جب ٹیلیفون ایک تار سے بندھا ہوا تھا، تب انسان آزاد تھے
گفتگو کی ایک حد تھی۔
نہ مسلسل نوٹیفکیشنز تھے، نہ جیبوں میں بند ڈیجیٹل زنجیریں۔
لوگ ایک دوسرے سے رو بہ رو بات کرتے، بغیر کسی خلل کے چلتے، اور لمحۂ موجود میں جیتے تھے۔
ملاقاتیں مختصر سہی، مگر خالص ہوتی تھیں، اور رشتے وقت کے محتاج نہیں بلکہ احساس کے محتاج تھے۔
گھر کی بیٹھکوں میں باتیں ہوا کرتی تھیں، گلیوں میں آوازیں گونجتی تھیں،
اور ہر شخص اپنی زندگی کو حقیقت میں جیتا تھا،
 نہ کہ کسی اسکرین کے پیچھے۔
افسوس، جیسے جیسے فون بے تار ہوئے، ویسے ویسے انسان پابند ہوتے گئے۔
اسکرینوں سے جکڑے ہوئے، اطلاعات کے غلام، ہر جگہ موجود مگر حقیقت میں کہیں بھی نہیں۔
اب ہر لمحہ ایک نئی خبر، ایک نیا پیغام، ایک نئی خلل انگیزی ہماری توجہ کو بانٹ دیتی ہے۔
ہم بات تو کرتے ہیں، مگر سننا بھول گئے ہیں۔
ہم ساتھ تو بیٹھتے ہیں، مگر متوجہ نہیں ہوتے۔
جیب میں رکھا چھوٹا سا آلہ اب ہماری توجہ، ہماری نیند، اور ہماری سوچوں پر حکمرانی کر رہا ہے۔
ہم نے سہولت کے بدلے سکون کھو دیا ہے 
ہر چیز قریب آ گئی، مگر دل دور ہو گئے۔
ہم تصویریں تو محفوظ کرتے جا رہے ہیں، مگر محبت کھوتے جا رہے ہیں۔
ہم اظہار تو کرتے ہیں، مگر احساس کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔
یہ کیسی ترقی ہے کہ انسان جتنا جڑتا جا رہا ہے، اتنا ہی تنہا ہوتا جا رہا ہے؟
شاید ہمیں پھر سے سادگی کی طرف لوٹنا ہوگا،
کچھ لمحوں کے لیے خود کو اس شور سے الگ کرنا ہوگا،
اور ان رشتوں کو وقت دینا ہوگا جو اسکرین کے نہیں بلکہ دل کے محتاج ہیں۔
کیونکہ سچ یہی ہے…
جب تاریں تھیں تو رابطہ کم تھا، مگر سکون زیادہ تھا۔
اور اب جب تاریں نہیں رہیں، تو رابطہ زیادہ ہے…
 مگر انسان کہیں کھو گیا ہے۔ 
اب کسی کے آنے کا انتظار نہیں بلکہ ہر وقت نوٹیفکیشن کا انتظار رہتا ہے ساری توجہ انسان نے موبائل فون کے حوالے کر دی ہے 
اب تو ایسا لگ رہا ہے 
جیسے ہم موبائل استعمال نہیں کر رہے 
بلکہ 
موبائل ہمیں استعمال کر رہا ہے 
عائشہ 🍁