ہم سب اللہ کے بندے ہیں بندے کا کام بندگی بجالانا، کہنا ماننا ہے ،جو بندہ بندگی سے جی چراتاہے وہ بندہ نہیں گندہ ہے،
 بندگی کا دارومدار ایمان کی اصلاح پر ہیں اس کی بندگی مقبول نہیں ہے جس کے ایمان میں خلل ہیں، اور جس کا ایمان درست ہے اس کی تھوڑی سی بندگی  قابل قدر ہے
 اس لیے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ایمان کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ایمان کے دو اجزائ ہیں: (١)خدا کو خدا سمجھنا (٢) رسول کو رسول تسلیم کرنا۔
 خدا کو خدا اس طرح سمجھا جاتا ہے  اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اسکو توحید کہتے ہیں 
اور رسول کو رسول تسلیم کرنا یہ ہے کہ انہی کی راہ اختیار کی جائے۔اس کو اتباع سنت کہتے ہیں
 توحید کی ضد شرک ہے اور سنت کی ضد بدعت ہیں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ توحید اور سنت سے چمٹ جائے انہیں سینے سے لگائے اور شرک و بدعت سے بچتا رہے اسلیے شرک و بدعت ہی متاع ایمان کے گھن ہیں جن سے ایمان جاتا رہتا ہے ۔
 اس لیے اپنے ایمان کو بچانے کی فکر کرنی
چاہیے خاص طور سے اس پر خطر دور میں،کہ لوگوں نے مختلف راہیں اختیار کر رکھی ہے  بعض باپ دادا کی رسموں پر چلتے ہیں بعض بزرگوں کے طریقے کو اچھا سمجھتے ہیں بعض لوگ علماء کے خود تراشیدہ باتوں کو بطور سند پیش کرتے ہیں اور بعض عقلی گھوڑے دوڑاتے ہیں اور دینی باتوں میں عقل کو دخل دیتے ہیں لیکن بہترین راہ یہی ہے کہ قران و سنت کو معیار بنایا جائے عقل کو نقل میں دخل نہ دیا جائے اور انہی دو چشموں سے روح کو سیراب  کیا جائے اور تشنگان حق کے متلاشیوں کو انہی چیزوں سے چمٹنا چاہئے بزرگوں کی جو بات علماء کا جو مسئلہ اور برادری کی جو رسم قرآن وحدیث کے موافق ہو اس کو مانا جائے اور جو خلاف اس کو چھوڑ دیا جائے تبھی جا کے انسان کامیاب ہے  دنیا کے اندر کامران ہیں آخرت میں کامیابی اس کا مقدر ہے اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم قران و سنت کو لازم پکڑیں اور اس کے اتباع کو ضروری قرار دیں