بیوی اور شوہر کی گھریلو حکومت

شادی کے بعد ہر شوہر کو شروع میں یہی لگتا ہے کہ گھر میں اُس کی حکومت ہوگی۔
وہ بڑے اعتماد سے کرسی پر بیٹھتا ہے، آواز میں رعب پیدا کرتا ہے،
اور دل ہی دل میں خود کو گھر کا “چیئرمین” سمجھنے لگتا ہے۔
مگر چند ہی دنوں میں اُسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ  چیئرمینی تو کسی اور کے پاس ہیں۔😂
گھر میں پنکھا کب چلے گا،
کھانے میں آج کیا بنےگا،
کپڑے کب بدلیں گے،
کون سا رشتہ دار اچھا ہے اور کون سا “بس ٹھیک ہی ہے”…
یہ تمام فیصلے ایک خاموش مگر طاقتور نظام کے تحت ہوتے ہیں،
😂 جسے دنیا “بیوی” کہتی ہے۔
شوہر بیچارہ کبھی کبھار اپنی رائے دینے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
مثلاً کہتا ہے:
“آج دال کھالیتے ہیں۔”
بیوی فوراً جواب دیتی ہے:
“دال پرسو ہی تو بنی تھی گھر میں 
یہ سنتے ہی 
 اگلے آدھے گھنٹے میں گوشت کا آنا لازمی ہے، اب سالن بھی تیار ہے، اور ساتھ میں شوہر کی کلاس بھی۔
شوہر جب بازار سے کوئی چیز خرید کر لاتا ہے تو اُسے بڑی امید ہوتی ہے کہ تعریف ہوگی۔
مگر گھر پہنچتے ہی پہلا جملہ یہی سننے کو ملتا ہے:
“اتنی مہنگی 
آپ کو تو ہر دکاندار لوٹ لیتا ہے!”
پھر اگلے دس منٹ تک وہی چیز اُلٹ پلٹ کر دیکھی جاتی ہے، جیسے کسٹم والے اسمگلنگ کا سامان پکڑتے ہیں۔😂
بعض شوہر بڑے بہادر بن نے کی کوشش کرتے ہیں۔
غصے میں کہتے ہیں:
“خود لے آیا کریں آپ جا کے !”
ہاتھوں ہاتھ ایک زبردست جواب ملتا ہے
نکاح کیوں کیا تھا 😂
انہی چھوٹی چھوٹی نوک جھونک، بحثوں، شکایتوں اور ہلکی پھلکی ناراضیوں سے گھر میں رونق لگی رہتی ہے۔
ورنہ اکیلا آدمی تو ٹینشن میں آجاتا ہے
اسی لیے عقل مند شوہر وہی مانا جاتا ہے جو وقت پر
“جی ٹھیک ہے”
کہنا سیکھ لے…
کیونکہ گھر میں سکون دلیل سے نہیں، حکمت سے آتا ہے۔
😂 ہنس بھی لیا کرو 
عائشہ 🍁