🥹*ماں کے بغیر تو گھر میں رکھی ہوئی چیز نہیں ملتی تم سکون تلاش کر رہے ہو*🥹

عرصہ دراز بعد جب میری ملاقات اپنے ایک پرانے دوست سے ہوئی، تو مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میں ایک جیتا جاگتا انسان نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی لاش سے ملنے والا ہوں، اس کے چہرے کی وہ رونق، وہ زندگی کی رمق، سب جیسے کسی گہرے بادل میں روپوش ہو چکی تھی، جب میں نے پوچھا یار کیا بات ہے؟ بہت خاموش ہو گئے ہو، سب خیریت تو ہے؟تو اس نے ایک لمبی آہ بھری، ایسی آہ جس سے کلیجہ منہ کو آتا تھا، کہنے لگا ایک سال ہو گیا، میری کائنات لٹ گئی ہے، میری ماں مجھے اکیلا چھوڑ کر دارِ بقا کی طرف کوچ کر گئی ہیں،
یہ جملہ نہیں تھا، ایک دھماکہ تھا جس نے میرے دل کی دیواریں ہلا دیں، اس کے بعد اس نے جو کچھ کہا، وہ لفظ نہیں تھے بلکہ اس کے لہو کے آنسو تھے جو الفاظ کی شکل میں بہہ رہے تھے۔ اس کے اس لازوال دکھ کو میں نے ان سطروں میں پرونے کی کوشش کی ہے۔
*اے سکون کی تلاش میں بھٹکنے والے مسافر ذرا رک جا*
ہم بھی کتنے سادہ لوگ ہیں، ہم سکون کو منصبوں میں ڈھونڈتے ہیں، ہم سکون کو آسائشوں اور محفلوں میں تلاش کرتے ہیں، جبکہ سکون تو اس بوسیدہ سے مصلے پر بیٹھا تھا جہاں ایک بوڑھی ماں اپنے کانپتے ہاتھوں کو اٹھا کر تمہارا نام لے لے کر دعائیں مانگتی تھی،حقیقت تو یہ ہے کہ ماں کے بغیر تو گھر میں رکھی ہوئی چیز نہیں ملتی، اور ہم نادان اس بے مروت دنیا میں سکون تلاش کر رہے ہیں۔
ماں صرف ایک رشتہ نہیں تھی، وہ اس گھر کا *مرکزِ ثقل* تھی، جب تک وہ زندہ تھی، گھر کی ہر چیز اپنی جگہ پر سلامت تھی، ہمیں تو اپنی جرابیں، اپنی گھڑی، اپنی کتابیں بھی بغیر ماں کو آواز دیے نہیں ملتی تھیں، امی میرا وہ سامان کہاں ہے؟ اور ماں مسکراتے ہوئے ایک ہی لمحے میں وہ چیز ہمارے سامنے رکھ دیتی تھی، آج وہی ماں نہیں ہے، تو پورا گھر بکھر گیا ہے، اب الماریاں تو ہیں مگر وہ سلیقہ نہیں رہا، کمرے تو ہیں مگر وہ خوشبو نہیں رہی، دسترخوان تو ہے مگر وہ برکت نہیں رہی۔
دوست نے روتے ہوئے کہا یار اب جب میں گھر جاتا ہوں، تو دروازے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کلیجہ پھٹتا ہے، پہلے پتہ تھا کہ اندر کوئی میری آہٹ کا انتظار کر رہا ہے، کوئی ہے جو میرے جوتوں کی آواز سے پہچان لے گا کہ میرا بیٹا آگیا ہے، اب تو تالا کھول کر خود ہی خاموش گھر میں داخل ہونا پڑتا ہے، جہاں صرف تنہائی میرا استقبال کرتی ہے،
کتنی اذیت ناک ہوتی ہے وہ خاموشی، جہاں ماں کی تسبیح کے دانوں کی آواز نہ آئے، جہاں ان کی ہلکی سی کھانسی سنائی نہ دے، جہاں کوئی یہ نہ پوچھے کہ بیٹا کھانا کھایا یا نہیں؟آج احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے امیر تھے جب ماں زندہ تھی، ہم بادشاہ تھے کیونکہ ہمارے پیچھے ایک دعا کی ڈھال تھی، اب تو ننگی زمین پر کھڑے ہیں، تپتی دھوپ ہے اور سر پر کوئی سائبان نہیں، جس گھر میں ماں کی دعا کی چھاؤں نہ ہو، وہ گھر نہیں بلکہ قبرستان کی طرح وحشت ناک ہو جاتا ہے۔
لوگو اگر تمہاری ماں زندہ ہے تو خدا کا واسطہ ہے، ان کے قدموں کو پکڑ لو، کیونکہ جب یہ دروازہ بند ہو جاتا ہے، تو پھر آسمان سے بھی کوئی خبر نہیں آتی، پھر تم تاحیات بھٹکتے رہو گے، پر سکون نہیں ملے گا، کیونکہ سکون تو اس ہستی کے ساتھ منوں مٹی تلے جا سویا ہے،
الٰہی! میرے دوست کی والدہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرما، اور ان کے بچھڑنے کے اس جان لیوا دکھ پر اسے صبرِ جمیل عطا کر، اس پر اجر عظیم عطا فرما،میرے والدین کو عمر دراز عطا فرما انکا سایہ میرے اور تمام بھائی بہنوں کے سر پر تادیر قائم و دائم فرما آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔

✍️*متعلم الجامعۃ الاشرفیہ*✍️