🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

معاشرہ انسانی اقدار، رحم، محبت اور عدل و انصاف کے اصولوں پر استوار ہوتا ہے، مگر جب یہی معاشرہ اپنی ہی بیٹیوں کے لیے آزمائش بن جائے تو یہ المیہ صرف ایک فرد یا خاندان کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا زوال ہوتا ہے۔ جہیز کی رسم بھی اسی زوال کی ایک المناک تصویر ہے، جو نہ صرف نکاح جیسے مقدس بندھن کو کاروبار میں بدل دیتی ہے بلکہ بیٹیوں کی عزت و وقار کو بھی نیلام کر دیتی ہے۔

نکاح، جو کہ محبت، اعتماد اور دو دلوں کے پاکیزہ تعلق کا نام ہے، آج کل مادی تقاضوں اور دنیاوی حرص کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ ایسے لوگ، جو جہیز کی بنیاد پر رشتوں کو قبول یا رد کرتے ہیں، دراصل انسانیت کے اعلیٰ ترین اصولوں کی نفی کرتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے ایک معصوم بیٹی کے خوابوں کو روند دیتے ہیں، اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں اور اس کے خاندان کو کرب و اذیت کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔

کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں بیٹیاں صرف اس لیے بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین جہیز کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ وہ باپ، جو اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتا ہے، اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کرتا ہے، مگر معاشرے کے ظالمانہ تقاضے اس کی محبت کو بھی ناکافی قرار دیتے ہیں۔ نتیجتاً، بیٹیاں عمر کی دہلیز پار کر جاتی ہیں، ان کے خواب مرجھا جاتے ہیں اور ان کے دلوں میں احساسِ محرومی گھر کر لیتا ہے۔

اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ یہ ظلم صرف انکار تک محدود نہیں رہتا۔ کبھی یہی جہیز کی لعنت ایک بیٹی کی جان لے لیتی ہے۔ کہیں اسے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے، کہیں اسے زندہ جلا دیا جاتا ہے، اور کہیں اسے بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ واقعات نہ صرف انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہیں بلکہ ہمارے معاشرتی ضمیر کی موت کا اعلان بھی ہیں۔

جہیز مانگنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک انسان نہیں، بلکہ ایک قیمتی امانت کو قبول کر رہے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بیٹی کوئی بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ محبت اور عزت کا برتاؤ ہونا چاہیے، نہ کہ اسے دولت کے ترازو میں تولا جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس فرسودہ روایت کے خلاف آواز بلند کریں۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی، نکاح کو آسان بنانا ہوگا اور بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کی بجائے ان کی قدر کرنی ہوگی۔ معاشرے کے ہر فرد کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ جہیز جیسی لعنت کو جڑ سے ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس معاشرے میں بیٹیوں کی عزت محفوظ نہ ہو، وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی، اپنے اعمال درست کرنے ہوں گے، تاکہ ہماری بیٹیاں خوف نہیں بلکہ وقار اور خوشی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہی حقیقی کامیابی ہے، اور یہی انسانیت کا اصل حسن ہے۔