ہم سب اس دنیا کے قلی ہیں
زندگی ہمارے لیے کبھی آسان نہیں رہی
یہ تو بس ایک لمبا راستہ ہے،
اور ہم اس پر قلیوں کی طرح چل رہے ہیں…
کندھوں پر بوجھ رکھے، قدم گھسیٹتے ہوئے۔
پتا نہیں یہ بوجھ کہاں سے آیا
کبھی لگتا ہے ٹوٹے ہوئے خواب کا
کبھی خیال کا،
کبھی احساس کا،
کبھی مال و دولت کا،
اور کبھی وجود کا۔
کبھی کسی کے چھوڑ جانے کا
کبھی اپنے ہی نصیب کا
یہ زندگی ایک مسافت ہے، جہاں ہر شخص اپنی گٹھڑی اٹھائے چل رہا ہے
ہم نے بھی چاہا تھا کہ کوئی ہمیں سمجھے…
کوئی ساتھ دے…
پر اب تو ایسا لگتا ہے کہ ہم خود ہی اپنے ساتھ رہ گئے ہیں۔
دن میں لوگوں کے بیچ ہنس لیتے ہیں…
ایسے جیسے سب ٹھیک ہے…
مگر اندر سے کچھ ٹوٹا ہوا ہے،
جو ہر وقت چبھتا رہتا ہے۔
رات کو جب سب سو جاتے ہیں…
تو دل جاگتا رہتا ہے…
اور یہ بوجھ اور بھی بھاری ہو جاتا ہے۔
کبھی دل کرتا ہے سب چھوڑ دیں
پر پھر سوچتے ہیں
قلی بھلا اپنا بوجھ کہاں چھوڑ سکتا ہے؟
اس کا کام بس اٹھانا ہوتا ہے
قلی کے نصیب میں کچھ نہیں، صرف وزن ہے۔ نہ وہ سامان کا مالک ہوتا ہے، نہ اس کی منزل کا۔ وہ صرف کندھے جھکا کر بوجھ اٹھاتا ہے اور چلتا رہتا ہے
چاہے تھک جائے،
ٹوٹ جائے…
یا اندر سے خاموش ہو جائے۔
ہم بھی بس بوجھ اٹھا رہے ہیں
اپنی طاقت سے زیادہ…
اپنی ہمت سے زیادہ…
اور چل رہے ہیں…
بغیر یہ جانے کہ کہاں رکنا ہے۔
شاید یہی زندگی ہے…
اور شاید ہم بھی بس قلی ہی ہیں…
جو جیتے کم ہیں…
اور اٹھاتے زیادہ ہیں۔
عائشہ 🍁