قربانی کی حقیت
قربانی کی حقیقت فناء نفس ہے (اپنے نفس کی مخالفت کرنا)۔۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذبح ولد کا حکم دیا تھا نہ کہ خود کو ذبح کرنے کا حکم دیا تھا ۔کیوں کہ اپنےآپ کوذبح کرنا اور ختم کرنا آسان ہے ۔اسکے مقابلے میں اپنی اولاد کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا اور مارنا دشوار ومشکل ہے جیساکہ دیکھا جاتا ہے کہ جب ڈاکو یا کویی شخص باپ کے سامنے بیٹے کو جان سے مارنا چاہے تو باپ کہتا ہے کہ مجھے ماردو میرے بیٹے کو کچھ نہ کہو ۔۔۔
اللّٰہ نے ابراہیم کو خود کو ذبح کرنے کے بجائے اسماعیل کو ذبح کا حکم دیا تھا یہ فناء نفس کی اعلی ترین مثال ہے کہ اسماعیل اکلوتے اور سب سے دلارے بیٹے تھے ان سے محبت ہونا فطری چیز تھی جس کی بناء پر دل چاہے گا کہ میں نہ رہوں مگر میرا بیٹا محفوظ رہے
لیکن ابراہیم علیہ السلام نے حکم خدا پر عمل پیرا ہوکر مخالفت نفس اور فناء نفس کی زبردست نظیر پیش کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللّٰہ تعالیٰ نے ذبح ولد کے مقابلے میں جانور کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے ۔ہم پر شفقت فرمایا ہے ۔۔اللہ تعالیٰ نے اگرچہ جانور قربان کرنے کا حکم دیا ہےمگر قربانی کی حقیقت اس میں بھی موجود ہونی چاہیے کہ جس جانور کی قربانی کی جائے وہ اس طرح کا ہو کہ قربانی کرنے والے کا محبوب ہو اسکو جانور سے خوب محبت ہو جیسے آدمی کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے تاکہ قربانی کے وقت محسوس ہو کہ ہم جانور کو اللہ کے راستے میں ذبح کررہے ہیں ولکن ینالہ التقوی منکم پر عمل پیرا ہوسکے ۔۔اسکی جیتی جاگتی مثال
ہمارے اکابرین میں سے حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رح ہیں ان کے بارے میں آتا ہے کہ
حضرت شیخ الھند رحمۃ اللہ علیہ کی عادت شریفہ تھی کہ ھر سال قربانی کے لیے بچھڑا خریدا کرتے تھے ۔ سال بھر تک اس کی خوب خاطر کرتے اور اپنی اولاد کی طرح رکھتے تھے ۔ ایک دفعہ جو بچھڑا خریدا وہ آپ سے بہت زیادہ مانوس ھوگیا ۔ حضرت جب دارالحدیث درس دینے کے لیے تشریف لے جاتے تو وہ بچھڑا بھی ھمراہ جاتا اور دارالحدیث کے باھر بیٹھ جاتا ۔ جب آپ سبق سے واپس ھوتے تو بچھڑا بھی آپ کے پیچھے پیچھے واپس ھوتا ۔ لیکن جب قربانی کا دن آیا تو حضرت شیخ الھند رحمۃ اللہ علیہ نے تعمیلِ حُکمِ خداوندی میں خود اپنے دستِ مبارک سے اُس کو ذبح کیا ۔ راوی کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت کی یہ حالت تھی کہ ہاتھ سے چھری چلا رہے تھے اور آنکھوں سے اشک ریزاں تھے ۔ ( تذکرہ شیخ الھند : 168)
اور یہ صرف ایک دفعہ ھی کا واقعہ نھیں ھے ، بلکہ حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوھی رحمۃ اللہ علیہ کی تصریح کے مطابق یہ حضرت شیخ الھند رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ وہ جانور خود پالتے ، اُسے خود چارہ کھلاتے ، ایام قربانی جب قریب ھوجاتے تو گھاس میں کمی کردیتے اور بالٹی بھر کر دودھ جلیبی کھلاتے ، اور پھر یوم نحر (۱۰ ذوالحجہ) کو قربان کرکے ’’لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ‘‘ پر عمل کرتے ۔
(ملفوظات فقیہ الامت : 105/1)
محمد شعیب قاسمی موتی پوری
خادم التدریس مدرسہ دارالرشاد بنکی بارہ بنکی