*یونیورسٹی اور مدرسے کے مسافروں کا فرق*
                  *(قسط دوم)*
پہلی قسط میں ہم نے یہ عرض کیا تھا کہ یونیورسٹی اگر جسم ہے تو مدرسہ اس کی روح ہے، اور ہنر کی دنیا سے بلند ہو کر کردار کی دنیا کی تعمیر ہی مدرسے کا اصل مقصود ہے، اس دوسری قسط میں ہم تاریخ کے روشن دریچوں سے ان عظیم شخصیات کا ذکر کریں گے جن کی *ٹوٹی چٹائی* نے وقت کے تخت و تاج کو راہ دکھائی اور ثابت کیا کہ ان بوریا نشینوں کی اڑان مادی افق سے کہیں بلند ہے۔
*امام غزالی اور فلسفہِ مادہ پرستی کا تقابل* جدید یونیورسٹیوں کا نظامِ تعلیم آج بھی *ارسطو اور سقراط کے فلسفوں کو مادی پیمانوں پر پرکھتا ہے تاکہ صرف دماغی گتھیاں سلجھے ان اداروں نے بہت سے منطقی تو پیدا کیے، لیکن وہ روح کو سکون دینے میں ناکام رہے،اس کے برعکس، مدرسے کے فیض یافتہ امام غزالی* نے جب قلم اٹھایا تو یونانی فلسفے کے پرخچے اڑا دیے اور انسانیت کو *احیاء العلوم* کے ذریعے وہ راستہ دکھایا جو عقل سے شروع ہو کر عشقِ الٰہی پر ختم ہوتا ہے، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ انسانیت کو حقیقی شعور دیا اور دیتے رہیں گے، *مجدد الف ثانی اور مصلحت پسند سیاست*
یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے ماہرین اکثر مصلحت پسندی اور سیاسی سمجھوتوں کو کامیابی سمجھتے ہیں لیکن *شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی* نے مدرسے کی تعلیم سے وہ استقامت پائی کہ شہنشاہِ وقت کے خود ساختہ دین اور سجدہِ تعظیمی کے سامنے سر جھکانے کے بجائے قید و بند کی صعوبتوں کو ترجیح دی، آپ نے ثابت کیا کہ مدرسے کا طالب علم پیٹ کا نہیں، بلکہ ضمیر کا پہرے دار ہوتا ہے، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ حق گوئی کا سلیقہ دیا اور دیتے رہیں گے۔
*شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور معاشرتی نظریات* جدید جامعات میں عمرانیات (Sociology) پڑھائی جاتی ہے تاکہ معاشرتی نظم کو سمجھا جائے، لیکن وہاں مقصد صرف دنیاوی نظام کا استحکام ہوتا ہے، اس کے مقابل *شاہ ولی اللہ محدث دہلوی* نے مدرسے کی فضا میں بیٹھ کر *حجۃ اللہ البالغہ* جیسی شاہکار کتاب لکھی، جس نے سیاست، معیشت اور مذہب کے بکھرے ہوئے تار و پود کو ایک لڑی میں پرو دیا اور ڈوبتی ہوئی امت کو فکری سہارا دیا، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ قوم کو فکری رہنمائی دی اور دیتے رہیں گے۔ *غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی اور ماہرینِ نفسیات* یونیورسٹی کے ماہرینِ نفسیات انسانی اضطراب کا علاج ادویات یا سیشنز میں ڈھونڈتے ہیں، لیکن *پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانی* نے مدرسے کے علم اور تقویٰ کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے اجڑے ہوئے قلوب کو آباد کیا، آپ نے سکھایا کہ پیٹ بھرنے سے زیادہ ضروری *روح کا اطمینان* ہے، جو صرف یادِ الٰہی میں ہے مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ قلبی سکون اور روحانیت دی اور دیتے رہیں گے۔ *امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اور سائنسی محققین* یونیورسٹی کا سائنسدان صرف مادی تجربات اور لیبارٹریز تک محدود ہوتا ہے، اس کے برعکس، مدرسے کے فیض یافتہ *امام احمد رضا خان محدثِ بریلوی* نے جہاں 50 سے زائد مروجہ علوم (ریاضی، ہیئت، کیمیا، معاشیات) میں اپنی عبقریت کا لوہا منوایا، وہیں انہوں نے ہر علم کو *عشقِ رسول ﷺ* کے تابع کر کے یہ ثابت کیا کہ اصل علم وہ ہے جو خالق اور رسولِ خالق ﷺ کی پہچان کرا دے، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ علم و عشق کا سنگم دیا اور دیتے رہیں گے۔ *سلطان صلاح الدین ایوبی اور فوجی تربیت* یونیورسٹی کی ملٹری اکیڈمیز صرف جنگی حکمتِ عملی سکھاتی ہیں، لیکن *سلطان صلاح الدین ایوبی* جیسے سپہ سالار مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا ثمر تھے۔ انہوں نے نہ صرف بیت المقدس فتح کیا بلکہ اخلاقِ محمدی ﷺ کا وہ مظاہرہ کیا کہ دشمن بھی ان کی عظمت کے قائل ہو گئے۔ مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ فاتحین کو اعلیٰ اخلاق دیا اور دیتے رہیں گے۔
علامہ فضلِ حق خیر آبادی اور ماہرینِ قانون* یونیورسٹی کا وکیل دستور کی تشریح اپنے مفاد یا دنیاوی کیس کے لیے کرتا ہے، لیکن *علامہ فضلِ حق خیر آبادی* نے مدرسے سے وہ جرأت پائی کہ انگریز کے خلاف جہاد کا پہلا فتویٰ مرتب کیا اور کالا پانی کی سزا کو ہنستے ہوئے قبول کر لیا، مگر اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ غیرت و حمیت کا درس دیا اور دیتے رہیں گے۔ *مولانا جلال الدین رومی اور جدید ادباء* یونیورسٹی کے ادباء الفاظ کی جادوگری تو جانتے ہیں، لیکن *مولانا رومی* نے مدرسے کی قالین پر بیٹھ کر وہ *مثنوی* لکھی جس نے صدیوں سے تشنہ لب ارواح کو سیراب کیا، آپ نے الفاظ کو روح کے رقص میں بدل دیا اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو محبتِ الٰہی کا راستہ دکھایا، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ عشقِ حقیقی کا سوز دیا اور دیتے رہیں گے، مدرسے کی فکری گہرائی سے وہ استدلال فراہم کیا جس نے ہر دور کے باطل فتنوں کا علمی تعاقب کیا، آپ کی علمی اڑان نے دفاعِ اسلام کے لیے ناقابلِ تسخیر بنیادیں فراہم کیں، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ دفاعِ دین کی قوت دی اور دیتے رہیں گے۔ *حضرت نظام الدین اولیاء اور سماجی کارکن* یونیورسٹی کے سماجی کارکن فنڈز اور سرکاری امداد کے ذریعے کام کرتے ہیں، لیکن *محبوبِ الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء* نے اپنے مدرسے اور خانقاہ سے بغیر کسی دنیاوی لالچ کے ہزاروں بھوکوں کو کھلایا اور لاکھوں کے اخلاق کی اصلاح کی، یہ انسانیت کی خدمت کا وہ ماڈل ہے جو صرف مدارس کے فیض سے ممکن ہے، مدارسِ اسلامیہ وہ مرکز ہیں جنہوں نے ہمیشہ بے غرض خدمتِ خلق کا جذبہ دیا اور دیتے رہیں گے، ان شاء اللہ العزیز۔
اے یونیورسٹی کے مسافر! تمہاری دوڑ کیریئر(Career) تک ہے، اور ہماری تگ و دو کردار (Character) کے لیے، تم دنیا سنوارنے کے نقشے بناتے ہو، اور ہم ان نقشوں کو چلانے والے *ایمان دار انسان* تیار کرتے ہیں، ہمیں مدرسے کی اس ٹوٹی چٹائی پر فخر ہے، کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے وہ *مردِ مومن* برآمد ہوتے ہیں جن کا مقصد صرف پیٹ بھرنا نہیں بلکہ رب کی رضا اور امت کی بقا ہے۔

                *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*