🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

انسان اس دنیا میں سکون، راحت، عزت اور محبت کی تلاش میں بھٹکتا پھرتا ہے۔
وہ سمجھتا ہے کہ دولت مل جائے تو سکون آجائے گا، شہرت حاصل ہو جائے تو دل بھر جائے گا، لوگ تعریفیں کریں تو زندگی سنور جائے گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل خوشی نہ مال میں پوشیدہ ہے، نہ شہرت میں، نہ محلات میں، نہ دنیا کی رنگینیوں میں؛ بلکہ اصل سکون صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے۔

جب بندہ اپنے رب کو راضی کر لیتا ہے تو تنگ کمرہ بھی جنت کا ٹکڑا محسوس ہوتا ہے، اور جب اللہ ناراض ہو جائے تو محلات کی چکاچوند بھی دل کے اندھیروں کو ختم نہیں کر پاتی۔
اللہ کی ناراضی وہ مصیبت ہے جسے انسان فوراً محسوس نہیں کرتا، مگر اس کے اثرات آہستہ آہستہ پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
یہ ناراضی کبھی رزق کی بے برکتی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، کبھی دل کی بے چینی میں، کبھی عبادت سے دوری میں، کبھی گناہوں سے محبت میں، اور کبھی اس خوفناک کیفیت میں کہ انسان گناہ کرتا رہے مگر اسے احساس تک نہ ہو۔

سب سے بڑی سزا یہ نہیں کہ انسان بیمار ہو جائے، غریب ہو جائے یا مشکلات میں گھر جائے بلکہ سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی یاد سے خالی ہو جائے۔

وہ ہنستا رہے مگر دل ویران ہو، لوگوں کے درمیان بیٹھا ہو مگر اندر سے تنہا ہو، رات بھر جاگتا رہے مگر آنکھوں سے سکون چھن جائے۔
یہ وہ کیفیت ہے جب اللہ کی ناراضی انسان کے باطن پر سایہ فگن ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے ناراض ہوتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے دل سے عبادت کی لذت چھین لیتے ہیں۔

نماز بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے، قرآن کھولنے کو دل نہیں چاہتا، دعا میں آنسو نہیں آتے، ذکر میں سکون نہیں ملتا۔
پھر آہستہ آہستہ انسان گناہوں کو معمول سمجھنے لگتا ہے۔
جھوٹ، غیبت، بے پردگی، حرام نظریں، تکبر، حسد — سب عام لگنے لگتے ہیں۔
اور خطرناک بات یہ ہے کہ دل توبہ کی طرف مائل نہیں ہوتا۔
جب اللہ ناراض ہو جاتے ہیں تو زندگی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
رزق بہت ہوتا ہے مگر کفایت نہیں ہوتی۔
گھر بڑا ہوتا ہے مگر سکون نہیں ہوتا۔
رشتے موجود ہوتے ہیں مگر محبت ختم ہو جاتی ہے۔
وقت ہوتا ہے مگر فائدہ نہیں ہوتا۔
انسان دوڑتا بہت ہے مگر منزل نہیں ملتی۔
یہی بے برکتی دراصل اللہ کی ناراضی کی ایک خاموش علامت ہے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا دے دیتے ہیں، مگر اپنے قرب سے محروم کر دیتے ہیں۔

دنیا مل جانا کامیابی کی دلیل نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اللہ بندے سے راضی ہو۔
کیونکہ جسے اللہ کا قرب مل گیا، اسے سب کچھ مل گیا؛ اور جو اللہ سے دور ہو گیا، وہ سب کچھ پا کر بھی محروم رہا۔
اللہ کی ناراضی انسان کے چہرے کی رونق تک چھین لیتی ہے۔
اگرچہ وہ قہقہے لگاتا رہے، بہترین لباس پہنے، لوگوں میں مقبول ہو، مگر دل کا اضطراب اس کی آنکھوں سے ظاہر ہونے لگتا ہے۔
اسے تنہائی کھانے لگتی ہے، معمولی باتیں غصہ دلاتی ہیں، چھوٹی پریشانیاں پہاڑ محسوس ہوتی ہیں، اور دل ہر وقت کسی انجانی بے چینی میں مبتلا رہتا ہے۔

کیونکہ جس دل سے اللہ کی رحمت دور ہو جائے، وہاں سکون کیسے ٹھہر سکتا ہے؟
بعض اوقات اللہ کی ناراضی کی سب سے خوفناک علامت یہ ہوتی ہے کہ انسان نصیحت سن کر بھی نہ بدلے۔
قرآن پڑھا جائے مگر دل نہ پگھلے۔
موت کا ذکر ہو مگر آنکھ نہ بھیگے۔
قبروں کی خاموشی یاد دلائی جائے مگر غفلت نہ ٹوٹے۔
یہ دل کی سختی ہے، اور دل کی سختی اللہ کی ناراضی کے اندھیروں میں سے ایک اندھیرا ہے۔

پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان کو اپنے گناہ گناہ محسوس ہی نہیں ہوتے۔
وہ معصیت میں خوشی محسوس کرتا ہے، نیکی میں سستی، اور دین والے لوگ اسے عجیب لگنے لگتے ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان بظاہر زندہ ہوتا ہے مگر اس کا دل مر چکا ہوتا ہے۔

مگر اے انسان!
اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔
اگر بندہ سچے دل سے پلٹ آئے، آنسوؤں کے ساتھ توبہ کرے، اپنے رب کے سامنے جھک جائے، اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو معاف فرما دیتے ہیں۔
وہ رب ایسا کریم ہے کہ رات کے گناہگار کو دن میں، اور دن کے گناہگار کو رات میں پکار پکار کر توبہ کی دعوت دیتا ہے۔
آج بھی وقت ہے۔
دل کو جگاؤ۔
نمازوں کو سنوارو۔
قرآن سے تعلق جوڑو۔
اپنے گناہوں پر روؤ۔

کیونکہ جب اللہ راضی ہو جاتے ہیں تو بگڑی ہوئی زندگیاں سنور جاتی ہیں، بے سکون دلوں کو قرار مل جاتا ہے، اور اندھیروں میں ڈوبا انسان بھی نور پا لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا نصیب فرمائے، اپنی ناراضی سے محفوظ رکھے، ہمارے دلوں کو زندہ فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن سے وہ محبت فرماتا ہے۔
آمین یا رب العالمین۔