🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دل کے اندر جذبات کا ایک سمندر موجزن ہوتا ہے، مگر زبان کنارے پر آ کر ٹھہر جاتی ہے۔ احساسات اپنی پوری شدت کے ساتھ دل کی دیواروں سے ٹکراتے ہیں، مگر لفظ ان کی ترجمانی سے قاصر رہتے ہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ اپنے اندر کے طوفان کو بیان کرے، اپنی کیفیت کو دنیا کے سامنے رکھے، مگر ہر بار الفاظ اس کے ساتھ وفا نہیں کرتے… اور تب دل سے بس یہی صدا ابھرتی ہے: الفاظ کم پڑ گئے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب خاموشی بولنے لگتی ہے، اور آنکھیں وہ سب کچھ کہہ جاتی ہیں جو زبان ادا نہیں کر پاتی۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا، اور کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی وسعت کو الفاظ کا دامن سمیٹ نہیں سکتا۔ انسان جتنا بھی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو، کچھ کیفیات ایسی ہوتی ہیں جو بیان سے ماورا ہوتی ہیں، جو لفظوں کے قالب میں ڈھلنے سے انکار کر دیتی ہیں۔
محبت ہو، جدائی ہو، یا پھر کسی عزیز کا بے لوث ساتھ—ہر جذبہ اپنی ایک الگ زبان رکھتا ہے۔ محبت کی گہرائی کو ناپنے کیلئے الفاظ ناکافی ہیں، اور جدائی کے کرب کو بیان کرنے کیلئے جملے ادھورے۔ کبھی ایک نظر، ایک آہ، ایک خاموش آنسو… وہ سب کچھ کہہ دیتے ہیں جو ہزاروں الفاظ بھی نہیں کہہ سکتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی بے بسی کو تسلیم کرتا ہے، اور مان لیتا ہے کہ واقعی الفاظ کم پڑ گئے۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں الفاظ کی بہتات ہے، مگر احساس کی کمی۔ لوگ بولتے بہت ہیں، لکھتے بہت ہیں، مگر دل سے نکلنے والے الفاظ کم ہو گئے ہیں۔ شاید اسی لیے سچی بات، سچا درد، اور سچی محبت جب سامنے آتی ہے تو اس کیلئے کوئی مناسب لفظ نہیں ملتا۔ کیونکہ سچ ہمیشہ سادہ ہوتا ہے، اور سادگی کو بیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں، بلکہ اخلاص درکار ہوتا ہے۔
کبھی سوچا ہے کہ دعا کے وقت کیوں آنکھیں نم ہو جاتی ہیں؟ کیوں زبان رک جاتی ہے اور دل ہی دل میں باتیں ہونے لگتی ہیں؟ اس لیے کہ وہاں الفاظ کی نہیں، احساس کی اہمیت ہوتی ہے۔ رب کے حضور کھڑے ہو کر انسان اپنی کمزوری، اپنی حاجت، اپنی محبت—سب کچھ بغیر لفظوں کے بھی بیان کر دیتا ہے۔ اور وہی لمحہ سب سے سچا، سب سے خالص ہوتا ہے… جہاں واقعی الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، مگر دل بھر جاتا ہے
انسان کی اصل پہچان اس کے الفاظ نہیں، بلکہ اس کے احساسات ہیں۔ لفظ تو صرف ایک ذریعہ ہیں، اصل حقیقت وہ جذبہ ہے جو دل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اور جب جذبہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، تو پھر زبان خاموش ہو جاتی ہے… اور یہی خاموشی سب سے بلند صدا بن جاتی ہے۔
کیونکہ بعض اوقات… واقعی الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔