اس دور میں بچے اپنے والدین سے دور بھاگ رہے ہیں انہیں بڑھاپے میں ماں باپ بوجھ نظر آنے لگتے ہیں
جبکہ قران مجید میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا "اور
تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کروں"
والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر اپ کے والدین زندہ ہیں تو اپ خوش قسمت ہیں ان کی دعا لیں ماں کی دعا عرش کو ہلا دیتی ہے۔
اس دن کو یاد کرو جب تم چھوٹے تھے اس ماں نے تمہارے لیے اپنی نیند ، اپنا سکون ، اپنا کھانا ، پینا سونا ، سب اس نے تمہاری راحت کے لیے قربان کر دیا۔
اپنے والدین کے لیے سکون کا باعث بنیں ان کی ہر جائز خواہش کو پورا کریں ان کی فرمانبرداری کریں آپ دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی کامیابی آپ کا مقدر ہوگی۔
ابھی کچھ ماہ پہلے میرے سامنے ایک ویڈیو آئی ایک بیٹی کی اس نے کہا کہ وہ چھوٹی تھی تب سے اس نے اپنے باپ کو شراب کی لت میں پایا اس کا باپ شراب پیتا تھا ، جوا کھیلتا تھا ، بہت سے گناہ کے کام کرتا تھا ، اس بیٹی نے کہا کہ جب ہم گلی میں نکلتے ہیں تو ہمارے باپ کی وجہ سے ہماری گردن جھکی ہوئی ہوتی ہے اب ہمارا باپ مر چکا ہے لیکن اس کی یہ بیٹی ایک باکردار ایمان والی ، اخلاق والی بنےگی تاکہ کل بروز قیامت اس کی وجہ سے اس کے باپ کا سر نہ جھکار ہے اس نے کہا کہ میں وہ بنوں گی جس کی وجہ سے میرے باپ کا سر میرے رب کے سامنے جھکا ہوا نہ ہو ہم بیٹیاں اپنے باپ کے لیے جہنم سے اڑ بنیں گی۔
اس نے اپنے باپ کو برا بھلا نہیں کہا بلکہ اس نے اپنے باپ کے لیے جہنم سے اڑ بننے کا عہد کیا ۔
جب میں نے یہ ویڈیو دیکھی تو میری آنکھوں میں انسو آگئے کہ آج ہمارے والدین ہمیں کسی کام سے منع کر دیں جس میں ہمارے لیے بھلائی ہی ہوتی ہے ہم انہیں برا بھلا کہنا شروع ہو جاتے ہیں والدین کے اتنے احسان کے باوجود ہم ان کی نافرمانی کرتے ہیں ان کا دل دکھاتے ہیں ان سے برا برتاؤ کرتے ہیں۔
ہم سب مل کے عہد کریں کہ ہم بھی ایک ایسی بیٹی، بیٹا بنیں گے جس کی وجہ سے کل قیامت کے دن ہمارے والدین کا سر ہماری وجہ سے فخر سے اونچا ہو سکے، ایسی بیٹی ، بیٹا بنے جس کی وجہ سے ہمارے والدین کا سر ہماری وجہ سے جھکا ہوا نہ ہو ،ہم عہد کریں کہ ہم بیٹیاں ان کے لیے جہنم سے اڑ بنے گی۔
اس لیے اپنے والدین کو ہم نے اپنا کہنا سیکھنا ہے۔ ان کی ہر بات پہ" جی امی" جی ابو " ایسے ٹھیک ہے، کرنا سیکھنا ہے، ان کے ہر حکم پہ " جی ابو آپ جیسے کہہ رہے ہیں ویسے کر لینا " ہے سیکھنا ہے ، میں یہ نہیں کہہ رہی کہ شادی اور کریئر کا انتخاب وغیرہ بھی ان کی مرضی سے کریں یہ انسان کی پرسنل چوائس ہوتی ہے لیکن اس پہ ان سے لڑنا یا ان کو ناراض نہیں کرنا ان سے اچھے سے بات کرنی ہے اور اچھے سے اپنی بات سمجھانی ہے ۔اللہ نے والدین کے سامنے اف نہ کرنے کو اس لیے کہا کہ اف کرنے کے موقع آئیں گے صبر انسان کا کھوئے گا ، والدین کے سامنے اللہ نے بتایا ہے کہ ہم انسانوں کو ، اس کو معلوم ہے کہ جب ہم بوڑھے ہو رہے ہوتے ہیں تو ہمارا مزاج بدل رہا ہوتا ہے والدین کے مزاج بھی عجیب ہوتے جائیں گے یا زیادہ چڑچڑے ہو جائیں گے یا زیادہ نرم جو بھی ہے جیسے بھی ہے ان کو ویسے ہی قبول کرنا ہے ان کے اگے اف نہیں کرنی۔
اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو ان کی خوب خدمت کریں ، ان کا ہر حکم سر انکھوں پہ ،ان سے نرمی سے بات کریں، انہیں دیکھ کر مسکرایا کریں، انہیں وقت دیا کریں، آج کے اس موبائل کے دور میں بچوں کے پاس ماں باپ کے لیے وقت نہیں لہذا انہیں وقت دیا کریں ان سے بات کیا کریں ان کے لیے دعا کیا کریں، ان سے دعا لیا کریں۔
اف نے کہنا ان کو ،جھڑکنا بھی نہیں
یہ حکم ہے رب کا ، بھول جانا بھی نہیں
بڑھاپے میں ان کا خیال رکھو یوں
جیسے بچپن میں انہوں نے تمہیں پالا تھا ❣️
اللہ تعالی ہم سب کو والدین کا فرمانبردار بناے ۔آمین۔۔
انمول ✍️