اُس کے باپ کا
کتنا بڑا کلیجہ ہوگا…
جو اپنی عمر بھر کی محبت
اپنی دعاؤں کا حاصل،
اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کو
لوگوں کے سامنے بٹھا کر یہ پوچھتا ہے:
“کیسی لگی میری بیٹی؟”
یہ صرف ایک سوال نہیں ہوتا…
یہ ایک باپ کا ٹوٹتا ہوا غرور ہوتا ہے،
ایک خاموش خوف ہوتا ہے
کہ کہیں
اُس کی بیٹی کو صرف رنگ، قد، شکل
یا جہیز کے ترازو میں نہ تول دیا جائے۔
آج کے حالات نے رشتوں کو عبادت نہیں،
نمائش بنا دیا ہے۔
لوگ کردار سے پہلے چہرہ دیکھتے ہیں،
تہذیب سے پہلے دولت پوچھتے ہیں،
اور انسانیت سے پہلے اسٹیٹس۔
کتنے ہی باپ
راتوں کو جاگ جاگ کر حساب لگاتے ہیں
کہ بیٹی کی خوشی خریدنے کے لیے
ابھی اور کیا بیچنا باقی ہے۔
اور کتنی ہی مائیں
چپکے سے اپنی بچیوں کے جہیز کے لئے اپنے زیورات بیچ چکی ہے
ان کو سمجھاتی ہیں
ان کی اچھی تربیت کرتی ہے
آج کل لوگوں کو سادگی نہیں پسند
عجیب زمانہ آگیا ہے۔
بیٹی اگر خاموش ہو تو مغرور،
زیادہ بولے تو بے باک،
پڑھی لکھی ہو تو مسئلہ،
کم پڑھی ہو تو بھی مسئلہ۔
ہر طرف شرطیں ہی شرطیں ہیں،
مگر انسانیت کہیں کھو گئ ہے۔
اور اُس لمحے کو ذرا محسوس کرو
جب مہمان چلے جاتے ہیں
اور باپ بیٹی کی طرف دیکھ کر
مصنوعی مسکراہٹ سے کہتا ہے:
“فکر نہ کرو بیٹا،😢
جو نصیب میں ہوگا وہی ہوگا…”
حالانکہ اُسے اندر سے معلوم ہوتا ہے
کہ آج پھر اُس کی بیٹی کو
کسی نے انسان نہیں،
صرف ایک “چیز” کی طرح پرکھا ہے۔
اس کو ترازو کے اس پلڑے میں تولا گیا ہے جہاں اخلاق کا نہیں خوبصورتی کا پلڑا بھاری ہونا چاہیے تھا
یہ دور واقعی عجیب ہے…
جہاں بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں،
مگر
لوگوں کی سوچ انہیں بوجھ بنا دیتی
لوگوں کی سوچ انہیں آئینہ دیکھنے پر اکساتی ہے
وہ خود سے سوال کرتی ہے
کیا واقعی میں اتنی بدصورت ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟
عائشہ 🍁