بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

ماہِ ذی الحجہ کی فضیلت و اہمیت
(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

ماہ ذی الحجہ ہجری سال کا آخری ؛ مگر  نہایت عظمت، برکت اور فضیلت والا مہینہ ہے۔ اس مہینے کو عبادت، قربانی، حج، ذکرِ الٰہی اور تقویٰ کے اعتبار سے خاص مقام حاصل ہے۔ خصوصاً اس کے ابتدائی دس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب اور بابرکت  ہیں۔ ان دنوں میں عبادت کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے یہ ایام بندۂ مومن کے لیے  اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا اور مغفرت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:وَالْفَجْر★ وَلَيَالٍ عَشْرٍ (قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی)(سورۃ الفجر: 1-2)
اکثر مفسرین کے نزدیک ”دس راتوں“ سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ یہ دن اپنی عظمت اور فضیلت کے اعتبار سے سال کے سب سے افضل دن شمار ہوتے ہیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ(اور تاکہ وہ مقررہ دنوں میں اللہ کا نام ذکر کریں) (سورۃ الحج: 28)
اس آیت کریمہ میں بھی ”ایامِ معلومات“سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آں حضور ﷺ نے فرمایاکہ:اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی دن کا عمل ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب نہیں۔
صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا۔(صحیح بخاری: ۱/ ۱۳۲، ح: ۹۶۹)
ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن نہایت عظیم ہیں۔

ماہ ذی الحجہ کے مخصوص اعمال
(١) حج
ماہ ذی الحجہ کا سب سے بڑا عمل حج ہے، جو اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان مسجد الحرام میں حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا. (اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو) (سورۃ آل عمران: ۹۷)

(٢) یومِ عرفہ
ذی الحجہ کی نویں تاریخ یعنی یوم عرفہ نہایت بابرکت دن ہے۔ اس دن کا روزہ رکھنے کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایاکہ:مجھے اللہ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

(٣) قربانی
ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عید الاضحی منائی جاتی ہے، جس میں مسلمان سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے قربانی کرتے ہیں۔ یہ عمل اللہ کی اطاعت، ایثار اور اخلاص کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ.(اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے) (سورۃ الحج: 37)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قربانی کا اصل مقصد اخلاص اور تقویٰ ہے۔
الغرض ماہِ ذی الحجہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس کے ابتدائی دس دن عبادت کے اعتبار سے سال کے سب سے قیمتی دن ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان مبارک ایام کی قدر کریں، اپنے اعمال کو بہتر بنائیں، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں اور اخلاص و تقویٰ کے ساتھ عبادت میں مشغول رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ کی حقیقی قدر کرنے اور ان مبارک ایام سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

خامہ بکف: محمد احمد اسلمی مدھوبنی
مؤرخہ ۲۲/ ذیقعدہ ۱۴۴۷ھبسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

ماہِ ذی الحجہ کی فضیلت و اہمیت
(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

ماہ ذی الحجہ ہجری سال کا آخری ؛ مگر  نہایت عظمت، برکت اور فضیلت والا مہینہ ہے۔ اس مہینے کو عبادت، قربانی، حج، ذکرِ الٰہی اور تقویٰ کے اعتبار سے خاص مقام حاصل ہے۔ خصوصاً اس کے ابتدائی دس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب اور بابرکت  ہیں۔ ان دنوں میں عبادت کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے یہ ایام بندۂ مومن کے لیے  اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا اور مغفرت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:وَالْفَجْر★ وَلَيَالٍ عَشْرٍ (قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی)(سورۃ الفجر: 1-2)
اکثر مفسرین کے نزدیک ”دس راتوں“ سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ یہ دن اپنی عظمت اور فضیلت کے اعتبار سے سال کے سب سے افضل دن شمار ہوتے ہیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ(اور تاکہ وہ مقررہ دنوں میں اللہ کا نام ذکر کریں) (سورۃ الحج: 28)
اس آیت کریمہ میں بھی ”ایامِ معلومات“سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آں حضور ﷺ نے فرمایاکہ:اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی دن کا عمل ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب نہیں۔
صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا۔(صحیح بخاری: ۱/ ۱۳۲، ح: ۹۶۹)
ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن نہایت عظیم ہیں۔

ماہ ذی الحجہ کے مخصوص اعمال
(١) حج
ماہ ذی الحجہ کا سب سے بڑا عمل حج ہے، جو اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان مسجد الحرام میں حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا. (اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو) (سورۃ آل عمران: ۹۷)

(٢) یومِ عرفہ
ذی الحجہ کی نویں تاریخ یعنی یوم عرفہ نہایت بابرکت دن ہے۔ اس دن کا روزہ رکھنے کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایاکہ:مجھے اللہ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

(٣) قربانی
ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عید الاضحی منائی جاتی ہے، جس میں مسلمان سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے قربانی کرتے ہیں۔ یہ عمل اللہ کی اطاعت، ایثار اور اخلاص کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ.(اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے) (سورۃ الحج: 37)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قربانی کا اصل مقصد اخلاص اور تقویٰ ہے۔
الغرض ماہِ ذی الحجہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس کے ابتدائی دس دن عبادت کے اعتبار سے سال کے سب سے قیمتی دن ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان مبارک ایام کی قدر کریں، اپنے اعمال کو بہتر بنائیں، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں اور اخلاص و تقویٰ کے ساتھ عبادت میں مشغول رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ کی حقیقی قدر کرنے اور ان مبارک ایام سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

خامہ بکف: محمد احمد اسلمی مدھوبنی
مؤرخہ ۲۲/ ذیقعدہ ۱۴۴۷ھ

ماہ ذی الحجہ ہجری سال کا آخری ؛ مگر  نہایت عظمت، برکت اور فضیلت والا مہینہ ہے۔ اس مہینے کو عبادت، قربانی، حج، ذکرِ الٰہی اور تقویٰ کے اعتبار سے خاص مقام حاصل ہے۔ خصوصاً اس کے ابتدائی دس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب اور بابرکت  ہیں۔ ان دنوں میں عبادت کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے یہ ایام بندۂ مومن کے لیے  اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا اور مغفرت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:وَالْفَجْر★ وَلَيَالٍ عَشْرٍ (قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی)(سورۃ الفجر: 1-2)
اکثر مفسرین کے نزدیک ”دس راتوں“ سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ یہ دن اپنی عظمت اور فضیلت کے اعتبار سے سال کے سب سے افضل دن شمار ہوتے ہیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ(اور تاکہ وہ مقررہ دنوں میں اللہ کا نام ذکر کریں) (سورۃ الحج: 28)
اس آیت کریمہ میں بھی ”ایامِ معلومات“سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آں حضور ﷺ نے فرمایاکہ:اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی دن کا عمل ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب نہیں۔
صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا۔(صحیح بخاری: ۱/ ۱۳۲، ح: ۹۶۹)
ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن نہایت عظیم ہیں۔

ماہ ذی الحجہ کے مخصوص اعمال
(١) حج
ماہ ذی الحجہ کا سب سے بڑا عمل حج ہے، جو اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان مسجد الحرام میں حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا. (اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو) (سورۃ آل عمران: ۹۷)

(٢) یومِ عرفہ
ذی الحجہ کی نویں تاریخ یعنی یوم عرفہ نہایت بابرکت دن ہے۔ اس دن کا روزہ رکھنے کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایاکہ:مجھے اللہ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

(٣) قربانی
ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عید الاضحی منائی جاتی ہے، جس میں مسلمان سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے قربانی کرتے ہیں۔ یہ عمل اللہ کی اطاعت، ایثار اور اخلاص کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ.(اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے) (سورۃ الحج: 37)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قربانی کا اصل مقصد اخلاص اور تقویٰ ہے۔
الغرض ماہِ ذی الحجہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس کے ابتدائی دس دن عبادت کے اعتبار سے سال کے سب سے قیمتی دن ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان مبارک ایام کی قدر کریں، اپنے اعمال کو بہتر بنائیں، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں اور اخلاص و تقویٰ کے ساتھ عبادت میں مشغول رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ کی حقیقی قدر کرنے اور ان مبارک ایام سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

خامہ بکف: محمد احمد اسلمی مدھوبنی
مؤرخہ ۲۲/ ذیقعدہ ۱۴۴۷ھ