اس ملک کے مسلمانوں کی سب سے بڑی اور سب سے افسوسناک بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں انہیں اپنا انتہائی قیمتی ووٹ بینک تو سمجھتی ہیں، ان کی وفاداریوں اور حمایت کو بار بار استعمال بھی کرتی ہیں مگر ان کی معاشی ترقی، سماجی انصاف، تعلیمی بہبود، روزگار کے مواقع اور سیاسی بااختیاری کے لیے کبھی سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کو تیار نہیں ہوتیں۔
 آزادی کے بعد سے لے کر کئی دہائیوں تک کانگریس واحد ایسی جماعت رہی جس سے ہندوستانی مسلمانوں کے گہرے جذبے اور بھروسے سے جڑے رہے۔ جس کی وجہ سے ہر سطح کے انتخابات پھر چاہے صوبائی اسمبلیوں کے ہوں یا لوک سبھا کے ہوں غرضیکہ مسلمانوں نے ہمیشہ کانگریس کے امیدواروں کو اپنی بھرپور اور غیر مشروط حمایت دی، ووٹوں کو یک طرفہ طور پر سیلاب کی طرح دے کر انہیں کامیابی کی منزل تک پہنچایا۔ مگر بدلے میں انہیں کیا ملا؟ صرف مسائل کا کوہ گراں وہ بھی ایسا جو آج بھی ان کی کمر توڑے ہوئے ہے۔
حالانکہ کانگریس کے دورِ اقتدار میں مسلمانوں نے کئی دہائیاں انتظار کیا کہ شاید ان کی قربانیوں کا بدلہ ملے مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ بلکہ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت ایک ایسا سانحہ پیش آیا کہ جس نے کانگریس کے منافقانہ کردار کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ لہذا اسی مایوسی اور غصے نے مسلمانوں کو نئی سمت دی خاص طور پر اتر پردیش جیسے بڑے صوبے میں جہاں مسلم آبادی تقریباً 19 فیصد ہے اور یہاں کے ووٹوں کی تعداد فیصلہ کن ہوتی ہے۔ وہاں ملائم سنگھ یادیو کی سماج وادی پارٹی نے مسلمانوں کی اس مایوسی کو اپنا ہتھیار بنایا۔ چنانچہ مسلمانوں نے انہیں اقتدار کی دہلیز تک پہنچا دیا۔ مگر ملائم اور ان کی پارٹی نے انفرادی طور پر چند ایک چہروں کو نمایاں کرنے اور انکی جھولی بھرنے کے علاوہ مجموعی طور پر قوم مسلم کو نظر انداز کیا۔ 
اس کے بعد بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی نے بھی یہی کھیل کھیلا۔ مسلمانوں کے نظر کرم اور ووٹوں کی بدولت وہ اتر پردیش کی چار بار وزیراعلیٰ بنیں اور ہر بار مسلم حمایت نے ان کی جیت کو یقینی بنایا۔ لیکن مایاوتی نے ذات پات کی سیاست کو تو مضبوط کیا، صوبے میں کچھ انفراسٹرکچر بنوایا جیسے پارکس اور مجسمے وغیرہ مگر مسلمانوں کے لیے کوئی خاص پروگرام نہ چلایا۔ نتیجتاً مسلمانوں کی پسماندگی جوں کی توں رہی۔ چنانچہ سچر کمیٹی کی رپورٹ (2006) نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہے۔
2012ء کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں ایک بار پھر مسلمانوں نے ملائم سنگھ کے ڈھکوسلے والےمنشور پر بھروسہ کیا اور سماج وادی پارٹی کو 226 سیٹوں تک پہنچا دیا جو اکثریت سے زیادہ تھی۔ 
اس حمایت کی شدت کا یہ عالم تھا کہ ہارنے والی مایاوتی نے تو پریس کانفرنس میں بڑے دکھ اور کرب سے کہا: "مسلمانوں نے میرے امیدواروں کو ایک بھی ووٹ نہیں دیا"۔ یہ بیان خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم ووٹوں نے کس طرح سماج وادی کی قسمت بدل دی۔ چنانچہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پارٹی مسلمانوں کے اس جذبے اور قربانی کی قدر کرتی، انہیں کابینہ میں مناسب نمائندگی دیتی، منشور کے وعدوں پر فوری عمل کرتی۔مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ بلکہ اس کے برعکس سماج وادی پارٹی کی 2012-2017 کی حکومت میں اتر پردیش بھر میں سیکڑوں چھوٹے بڑے فسادات ہوئے جنہوں نے مسلمانوں کو بری طرح جھلسایا۔
ان فسادات میں سب سے ہولناک اور سبق آموز 2013 کا مظفر نگر فساد تھا جسے محض "فساد" کہنا بھی غلط ہوگا۔ کیونکہ یہ مسلمانوں کے خلاف منظم، منصوبہ بند اور ریاستی خاموشی کی آڑ میں نسل کشی تھی۔ چنانچہ اس کا دائرہ صرف شہر تک نہ رہا بلکہ مظفر نگر اور پڑوسی ضلع شاملی کے درجنوں دیہات تک پھیل گیا۔ ہزاروں گھر جلائے گئے، دکانیں لوٹ لی گئیں، 60 سے زائد بے گناہ مسلمان بشمول بچوں اور عورتوں کی جانیں گئیں، ہزاروں زخمی ہوئے اور لاکھوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں پناہ لینی پڑی۔ اور آج بھی بہت سے متاثرین میدانوں، سڑکوں اور ندیوں کے کناروں پر بنے کچے پکے کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں، حالانکہ حکومت نے کچھ متاثرین کو معاوضہ ضرور دیا ۔مگر کیا کوئی رقم ان زخموں، یتیمیوں، بیوگیوں اور نفسیاتی صدموں کا مرہم بن سکتی ہے؟ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ فسادات کے اصلی ذمہ دار جو جھوٹے الزامات لگا کر، ہتھیار بانٹ کر، نفرت پھیلا کر تشدد بھڑکاتے رہے ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ کیا وہ جیلوں میں سلاخوں کے پیچھے ہیں؟ بالکل نہیں! وہ آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ 
اس کے علاوہ اسی سماج وادی دورِ حکومت میں ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ دادری کا اخلاق قتل (2015) تھا جو ہندوستان کی منافقت اور قانون کی اجارہ داری کو عیاں کرتا ہے۔ مرحوم اخلاق کو اپنے گھر کے فریج میں موجود گوشت کے شبہ میں بیف ہونے پر ایک ہجوم نے ماورائے قانون موت کے گھاٹ اتار دیا۔ حالانکہ بعد کی رپورٹوں نے صاف ثابت کیا کہ وہ گوشت گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا تھا۔لیکن اس وقت تک وہ بے چارہ منوں مٹی کے نیچے ابدی نیند سو چکا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ رپورٹ کے آجانے بعد بھی حکومت نے قاتلوں کے خلاف کیا کیا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مجرمین کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی گئی۔ بلکہ سونے پہ سہاگہ یہ کہ جب ایک ملزم جیل میں بیماری سے مر گیا تو اس کے اہل خانہ کو بھی اخلاق کے ورثاء کی طرح لاکھوں روپے کا معاوضہ دے دیا گیا۔ 
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی انصاف کی بالادستی ہے؟
لیکن بہرحال ان تمام ناکامیوں، وعدہ خلافیوں، فسادات، قتلوں اور دھوکوں کے باوجود اتر پردیش کے مسلمانوں نے اکھلیش یادو اور سماج وادی پارٹی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ بلکہ 2017ء کے اسمبلی انتخابات میں بھی انہوں نے پارٹی کو زندہ رکھا اور 2025ء کے لوک سبھا انتخابات میں مسلمانوں کی حمایت نے ہی سماج وادی کو تقریباً37 سیٹیں جیتنے میں مدد دی۔اور اب 2027ء کے الیکشن قریب آ رہے ہیں جو اترپردیش کی سیاسی تاریخ کا اہم موڑ ہوں گے۔ لہذا اب مسلمانوں کو سوچنا یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی ووٹ بینک بننے کو ترجیح دیں گے اور ماضی کی طرح ووٹ دینے والے غلام بنے رہیں گے یا پھر ایسی سیاسی جماعت یا ایسے لیڈروں کو تلاش کریں گےجو ان کی ترقی کو ترجیح دیں اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی سعی صحیح معنوں میں کریں گے۔