موت بھی کیا چیز ہے
یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے کوئ انکار نہیں کر سکتا حتی کہ موت کو چیلنج کرنے والا بھی موت کے نوالہ بن گیا
یہی موت ہے جو بستے تمناؤں اور آرزوؤں کو غم کے بھینٹ چڑھا دیتی ہے
دو محبت کرنے والے ،ایسے جو ہر چیز سے لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔۔۔۔
موت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں
ماں اولاد سے جدائی نہیں چاہتی مگر موت جدا کردیتی ہے
لوگ کہتے ہیں زندگی کا بھروسہ نہیں
اسکا سیدھا مطلب یہی ہے کہ موت یقینی ہے
مگر افسوس کہ موت کی تیاری سے غافل ہی رہتے ہیں
اعلانات سنتے ہیں آج فلاں کا انتقال اور آج فلاں کا دنیا سے کوچ کرنا
مگر مجال ہے کہ ہمیں اپنی فکر ہوجائے
موت عبرت کیلئے کافی ہے
موت وہ موڑ ہے جہاں مڑنے کے بعد زندگی کیطرف
واپسی ناممکن ہے
موت آئیگی یہ جان کر بھی ہم انجان ہیں
موت خاتمہ کا نام نہیں ہے
موت ایک اہم زندگی کی ابتدا ہے
موت کے بعد عمل کا موقع ہاتھ سے چلا جاتا ہے
مگر یاد رہے موت کے اندر یہ سکت اور ہمت نہیں کہ وہ ازخود کوئ ذرہ ہلا سکے
کسی کی جان لینا تو دور کی بات
یہ موت بھی عزیزو۔۔۔۔۔اللہ کے ایک حکم ایک اشارہ کی محتاج ہے
مَا غرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْم