اگر مسلمانوں کو واقعی بی جے پی کو روکنا ہے تو کھل کر اسی کا سمرتھن کرنا چاہیے؛ اس میں دو عظیم فائدے پوشیدہ ہیں۔ اول یہ کہ اس سے جمہوریت کے اس ملمع ساز چہرے سے نقاب اتر جائے گا جس کے پیچھے اکثریتی جبر، تعصب اور سیاسی فریب نے برسوں سے پناہ لے رکھی ہے۔ جب مظلوم اپنے ظالم کی تائید پر مجبور یا آمادہ دکھائی دے گا تو دنیا پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ یہ تعلق رضامندی کا نہیں، بلکہ سیاسی جبر کے ایک تلخ باب کا عنوان ہے۔ اس سے وہ خوش فہمی بھی دفن ہو جائے گی کہ انتخابی نعروں، نمائشی وعدوں اور وقتی مراعات سے کوئی اصولی تبدیلی ممکن ہے۔ یوں باطل کا چہرہ خود اپنے ہاتھوں بے نقاب ہوگا، اور یہی پہلا فائدہ ہے: فریب کا پردہ چاک ہونا۔
دوسرا فائدہ اس سے بھی زیادہ معنی خیز ہے۔ وہ یہ کہ جب دشمنی پردۂ مصلحت سے نکل کر اعلانیہ صورت اختیار کر لے، تو منافقت کا بازار سرد پڑ جاتا ہے۔ وہ عناصر جو دوغلی سیاست، مصلحت پرستی اور نام نہاد سیکولر بازی گری کے ذریعے مسلمانوں کو ہمیشہ دھوکے میں رکھتے آئے ہیں، ان کے چہروں سے بھی نقاب اتر جائے گا۔ دوست اور دشمن کی حدیں واضح ہوں گی، صفیں ممتاز ہوں گی، اور قوم اس ذہنی انتشار سے نکلے گی جو ہر الیکشن کے موسم میں امید اور فریب کے درمیان معلق رہتا ہے۔ کھلا تصادم کبھی کبھی مبہم مصالحت سے بہتر ہوتا ہے، کیونکہ زخم عیاں کا علاج ممکن ہوتا ہے، مگر پوشیدہ ناسور قوموں کو اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔
یہ بات دراصل سمرتھن کی دعوت نہیں، بلکہ ایک طنزیہ احتجاج ہے—اس سیاسی ڈھانچے کے خلاف جس نے مظلوم کو اس نہج پر لا کھڑا کیا کہ وہ اپنے مخالف کی تقویت میں بھی حکمت ڈھونڈنے لگے۔ گویا پیغام یہ ہے کہ جب باطل کے خلاف ہر دروازہ بند کر دیا جائے، تو اس کی مکمل جلوہ گری ہی اس کے زوال کی تمہید بن سکتی ہے۔ کبھی کبھی ظلم کو اس کے آخری منطقی انجام تک پہنچنے دینا ہی اس کے انہدام کی ابتدا بنتا ہے۔ اور یہی وہ دو فائدے ہیں: نقاب فریب کا چاک ہونا، اور صف حق و باطل کا نمایاں ہوجانا۔