یہ زور ستم تمہارا چلے گا نہیں زیادہ 
_______________________________
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 
________________________________

       آج دور ترقی کا ہے، ہر کوئی مصروف ہے، آگے بڑھنا چاہتا ہے ،اپنا بزم سجانا چاہتا ہے، محفل لوٹنا چاہتا ہے ،قدم بڑھانا چاہتا ہے ،شہرت وناموری کا ڈنکا بجانا چاہتا ہے ،دنیا اسکی ثنا خوانی کرے، اس کے شان میں قصیدے پڑھے ،جہاں بھی جاۓ لوگ اس کے استقبال میں حدی خوانی کرے، مگر ؛وہ یہ صرف خواہش ہے اس لیے کوشش کچھ بھی نہیں اگر ہے بھی تو درست نہیں، انہیں نہیں معلوم کہ تصویر جاناں بنتی نہیں مصور جاناں کے بغیر، آپ سے محبت لوگ تبھی کریں گے جب آپ لوگوں سے محبت کریں گے ،آپ کی عزت لوگ تبھی کریں گے جب آپ لوگوں کی عزت کریں ،آپ کے حقوق کی رعایت تبھی ہوگی جب آپ دوسروں کے حقوق کی رعایت کریں ،آپ کے عہدے کی عزت وخیال تبھی کریں گے جب آپ خود اس عہدے کی ذمہ داری بحسن وخوبی انجام دیں اور آپ کے عہدے سے لوگوں کا فائدہ ہو ورنہ آپ کی عزت کوڑے دان میں ڈالنے قابل ہوگا -

      آج کل پوری دنیا کی تصویر کالی ہے ،اسکرین پہ کارنامے ایسے چھپتے ہیں کہ دنیا اس پہ تھوتھو کرتی ہے ،سب کے خواب اونچے ہیں ،کیا امیرو غریب کیا ،کیا ہندو مسلم ،سکھ عیسائی ہر کوئی بلند خواب دیکھتا ہے اور اپنی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے ،اس خواہش کے چکر میں ظلم عام ہوگیا ،عدل ختم ہوگیا ،مذہب ومسلک کی آڑ میں انسانیت کا جنازہ نکل رہاہے ، لفظ انسان کا اصطلاحی معنی تو دور اب لغوی معنی بھی صادق نہیں آرہاہے،عورتوں کی عزت روز لوٹی جاتی ہے ،کچھ جنگلی بھیڑیے دوسال تین کی بچی جس پر شفقت کا ہاتھ پھیرا جانا تھا بدقسمتی ہے اس کی کے اس پر درندگی اور شہوت کا ہاتھ پھیرا جاتا ہے ،کھانا بھی اب شکل دیکھ کر لوگ دیتے ہیں، گویا شکل کی آڑ میں کھانے کی تقسیم
تم یہ چاہتے ہو-

     تم چاہتے ہو نام روشن ہو مگر تم وہ نہیں کرتے جس سے نام روشن ہو، تم چاہتے ہو دنیا تمہیں محبت کی دیوی سے جانے مگر نفرت کی نفرت کی دیوی بنے بیٹھے ہو ، تم انتخابی حقوق کے غاصب ہو ، تم چاہتے ہو کہ تمہیں بہادر کہا جاۓ ،مگر بزدلی دکھا کر طاقتور کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہو اور کمزوروں پر ظلم خوب کرتے ہو ،تم کسی کو کپڑے دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کرتے ہو ،بھید بھاؤ کرو تمہیں سچا کہا جاۓ پر تم سچی بات کہنے والے اور سچائی دکھانے والے کو دیوار زنداں کی دھمکی دو ،تم سب خیر چاہتے ہو مگر سارے شر کرتے ہو،تم سب اچھا چاہتے ہو برا کرکے یہ تو انصاف نہیں ہے ،انصاف ہے جیسے کو تیسا -

 بتاؤ !
          تم چاہتے کیاہو ،تم جو چاہتے ہو میں بتاتا ہوں تم ان میں سے کچھ نہیں چاہتے تم چاہتے ہو میں ہمیشہ بےلگام رہوں ،تم چاہتے ہو دولت کی بستر پر رہو تم چاہتے ہو کرسی تمہارے پاس ہمیشہ رہے ،تم چاہتے ہو مجھ پر کوئی الزام ثابت نہ ہونے پاۓ ،تم چاہتے ہو کہ کرایہ کےلوگ تمہارے آگے پیچھے جی حضوری میں لگارہے،تم چاہتے ہو مجھے دیوار زنداں مشقت نہ جھیلنا پڑے ،تم چاہتے ہو میرے پروفائل بند رہے ،تم چاہتے ہو جو تم نے ماضی میں کیا اس پر پردہ پڑا رہے -

      سیاست مدینہ کی کوئی سوجھ بوجھ نہیں ،تہذیب اخلاق وتدبیر منزل تو بہت پہلے ہی تم نے خراب ویران کرڈالا-

    تم نااہل کو اہل کی ذمہ داری دےکر تکلیف مالایطاق کا حامل بناؤ یہ سب سین بڑے پردے میں چل رہا ہے ،لوگ دیکھ رہے ہیں ،مزے لے رہے ہیں، ہنس رہے ہیں، دل بہلارہے ہیں مگر حقیقت اپنی بدقسمتی پر آنسو بہارہےہیں کہ ان کی آنکھیں ایسے لوگوں کو دیکھ رہی ہے جو صرف اپنا مفاد دیکھتاہے چاہے اس کے تحت آنے لوگ اس کی سفیہانہ تدبیر کی وجہ سے زندگی اور موت سے لڑ کر لقمۂ اجل بن جاۓ -
خیر! یہ ستم زیادہ چلنے والا نہیں ہے کیوں کہ ظلم اپنے انتہا پر ہی ختم ہوتاہے-
    تاریخ کسی کو نہیں بخشتی ، انتقام لیتی ہے، تم جہالت کے اندھیرے کنویں میں ہو دنیا کی تاریخ سے بے خبر ہو ،فرعون وشداد ،قارون و ھامان،قیصر و کسری ابو جہل و ابو لہب کی داستان سے غافل ہو، کوئی نہیں بہت جلد معلوم چل جاۓ گا تھوڑے دن اور مستیاں اور مرضیاں کرلو جب تضاد کی چکی چلے گی تو بہت باریک پسے جاؤ گے ،یہ چند ٹکے کے لوگ چاہتے ہیں ہمیشہ رہیں گے پر ایسا نہیں ہوگا ، دنیا کے تمام لیڈر یاد رکھو تمہیں "العالم حادث والصانع قدیم" کی تعبیر یاد رکھنے کی ضرورت ہے جس میں سراپا عدل ہے
،وقت بدلے گا ،لوگ بدلیں گے ،حالات بدلیں گے ،نقشہ تبدیل ہوگا ،انقلاب آۓ گا ماضی کا آئینہ دکھاۓ گا
ان شاءاللہ