*یونیورسٹی اور مدرسے کے مسافروں کا فرق*
*(قسط اول)*
انسانی معاشرے میں دو نظامِ تعلیم اپنے اپنے دائرہ کار میں مصروفِ عمل ہیں، ایک وہ جو جدید جامعات (Universities) کے روشن ہالوں اور ڈیجیٹل اسکرینوں سے آراستہ ہے، اور دوسرا وہ جو مدارسِ اسلامیہ کی ٹوٹی چٹائیوں اور سادگی کے حصار میں قائم ہے، اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کا طالب علم تو ملک و قوم کی ترقی اور ایک واضح مادی مقصد کے لیے پڑھتا ہے، لیکن مدرسے کے طالب علم کا مقصدِ حیات کیا ہے؟ کیا وہ صرف مسجد و مدرسے کی حد تک محدود ہو کر اپنی معاشی ضروریات (پیٹ کی پوجا) کی فکر کرتا ہے؟ اس مغالطے کو دور کرنے کے لیے دونوں کے طریقہ کار، مقصدِ تعلیم اور معاشرتی اثرات کا گہرا مطالعہ ضروری ہے، اور اسی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے یہ لکھا ہوں،اور جو آج مدرسے کے طالب علم کو عار دلاتے ہیں انہیں ایک سبق دینا چاہتا ہوں یہ قسط اول ہے انشاء اللہ العزیز اسی پر لکھنا ہےآگے بھی۔
*ہنر سازی بمقابلہ کردار سازی*
یونیورسٹی کا نظامِ تعلیم بنیادی طور پر *کسبِ معاش* کا نظام ہے، یہاں طالب علم اس لیے تگ و دو کرتا ہے کہ وہ ایک اچھا ڈاکٹر، انجینئر، وکیل یا آئی ٹی ماہر بن کر مارکیٹ کی طلب کو پورا کر سکے، اس کا پورا زور *ہنر* سیکھنے پر ہوتا ہے تاکہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہو سکے، یہ ایک ضرورت ہے، لیکن یہ تعلیم کا کل مقصد نہیں ہے،اس کے برعکس، مدرسے کا نظام *کسبِ کمال* کا نظام ہے، یہاں طالب علم کا پہلا سبق ہی *اصلاحِ نیت* ہے، مدرسے کی ٹوٹی چٹائی پر بیٹھ کر وہ یہ سیکھتا ہے کہ تعلیم صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ خالق کے پیغام کو سمجھنے اور مخلوق تک پہنچانے کا راستہ ہے، یونیورسٹی اگر معاشرے کو *کامیاب فرد* دیتی ہے، تو مدرسہ معاشرے کو *نافع انسان* عطا کرتا ہے۔
*مادی پرواز اور روحانی وسعت کا فرق*
یونیورسٹی کے طالب علم کا مقصد *معیارِ زندگی* کو بلند کرنا ہوتا ہے، اس کی اڑان ٹیکنالوجی کے ذریعے مادی افق کو تسخیر کرنے تک ہے، وہ زمین کی تہوں اور خلا کی وسعتوں کو ناپتا ہے، جو بلاشبہ ایک علمی کمال ہے،لیکن مدرسے کا طالب علم *مقصدِ زندگی* کی تلاش میں نکلتا ہے، اس کی اڑان مسجد کی محراب سے شروع ہوتی ہے اور انسانیت کی روح تک جاتی ہے، وہ مادی کائنات کو مسخر کرنے کے بجائے اپنے *نفس* کو مسخر کرنا سیکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ اگر انسان اندر سے خالی ہو، تو مادی ترقی کا محل اسے حقیقی سکون نہیں دے سکتا، اس کی سوچ کی بلندی یہ ہے کہ وہ صرف اس فانی دنیا کے لیے نہیں، بلکہ ابدی زندگی کی کامیابی کے لیے خود کو اور پوری انسانیت کو تیار کرتا ہے۔
*قوم کی ترقی میں خاموش کردار*
یہ کہنا کہ مدرسے کا طالب علم قوم کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کرتا، ایک بہت بڑی علمی بددیانتی ہے، قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ قومیں *اخلاقیات* سے بنتی ہیں،
اگر ایک ڈاکٹر دیانت دار نہیں، تو وہ مسیحا کے روپ میں سوداگر ہے،اگر ایک انجینئر خوفِ خدا سے عاری ہے، تو اس کے بنائے ہوئے پل موت کا جال ہیں،اگر ایک تاجر کے پاس حلال و حرام کی تمیز نہیں، تو وہ معاشی دہشت گرد ہے،مدرسے کا طالب علم معاشرے کو وہ *اخلاقی ریڑھ کی ہڈی* فراہم کرتا ہے جس پر ترقی کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے، وہ معاشرے میں عدل، دیانت، وفاداری، اور انسانی ہمدردی کے بیج بوتا ہے، وہ قوم کا وہ معالج ہے جو معاشرتی برائیوں (جھوٹ، ظلم، بدکاری) کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں کرتا ہے، یہ وہ خاموش خدمت ہے جس کے بغیر کسی بھی ریاست کا نظم و ضبط برقرار نہیں رہ سکتا۔
*قناعت بمقابلہ حرص پیٹ کی پوجا کا مغالطہ*
مدرسے کے طالب علم پر *پیٹ کی پوجا کا الزام لگانا مضحکہ خیز ہے* حقیقت تو یہ ہے کہ مدرسے کا فارغ التحصیل طالب علم جتنی کم سہولیات میں جتنا بڑا کام کرتا ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی نظام میں نہیں ملتی، یونیورسٹی کا ڈگری یافتہ شخص بھاری مراعات اور پرکشش تنخواہ کے بغیر دور دراز علاقوں میں خدمات سرانجام دینے کو تیار نہیں ہوتا،جبکہ مدرسے کا طالب علم محض چند ہزار روپے کے وظیفے پر، کسی پسماندہ گاؤں کی چھوٹی سی مسجد میں بیٹھ کر نسلوں کے ایمان اور اخلاق کی حفاظت کرتا ہے، وہ فاقہ کشی کر لیتا ہے لیکن اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتا، یہ پیٹ کی پوجا نہیں، بلکہ مادیت پرستی کے اس دور میں *اعلیٰ درجے کی قربانی اور ایثار* ہے، وہ پیٹ کی فکر سے آزاد ہو کر ضمیر کی آواز پر لبیک کہتا ہے،مدرسے کی ٹوٹی چٹائی پر بیٹھنے والا طالب علم جب تاریخِ اسلام، فقہ، فلسفہ اور کلام کا مطالعہ کرتا ہے، تو وہ خود کو اس عظیم علمی زنجیر کی ایک کڑی سمجھتا ہے جس کا سرا انبیاء علیہم السلام سے ملتا ہے، اس کا مقصد کسی کمپنی کا CEO بننا نہیں، بلکہ انسانیت کا *رہنما* بننا ہے، اس کی سوچ عالمگیر ہے، وہ پوری انسانیت کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے اور اس کے حل کے لیے دن رات کوشاں رہتا ہے۔
*یاد رکھو* ونیورسٹی کا طالب علم اگر معاشرے کا *جسم* سنوار رہا ہے، تو مدرسے کا طالب علم اس کی *روح* کی آبیاری کر رہا ہے، جسم کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، اگر روح مردہ ہو جائے تو وہ محض ایک لاش بن کر رہ جاتا ہے، مدرسہ قوم کو روحانی اور اخلاقی طور پر زندہ رکھتا ہے، یہ ٹوٹی چٹائی والے شاہین وہ ہیں جن کی نظریں دنیا کے عارضی مال و متاع پر نہیں، بلکہ رضائے الٰہی اور انسانیت کی دائمی فلاح کے افق پر جمی ہوتی ہیں۔
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*