہیں۔
یعنی محبت صرف لفظ نہیں،
یہ فطرت کا سب سے پاکیزہ احساس ہے۔
افسوس تو اس بات کا ہے 
دھوکہ صرف اشرف المخلوقات کا ہنر بن چکا ہے۔
وہ انسان، جسے عقل دی گئی،
شعور دیا گیا،
احساس دیا گیا
تعلیم دی گئی 
تربیت دی گئی 
آج وہی سب سے زیادہ دل توڑنے لگا ہے۔
جانور کبھی مصلحت کے تحت تعلق نہیں رکھتے،
وہ مطلب کے لیے قریب نہیں آتے،
نہ ہی وقت بدلنے پر چہرے بدلتے ہیں۔
مگر انسان
اکثر محبت کے نام پر قریب آتا ہے،
امیدیں جگاتا ہے،
خواب دکھاتا ہے،
آپ کے لیے نہ جانے کیا کیا کر جانے کے لئے خود کو تیار بتا تا ہے
مرنے جینے تلک کے وعدے کرتا ہے 
اور
 پھر ایک دن خاموشی سے بدل جاتا ہے۔
کتنا عجیب ہے نا
وفاداری ہم نے جانوروں سے سیکھی،
اور دھوکہ انسانوں سے۔
آج کے دور میں محبت ڈھونڈنا مشکل نہیں،
مخلص محبت ڈھونڈنا مشکل ہے۔
کیونکہ اب لوگ دل سے نہیں،
ضرورت سے تعلق رکھتے ہیں۔
اور جب ضرورت ختم ہوجائے تو
لہجے بھی بدل جاتے ہیں اور رویّے بھی۔
پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ
دنیا آج تک محبت کے سہارے قائم ہے۔
اگر محبت نہ ہوتی تو
ماں رات بھر جاگ کر بچے کو نہ سنبھالتی،
باپ در در دھکے نہ کھاتا پھرتا
خواہشیں قربان نہ کرتا،
اور اولاد بھی والدین کی پریشانیوں کو دیکھ کر پریشان نہ ہوتی
کوئ کسی کے درد میں بےچین نہ ہوتا
 محبت ابھی بھی موجود ہے…
بس
 اب وہ کم لوگوں میں باقی رہ گئی ہے۔
عائشہ 🍁