اظفر منصور
مؤرخہ 20-21-22 اپریل کی مشترکہ قسط!!!!
نوٹ! اس قسط میں اسلام میں نکاح کی اہمیت، جہیز کی لعنت، ہمارے گاؤں کی شادیوں کے حالات تبصرہ ہے۔
عین تعلیمی سال کی ابتداء کے موقع پر گھر آنے کا مقصد بھائی کی شادی میں شرکت ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ حفظ سے اب تک یعنی پورے آٹھ نو سالوں میں شاید یہ دوسری دفعہ ہے کہ جب کسی تقریب میں شرکت کے لئے گھر جانے کی نوبت آئی، ورنہ کتنے ہی ایام، تقریبات، پروگرام وغیرہ کو اسکرین پر ہی دیکھ کر گزر جانا پڑا۔ البتہ اس دفعہ شرکت تمام نقصانات کے بعد بھی ضروری تھی۔ اس لیے عین ایسے موقع پر جب کہ کیمپس میں جمعیۃ الاصلاح کی سرگرمیوں کا دور دورہ تھا گھر جانے کا نہ صرف ارادہ بنایا بلکہ گزشتہ کل پہنچ بھی چکے تھے۔ آج تو تیاریوں کا آخری دن تھا۔ بھائی وغیرہ مارکیٹ کی خاک چھان رہے تھے تو دوسری سمت خواتین گھر کی نظافت کو بیمثال بنانے کے لیے کوشاں تھیں۔ مہمانوں کی آمد اور بچوں کے شور و ہنگامہ کے درمیان یہ دن تمام ہوا۔ اور پھر آئی وہ تاریخ جس کے لیے یہ ساری مجلس سجی تھی، گھر میں رونق تھی، چہرے پر مسکان کے نمایاں اثرات تھے، اور جس کے لیے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی دید و پلک بچھائے بیٹھے تھے۔ یعنی نکاح کی تاریخ 21 اپریل۔
اسلام میں نکاح کی اہمیت!!!
مذہب اسلام کی یہ خاصیت ہے کہ اس کا دائرہ اثر صرف عبادات تک محدود نہیں۔ بلکہ اس کی رہنمائی تمام انسانی تقاضوں کو محیط ہے، زندگی کا کوئی شعبہ، کوئی مرحلہ، کوئی جزء، کوئی انگ ایسا نہیں ہے جس سے تعلیمات اسلامی ہم آہنگ نہ ہو۔ بشری تقاضوں میں ایک جنسی تقاضا بھی ہے، جو ہر مرد و عورت کے ساتھ لازم واقعہ ہے، تقریباً تمام مذاہب میں اس تقاضے کی تکمیل کے کچھ اصول بھی مرتب ہیں، جس سے دونوں مخالف جنسوں کے درمیان ایک مستقل اور پائیدار تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔
اسلام میں بھی نکاح کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ یہ محض خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ ایک فطری، اخلاقی اور روحانی ضرورت ہے۔ اسی لیے شریعت نے اسے عبادت قرار دیا اور انبیاء کرام کی سنت بتایا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے: “النکاح من سنتی” یعنی نکاح میری سنت ہے، اور ایک دوسری روایت میں فرمایا: “اذا تزوج العبد استکمل نصف الدین” کہ جب بندہ نکاح کرتا ہے تو اپنا آدھا دین مکمل کر لیتا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں ارشاد ہے: “وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا… وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً” جس سے واضح ہوتا ہے کہ نکاح انبیاء کی سنت رہا ہے۔
نکاح کی حکمت یہ ہے کہ یہ انسان کو پاکیزگی اور اعتدال کی زندگی عطا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: “یا معشر الشباب… من استطاع منکم الباءة فلیتزوج فانه اغض للبصر واحصن للفرج” یعنی جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نگاہ کو جھکانے اور پاکدامنی کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو استطاعت نہ رکھے وہ روزہ رکھے۔
قرآن کریم نکاح کے روحانی و نفسیاتی فائدے کو یوں بیان کرتا ہے: “لِتَسْكُنُوا اِلَيْهَا” یعنی میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح صرف جسمانی نہیں بلکہ قلبی اور ذہنی سکون کا بھی سبب ہے۔ اسلام نے رہبانیت کو رد کیا۔ جب بعض صحابہؓ نے دنیا سے کنارہ کشی اور نکاح ترک کرنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “فمن رغب عن سنتی فلیس منی” جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ میں سے نہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نکاح سے دوری اختیار کرنا پسندیدہ نہیں۔ دوسری طرف، اسلام نے بے لگام آزادی کو بھی مسترد کیا۔ اگر انسان نکاح جیسے جائز راستے کو چھوڑ دے تو وہ ناجائز طریقوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے، جس سے معاشرہ بگڑتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے انسانی فطرت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: “فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا” یعنی انسان کو اسی فطرت پر قائم رہنا چاہیے۔
ہمارے گاؤں میں شادی کا ماحول!!!
شادی بیاہ کے مذہبی اصول و ضوابط طے ہو جانے کے باوجود ہندوستان میں کچھ ایسی رسومات باقی ہیں جن کا تعلق قدیم ہندوستان اور اس وقت کے حالات کا اثر ہیں۔ نیز آئے دن ان فضول رسموں میں کچھ نہ کچھ حذف و اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ پورے ہندوستان میں جہیز ایک لعنت کی طرح تمام مذاہب خصوصاً ہندوازم میں عام ہے، اسلام تو جہیز کی مخالفت کرتا ہے مگر اس کے باوجود مسلمانوں میں یہ مرض نہ صرف موجود ہے بلکہ وقت کے ساتھ پنپ رہا ہے۔ ایسا کیوں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم ہندوستان میں جب یہاں راجاؤں کی حکومت تھی تو ہندؤوں میں شادی بیاہ کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے دولہے کو خوب خوب سامان دینے کا رواج تھا، جو جتنا امیر ہوتا اتنی ہی شان و شوکت سے قافلہ در قافلہ جہیز کی نمائش کراتا ہوا پا پیادہ سسرال پہنچاتا۔ اسی کا اثر مسلمانوں میں بھی ہوا، وہی اثر اب بھی ملک میں موجود ہے، باوجود اس کے کہ اس رسم سے ہزاروں لاکھوں جانیں تلف ہوگئیں، زندگیاں آتش جہنم کا ایندھن بن گئیں۔ گھر اجڑے، چمن ویران ہوئے مگر یہ ترقی کرتی رہی۔ محسوس ہوتا ہے کہ خون چوس چوس کر ہی اس مقام پر پہنچی ہے کہ لوگ چار و ناچار اس کے عادی ہو گئے ہیں۔ اور جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو زبان حال سے کہتے ہیں
اب آیا خیال اے آرام جاں اس نا مرادی میں
کفن دینا ہی بھول گئے ہم اسباب شادی میں
جہیز کی لعنت پر اس گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا پسماندہ گاؤں بھی اس مرض سے محفوظ نہیں ہے، لوگ جہیز لیتے ہیں اور خوب خوب لیتے ہیں۔ دو چار کو مستثنیٰ کر دیں تو پورا گاؤں اس طوفان بلاخیز کی لہر میں ہے۔ مگر اب یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ معاملہ دو طرفہ ہوگیا ہے، کسی زمانے میں مطالبہ لڑکے کی جانب سے ہوتا تھا مگر اب لڑکی کی جانب سے بھی ہونے لگا ہے۔ یعنی لڑکا سرکاری پیشہ ور ہوا تو شادی کے لیے فورا تیار، لڑکا خوب مالدار ہوا تو شادی کے لیے فورا تیار، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن رشتہ اچھا ہے مگر لڑکا سرکاری نوکری نہیں کرتا یا بہت خوش عیش نہیں ہے تو ٹھکرا دیا جاتا ہے، اس لیے لڑکے بھی مطالبہ کرنے سے اب نہیں جھجھکتے۔ لڑکیاں نوکری کے انتظار میں عمریں گزار رہی ہیں۔ لڑکوں کی عمریں ڈھل رہی ہیں۔ مگر ایک رشتہ جو ضروری ہے اس سے دونوں سمت راہ فرار ہے، جس سے معاشرتی خرابیوں کے واقعات ہم روز سوشل میڈیا پر دیکھتے، پڑھتے اور سنتے ہیں۔
جاری...........