*       
 *حصولِ علم کا شوق:* 
                اپنے شہر ”بخارا“ میں حصولِ حدیث کے بعد آپ نے سفر کا پختہ عزم و ارادہ کیا ، اور اسی مقصد کے لیے بڑے طویل اور لمبے اسفار کیے ، تقریباً سارے اسلامی ممالک کی خاک چھان ڈالی ، گاؤں گاؤں اور قریے قریے کا دورہ کیا، پہاڑوں اور صحراؤں کی سخت چٹانوں اور خاردار وادیوں کی کبھی پروا نہیں کی ؛ بل کہ آپ کو صرف یہ معلوم ہوجاتا کہ فلاں شہر کی فلاں بستی میں کوئی محدث ہے، اور ان کے پاس وہ حدیث ہے جو آپ نے نہیں سنی، تو آپ فورا کمر کستے ، اور ہزارہا مصائب کے باوجود اس محدث کی خدمت میں حاضر ہو کر حدیث کا سماع کرتے ، غرض آپ نے کوئی اسلامی ملک ایسا نہیں چھوڑا، جہاں آپ بہ غرضِ حصولِ حدیث تشریف نہ لے گئے ہوں ، اس طرح آپ نے کم و بیش اٹھارہ سو شیوخ سے حدیث کا سماع کیا ۔ یقیناً یہ علمِ حدیث سے انتہائی والہانہ عشق کا نتیجہ ہے ، اور حصولِ علم کا بے پناہ شوق و جذبہ کہ آپ کے عزمِ سفر سے چٹانیں بھی چور چور ہو جایا کرتی تھیں ، آپ کی جدوجہد ، حصول حدیث میں محنت و مشقت اور راویوں کے حالات کھنگالنے کی فکر ایسی تھی کہ اس کی مثال پیش کرنا ممکن نہیں ، آپ نے اپنی زندگی کے لیل و نہار‌کو حدیث کے لیے وقف کر دیا تھا ، ہمہ وقت کتابتِ حدیث ، حفظِ حدیث اور تفتیشِ رجال ہی آپ کا مشغلہ تھا ۔ 
 *آپ کی عبقریت:* 
            آپ کو اللہ رب العزت نے آپ کی محنت، توجہ، لگن اور خداداد قوتِ حافظے کی وجہ سے علمِ حدیث میں اتنا بلند مقام عطا فرمایا تھا ، جہاں تک رسائی ہرکس و ناکس کے بس میں نہیں، آپ ایک عظیم محدث بن کر دنیا کے سامنے نمودار ہوئے ، چناں چہ احادیث میں علل کی معرفت کا میدان ہو، یا صحیح و سقیم میں امتیاز کرنے کا مسئلہ ، ہزاروں راویوں کے احوال پر اطلاع کا کٹھن مرحلہ ہو، یا اسماءِ رجال اور ان کی کنیتوں کے حفظ کا معاملہ، امام بخاری کی عبقریت نے ان تمام میدان میں جولانیاں دکھائیں ۔
         ایک طرف احادیث میں یہ امتیازی شان حاصل تھا، تو دوسری طرف فقہ میں بھی مہارت تامہ حاصل تھی، چناں چہ نعیم ابن حماد امام بخاری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ”محمد ابن اسماعیل فقیہ هذه الأمة “ ابو مصعب زہری فرماتے ہیں:” البخاري أفقه عندنا و المالك والبخاري كلاهما واحد في الفقه والحديث “. اور عبداللہ ابن عبدالرحمن کا قول ہے کہ” محمد ابن اسماعيل أعلمنا وأفقهنا “ خلاصہ یہ کہ آپ کی اجتہادی صلاحیت، تفقہ اور قرآن و حدیث سے براہ راست استنباط پر قدرت کے تمام علما قائل ہیں۔