اخلاقِ حسنہ
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
_______________________________
محترم قارئین ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ اخلاق کسے کہتے ہیں اور ان کا منبع کیا ہے انسان کے اخلاق حسنہ در حقیقت اللہ کے اسماء حسنی کا انعکاس ہیں انسانیت اور بشریت کی معراج یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات اختیار کرے اللہ تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہیں ایک وہ جو ذات الہی کے لیے خاص نہیں ہیں جو صفات ذات الہی کے لیے بالکل مختص ہیں جیسے کبریائی توحید اور خلق ان کی نقل تو نہیں کی جاسکتی لیکن باقی دوسری صفات جیسے علم و حلم رحم و کرم و عفو و درگذر ستاری و شکر گزاری احسان شناسی مدد و سخاوت دست گیری خبر گیری و خیر خواہی دلجوئی اور دلنوازی وغیرہ وغیرہ تو اس میں مشابہت اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مثال کے طور پر قدرت کے باوجود عفو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے انسان کو اس صفت کی نقل کرنی چاہیے اور انتقام لینے کی طاقت کے باوجود معاف کرنے کی عادت اختیار کرنی چاہیے انسان صفات الہی کے انوار سے جتنا زیادہ کسب فیض کرے گا اس قدر زیادہ اس کی روحانیت کی تکمیل ہوگی اور اسی قدر زیادہ وہ ایک آئیڈیل انسان بنے گا اور اس کا وجود اخلاق کا پیکر جمیل اور پورے معاشرے کے لیے خیر و برکت کی سلسبیل ثابت ہوگا اس کی صحبت مثالِ گل ماحول کو خوشبو سے معطر اور راحت و امن کا گہوارہ بنائے گی۔
اللہ ربّ العزت ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین