آج بزمِ درسِ نظامی میں ایک نیا منظر نامہ ابھرا فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار بندہ طالبِ علم کی صف سے اٹھ کر مسندِ تدریس پر جلوہ افروز ہوا۔ “عقیدۃ الطحاویہ” جیسی شہرۂ آفاق، دقیق المعانی اور جلالتِ شان کی حامل کتاب پڑھانے کی سعادت نصیب ہوئی تو دل میں شکر و خشیت کی ملی جلی کیفیت موجزن ہو گئی۔ یوں لگا گویا ایک کم مایہ قطرہ بحرِ معانی کی ترجمانی پر مامور کر دیا گیا ہو۔
جب زبان سے الفاظِ متن ادا ہوئے اور ان کی تشریح کا سلسلہ شروع ہوا تو احساس ہوا کہ یہ محض تدریس نہیں، بلکہ امانت ہے عقائدِ اہلِ سنت کی وہ متین بنیاد، جسے دلوں میں راسخ کرنا ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ ہر جملہ وضاحت چاہتا، ہر عبارت تحقیق کی طالب، اور ہر نکتہ اپنے اندر ایک جہانِ معنی سمیٹے ہوئے۔
مگر حضرت! اس وقار آفریں منصب کے ساتھ ایک نہایت “دلچسپ تضاد” بھی چل رہا ہے 😄
ادھر بندہ “عقیدہ” کے دقیق مسائل، “ایمانیات” کے باریک نکات، اور “توحید” کے عظیم مباحث پوری شان سے پڑھا رہا ہے…
اور اُدھر اپنی ذاتی زندگی کا ایک نہایت اہم باب یعنی “ازدواج” ابھی تک زیرِ التواء! 😅
طلبہ کے سامنے جب پورے اعتماد سے کہتا ہوں:
“دین کامل ہے، اس میں کوئی نقص نہیں…”
تو دل کے کسی گوشے سے ایک ہلکی سی آواز آتی ہے:
“حضرت! دین تو کامل ہے… مگر آپ کا ‘فیملی سیکشن’ ابھی خالی ہے!” 😂
کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں “عقیدۃ الطحاویہ” کے ابواب تو بڑی مہارت سے کھول رہا ہوں، مگر اپنی زندگی کا “بابُ النکاح” ابھی تک بند ہی پڑا ہے اور چابی بھی شاید کہیں “قسمت کے لاکر” میں محفوظ ہے! 😄
طلبہ سوال کرتے ہیں، میں جواب دیتا ہوں؛
وہ اشکالات پیش کرتے ہیں، میں ان کی گرہیں کھولتا ہوں؛
مگر جب تنہائی میں خود سے سوال کرتا ہوں:
“حضرت! آپ کے اپنے معاملات کا کیا بنا؟”
تو جواب آتا ہے:
“وہ باب ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے!” 😅
بہرحال، یہ بھی ربِّ کریم کا فضلِ عظیم ہے کہ ایسے عظیم متن کی تدریس کا شرف حاصل ہوا۔ یہ محض علم نہیں، بلکہ امانتِ دین ہے جسے اخلاص، تقویٰ اور فہم کے ساتھ آگے منتقل کرنا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تدریسی سفر کو بابرکت بنائے، زبان میں تاثیر، دل میں اخلاص، اور فکر میں رسوخ عطا فرمائے۔
اور ساتھ ہی—اپنی رحمتِ کاملہ سے—اس عاجز کی زندگی کے “نامکمل باب” یعنی “ازدواج” کو بھی شرفِ تکمیل بخش دے، تاکہ بندہ صرف “استادِ عقیدہ” ہی نہ کہلائے… بلکہ “صاحبِ خانہ” بھی بن جائے! 😄
ورنہ اندیشہ ہے کہ کل کو طلبہ کہیں یہ نہ کہہ دیں:
“حضرت! آپ نے ہمیں تو ‘عقیدہ’ خوب سمجھا دیا…
اب ذرا ‘عملی زندگی’ کا عملی نمونہ بھی پیش فرما دیں!” 😂