جب آپ صلاح الدین ایوبی کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو بعینہٖ اسامہ بن لادن ذہن میں آتے ہیں۔ اسلام کا شیر دل مجاہد، موجودہ دور کی عالمی خفیہ ایجنسیوں کے مقابل ایک مضبوط اور بااثر رہنما تھا۔ اُس نے اپنی حکمتِ عملی اور تدبر سے دنیا کی بڑی خفیہ طاقتوں کو چیلنج کیا۔

شہید رہنما رحمہ اللہ اپنے ایک بیان میں کہتے ہیں:
“اگر تم چاہتے ہو کہ اسلام سربلند ہو تو کفار کو ان کے مراکز پر ضرب لگاؤ، اسرائیل اور امریکہ کو حملوں کے نشانے پر رکھو۔

ان کی پہلی اہلیہ نجویٰ غانم کہتی ہیں:
جب اسامہ نے دوسری شادی کا ارادہ کیا تو مشورے کے دوران مجھ سے کہا: میں شہوت پرست نہیں ہوں، بلکہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اولاد میں ایسا شخص پیدا کرے جو امت کے درد کو سمجھے اور امت کو بچانے والا بنے۔

ان کے بیٹے عمر کہتے ہیں:
ان کے ساتھ بہت سے مہاجر مجاہدین رہتے تھے، لیکن انہوں نے کبھی ہمیں اُن پر ترجیح نہیں دی۔ وہ اپنے ساتھیوں اور سپاہیوں میں اس قدر محبوب تھے کہ ہر شخص اُن پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔
طوفان احمری