*یونیورسٹی اور مدرسے کے مسافروں کا فرق*
*تیسری قسط*
پہلی اور دوسری قسط میں ہم نے دیکھا کہ یونیورسٹی اگر جسم کی مادی ضروریات کی تکمیل کا نام ہے، تو مدرسہ روح کی بالیدگی اور کردار کی پختگی کا ضامن ہے، ہم نے تاریخ کے ان درخشندہ ستاروں کا ذکر کیا جنہوں نے بوریا نشینی کے باوجود تخت و تاج کو راستہ دکھایا، اس آخری قسط میں ہم یہ دیکھیں گے کہ آج کے پرفتن دور میں، جہاں انسانیت مادیت کی بھول بھلیوں میں گم ہو چکی ہے، مدرسہ کس طرح ایک نورِ بصیرت بن کر ابھرتا ہے۔
*ٹیکنالوجی کی روح اور مدرسے کا اعتدال* جدید یونیورسٹی ہمیں کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل دنیا کے کرشمے سکھاتی ہے، یہ علوم وقت کی ضرورت ہیں، لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ یہ مشین تو بناتے ہیں مگر مشین کا استعمال کرنے والے کی اخلاقی تربیت نہیں کرتے، اس کے برعکس، مدرسے کا مسافر جب ان علوم کو سیکھتا ہے، تو اس کے پاس *خوفِ خدا* کا وہ ترازو ہوتا ہے جو اسے بتاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانیت کی تباہی کے لیے نہیں بلکہ بقا کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یونیورسٹی کا ماہرِ ابلاغیات جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے ہنر سیکھتا ہے، جبکہ مدرسے کا تربیت یافتہ ابلاغ کار *قولِ سدید* (سچی بات) کا پاسدار ہوتا ہے، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ علم کو امانت اور اسے خالق کی رضا کا ذریعہ بنایا اور بناتے رہیں گے۔
*عالمی معیشت بمقابلہ قناعت و برکت* یونیورسٹی کے بزنس سکولز ہمیں سکھاتے ہیں کہ منافع کیسے کمایا جائے، چاہے اس کے لیے سود کا سہارا لینا پڑے یا ذخیرہ اندوزی کا، وہاں کامیابی کا معیار *بینک بیلنس* ہے، لیکن مدرسے کی چٹائی پر بیٹھ کر جس معاشیات کا درس ملتا ہے، اس کا پہلا سبق *حلال و حرام کی تمیز* اور *قناعت* ہے، یونیورسٹی کا مسافر *اکومولیشن* (جمع کرنے) پر یقین رکھتا ہے، جبکہ مدرسے کا مسافر انفاق (تقسیم کرنے) اور برکت کے فلسفے پر جیتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جب دنیا معاشی بحرانوں کی زد میں آتی ہے، تو صرف وہی نظام بچاتا ہے جو ایثار سکھاتا ہے، اور یہ درس ہمیں مدرسے کی روایت سے ملتا ہے، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ رزقِ حلال کی اہمیت اور امانت داری کا شعور دیا اور دیتے رہیں گے۔
*خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار*
جدید جامعات میں انفرادی آزادی (Individualism) کا تصور خاندانی نظام کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے، جہاں بوڑھے والدین کو اولڈ ہومز کی نذر کر دیا جاتا ہے، لیکن مدرسے کا نصابِ زندگی *وبالوالدین احسانا* سے شروع ہوتا ہے یونیورسٹی کا طالب علم حقوق کی جنگ لڑتا ہے، جبکہ مدرسے کا طالب علم فرائض کی ادائیگی کی فکر کرتا ہے، مدرسہ وہ حصار ہے جو معاشرے کو بے راہ روی سے بچا کر حیا، غیرت اور تقدسِ رشتہ کا تحفظ فراہم کرتا ہے، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ خاندانی استحکام اور تہذیب و تمدن کا تحفظ کیا اور کرتے رہیں گے۔
*دفاعِ سرحد اور نظریاتی محاذ*
یونیورسٹی کا دفاعی ماہر جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے نقشے بناتا ہے، جو بلا شبہ ضروری ہے، لیکن مدرسے کا طالب علم *نظریاتی سرحدوں* کا پہرے دار ہوتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اگر نظریہ مر جائے تو ملک صرف زمین کا ایک ٹکڑا رہ جاتا ہے، مدرسے کے انہی مسافروں نے ہر دور میں استعمار کے فکری حملوں کا منہ توڑ جواب دیا اور ثابت کیا کہ ایمان کی قوت ایٹمی طاقت سے بھی کہیں بڑھ کر ہے، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ حب الوطنی کو ایمان کا حصہ بنایا اور غیرتِ ایمانی کا سبق دیا اور دیتے رہیں گے،اے یونیورسٹی کے مسافروں تمہاری پرواز ستاروں تک ہے، اور ہماری جستجو ستاروں کے خالق تک، تمہارا مقصد *معاش (روزی) ہے، ہمارا مقصد معاد (آخرت) ہے، تم نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج تو بنا دیا، مگر اس گاؤں کے باسیوں کو سکون نہ دے سکے، آؤ اس مدرسے کی ٹوٹی چٹائی پر بیٹھ کر دیکھو، یہاں تمہیں وہ سکون ملے گا جو لیبارٹریوں اور آڈیٹوریمز میں ناپید ہے، یونیورسٹی کے ڈگری ہولڈرز شاید دنیا چلا لیں، لیکن دنیا کو بدلنے کے لیے جس کردار، ایثار اور عشقِ رسول ﷺ کی ضرورت ہے، وہ صرف اور صرف قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صداؤں سے معمور ان خانقاہوں اور مدرسوں سے ہی میسر آئے گی،* ان شاء اللہ، جب تک یہ مدارس قائم ہیں، انسانیت کے سر پر رحمت کا سایہ قائم رہے گا اور ایمان کی شمعیں روشن رہیں گی۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*