کل جب میں درسگاہ کی فضا میں داخل ہوا اور حسبِ معمول اپنی کلاس کی طرف بڑھا تو اعدادیہ کا ایک طالبِ علم آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا میرے پاس آیا۔ اس کے چہرے پر زردی، آنکھوں میں تھکن، اور لہجے میں کمزوری نمایاں تھی۔ قریب آ کر نہایت دھیمے انداز میں کہنے لگا: “حضرت! دو تین دن سے بخار بار بار آ رہا ہے، جسم میں بہت کمزوری محسوس ہو رہی ہے۔”
میں نے شفقت کے ساتھ اس کی کیفیت سنی، اسے مناسب دوا دی، اور تسلی دیتے ہوئے کہا: “بیٹا! تم وقفے میں دوبارہ آنا، دیکھتے ہیں طبیعت میں کچھ افاقہ ہوا یا نہیں۔” وہ سر ہلا کر چلا گیا، مگر اس کے چہرے کی پژمردگی دل میں ایک ہلکی سی تشویش چھوڑ گئی۔
وقفہ ہوا، طلبہ اپنی اپنی مصروفیات میں مشغول ہو گئے۔ اتفاق سے اس وقت میرا گھنٹہ خالی تھا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہی طالبِ علم دوبارہ میرے پاس آ بیٹھا۔ اب اس کے چہرے پر صرف بیماری کا اثر ہی نہیں تھا، بلکہ ایک انجانی اداسی، ایک دبی ہوئی کسک، اور ایک خاموش فریاد بھی جھلک رہی تھی۔ میں نے نرمی سے پوچھا: “کیسا محسوس کر رہے ہو؟ کچھ آرام آیا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر گویا دل کے بند دروازے کھل گئے ہوں۔ آہستہ آہستہ اس نے اپنی داستانِ الم سنانی شروع کی ایک ایسی داستان جس میں درد بھی تھا، محرومی بھی، اور عزم و حوصلے کی ایک روشن کرن بھی۔
کہنے لگا: “حضرت! میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ ہم دو بہن بھائی ہیں، اور میری بہن ابھی بہت چھوٹی ہے۔ والدہ کے جانے کے بعد والد صاحب نے ہمیں چھوڑ دیا اور دوسری شادی کر لی۔ اب ہم اپنے نانا کے پاس رہتے ہیں…”
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرانے لگی۔ میں نے اس کے جذبات کو محسوس کرتے ہوئے نہایت نرمی سے دریافت کیا: “تمہاری والدہ کو کیا ہوا تھا؟”
اس نے نم آنکھوں کے ساتھ جواب دیا:
“گھر میں پانی نہیں تھا… امی محلے میں پانی بھرنے کے لیے گئی تھیں۔ وہاں اچانک ان کا پاؤں پھسل گیا، اور سر میں شدید چوٹ لگ گئی۔ ہم نے بہت علاج کروایا، آپریشن بھی ہوا… مگر شاید زندگی کو یہی منظور تھا۔ وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں…”
چند لمحے فضا پر سکوت طاری رہا۔ اس کے بعد اس نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
کہنے لگا:
“حضرت! میں یہاں مدرسے میں اپنی والدہ کی وصیت کی وجہ سے آیا ہوں۔ آخری وقت میں انہوں نے میری نانی سے کہا تھا: ‘میرے بچے کو مدرسے میں بھیجنا، اسے عالم اور حافظ بنانا۔’ اب چاہے مجھ پر کتنی ہی سختیاں کیوں نہ آئیں، میں ہر تکلیف برداشت کروں گا… لیکن اپنی والدہ کی اس آخری امید کو ضرور پورا کروں گا۔”
یہ الفاظ سن کر دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ آنکھیں نم ہو گئیں، اور ذہن ایک گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ایک طرف یہ کم سن بچہ ہے، جس کے سر سے ماں کا سایہ اٹھ چکا ہے، باپ کی شفقت بھی میسر نہیں، حالات کی سختیاں ہر قدم پر اس کا امتحان لے رہی ہیں—مگر اس کے دل میں ایک چراغ روشن ہے: ماں کی آخری خواہش کو پورا کرنے کا چراغ۔
اور دوسری طرف ہم ہیں جو اپنے بچوں کے لیے دنیا کی آسائشوں، تعلیمِ دنیا، اور مادّی ترقی کے لیے تو بے چین رہتے ہیں، مگر اکثر ان کی دینی تربیت، ان کی آخرت کی کامیابی، اور ان کے رب سے تعلق کی فکر سے غافل ہو جاتے ہیں۔
یہ واقعہ محض ایک طالبِ علم کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے کے لیے ایک خاموش پیغام ہے؛ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہماری ترجیحات دکھاتا ہے۔ یہ ہمیں جھنجھوڑ کر کہتا ہے کہ اولاد کے لیے صرف دنیا نہیں، بلکہ آخرت کی فکر بھی ضروری ہے کیونکہ اصل کامیابی وہی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔
محمد مصعب پالنپوری