عزیز قارئین حضرات! 
معاشرے میں ناقدینِ اسلام کا یہ سوال کافی سرگرم ہے  کہ مذہبِ اسلام نے عورت کو اپنے ہر سفر کے لیے محرم کا پابند کیوں بنایا؟ کیا ایک مسلمان عورت تنہا لمبی مسافت کا سفر نہیں کر سکتی؟ عورت کو اس قسم کی قید کیوں؟ جب کہ مرد اس سے مستثنیٰ ہیں 
دوران مطالعہ آنے والے ایک شاندار اقتباس کے ذریعے  جواب پیش خدمت ہے 
ملاحظہ فرمائیں!  

ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخصیت جتنی محترم، عظیم
اور صاحب منصب ہوتی ہے اتنا ہی اسے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ سیاسی لیڈران، صوبوں کے وزرائے اعلی اور گورنرز، وزیر اعظم، صدر جمہوریہ، ہر ایک کو سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے، کسی کو ایکس سیکورٹی، کسی کو وائی سیکورٹی، کسی کو زیڈ سیکورٹی، کسی کو زیڈ پلس سیکورٹی۔ تحفظ ہی کے پیش نظر یہ حضرات آزادانہ نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔ بغیر جانچ اور تحقیق کے نہ کوئی ان سے مل سکتا ہے نہ یہ کسی سے مل سکتے ہیں۔ اس چیز کو ان حضرات کی توہین نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ اعزاز کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ جس کو جس معیار کی سیکورٹی حاصل ہے اسے اتناہی بڑا صاحب منصب تصور کیا جاتا ہے۔

اسلام کی نظر میں ہر عورت قدر و منزلت کی مستحق ہے۔ وہ ہر ایک کو سیکورٹی فراہم کرتا ہے اور اس کی عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ایک یا ایک سے زائد باڈی گارڈ متعین کرتا ہے۔ لڑکی کے لیے باپ، بہن کے لیے بھائی، ماں کے لیے بیٹا، بیوی کے لیے شوہر، بہو کے لیے خسر، بھتیجی کے لیے چچا، اسی طرح دوسرے قریب ترین رشتے دار۔ اسلام کہتا ہے کہ عورت اپنے روز مرہ کے کاموں کے لیے تو تنہا گھر سے باہر نکل سکتی ہے، لیکن اگر متعین مسافت سے زیادہ کا سفر کرے تو ضرور اپنے ساتھ اپنے محرم یعنی باڈی گارڈ کو لے لے۔ یہ اس کی توہین نہیں، بلکہ اعزاز ہے۔ اس کی ناقدری نہیں، بلکہ قدر افزائی ہے۔
 نادان ہیں وہ لوگ جنہیں اسلامی تعلیمات کی حکمتوں کا علم ہے۔ چنانچہ وہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو گھر کی چار دیواری میں بند کر دیا ہے اور اس کے آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں 
انہیں کیا خبر اسلام نے عورت کو اعلیٰ ترین سیکورٹی فراہم کی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے طاقت ور اور محبت کرنے والے باڈی گارڈز متعین کیے ہیں 
( اقتباس : معمار جہاں تو ہے از محمد رضی الاسلام ندوی صفحہ ٢٣ ، ٢٤ )