معلوم رہے کہ راقم اس دیارِ غیر میں تحصیلِ علم کے لیے نہیں، بلکہ افاضۂ علم کے مقدس منصب پر فائز ہونے کی غرض سے وارد ہوا ہے۔ گویا بندۂ ناچیز “طالبِ علم” نہیں بلکہ “معلّم ہے مگر حالاتِ حاضرہ نے اس دعوے کو کچھ اس انداز سے زیرِ بحث لا کھڑا کیا ہے کہ خود اپنی ذات بھی موضوعِ تحقیق بن گئی ہے۔
چنانچہ اگر اس قضیے کا دقیق علمی تجزیہ کیا جائے تو یہ امر منکشف ہوتا ہے کہ مچھر، بظاہر ایک حقیر مخلوق ہوتے ہوئے بھی، اپنے اندر ایک غیر معمولی نظامِ ادراک رکھتے ہیں۔ ان کی یہ صلاحیت کہ وہ خاص طور پر اسی حجرے کا انتخاب کرتے ہیں جہاں ایک مدرس اپنے افکارِ عمیقہ کو ترتیب دے رہا ہو، اس بات کی دلیل ہے کہ یا تو ان کے پاس کوئی سائنسی آلۂ تعینِ مقام ہے، یا پھر واقعی: “کوئی اپنا ہی غدار ہے یہاں…”
مزید برآں، اگر اس معاملے کو اصولِ فقہ کے زاویے سے دیکھا جائے تو ایک نہایت لطیف اشکال پیدا ہوتا ہے:
شریعت میں لمسِ نامحرم ممنوع ہے، مگر مچھر نہ صرف اس حکم سے بے پروا ہیں بلکہ اسے باقاعدہ نقضِ مسلسل کا نشانہ بناتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ مخلوق مکلّف ہے یا نہیں؟
اگر مکلّف نہیں تو ان پر حکم لاگو نہیں، اور اگر (بالفرض) مکلّف ہو تو پھر یہ فسقِ صریح کے مرتکب قرار پائیں گے—اور اس صورت میں ان پر “حدِّ تعزیر” کا نفاذ بھی محلِ نظر ہوگا! مگر افسوس کہ عملی دنیا میں ان پر کسی قسم کی تعزیری کاروائی ممکن نہیں، لہٰذا یہ مسئلہ فی الحال معلّق ہی رہتا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے بھی یہ مخلوق نہایت ذکی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ یہ ہمیشہ اس وقت حملہ آور ہوتی ہے جب مدرس دن بھر کی تدریسی مشقت کے بعد بسترِ استراحت پر نیم دراز ہو کر تجزیۂ دروس میں مصروف ہوتا ہے۔ گویا یہ حملہ نہیں بلکہ ایک امتحانِ استقامت ہے، جس کے ذریعے مدرس کے صبر کا درجہ متعین کیا جاتا ہے۔
الغرض، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تعلیم و تدریس کا یہ سفر محض افکار کی ترسیل کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہت مجاہدہ ہے جس میں کبھی شاگردوں کے سوالات، اور کبھی مچھروں کے حملات، دونوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنا پڑتا ہے آخر میں انسان اسی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ: جو شخص تدریس کے ساتھ ساتھ مچھروں کے مسلسل حملوں کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کر لے، وہ صرف “مدرس” نہیں بلکہ “مجاہدِ تدریس و مچھران” کہلانے کا حقیقی مستحق ہے! 😄

محمد مصعب پالنپوری