طلبۂ میوات مظاہر علوم قدیم کی تعارفی میٹنگ
الحمدللہ گذشتہ کل ١١/ ذوالقعدہ ١٤٤٧ھ۔ بہ روز بدھ ہم نے طلبۂ میوات مظاہر علوم وقف سہارن پور کی بعدِ نمازِ عشاء ساڑھے دس بجے درس گاہِ افتاء (دارِ قدیم کمرہ نمبر/21) میں ایک تعارفی میٹنگ رکھی، الحمدللہ دس پندرہ منٹ میں تقریباً تمام طلبۂ میوات متعینہ جگہ حاضر ہو گئے، نیز میں نے مفتی محمد جابر میواتی مظاہری (أستاذ دار جدید مظاہر علوم سہارن پور) سے بھی کچھ وقت کے لئے آنے کی درخواست کر دی تھی جسے حضرت مفتی صاحب نے بہ خوشی قبول فرمالیا تھا اور حضرت مفتی صاحب وقتِ مقررہ پر تشریف لے آئے اور مختصر سا خطاب تقریر، تحریر اور اردو زبان سے متعلق فرمایا، نیز اسباق کی حاضری سے متعلق بھی کچھ لب کشائی کی، مفتی صاحب کا بیان بہت شان دار رہا، تقریباً سب ضروری چیزوں کو محیط تھا، نہ بےجا طول واختصار تھا اور نہ قلتِ وقت کا شکوہ، یعنی کہ کم وقت میں بہت ہی اہم اور ضروری باتوں سے ہمیں روش ناس فرما دیا۔
حضرت مفتی صاحب خطاب کے بعد رخصت ہو گئے، بعدہ کچھ دیر کے لیے بندہ طلبۂ میوات کے مابین حائل ہوا اور انتہائی مختصر الفاظ میں گذشتہ سال کی کار گزاری پیش کی، نیز امسال کے لیے مزید لائحۂ عمل طے کیا، جس میں یہ طے پایا کہ طلبۂ میوات مظاہر علوم قدیم کی ایک مستقل انجمن بنا کر اس کو کسی بہتر اور مناسب نام سے موسوم اور متعارف کرا دیا جائے، پھر اس کے تحت تین شعبے رہیں گے، ایک یعنی شعبۂ صحافت تو بحمداللہ گذشتہ سال ہی شروع ہو گیا تھا، نیز امسال مزید دو شعبے اور رکھنے مفید سمجھے، ایک شعبۂ مطالعہ اور دوسرا شعبۂ خطابت۔
شعبۂ مطالعہ کے تحت طلبہ کو مطالعہ وکتب بینی پر ابھارا جائے گا اور شوق دلایا جائے گا، نیز اساتذہ اور بڑوں کے مشورے سے براۓ مطالعہ کتابوں کا انتخاب ہوگا، اس کے علاوہ ہفتے دو ہفتے میں کیے ہوئے مطالعہ کی جانچ کی بھی کوئی صورت نکالی جائے گی اور اخیر سال میں صفحات کی کثرتِ تعداد کی بناء پر پوزیشن نکالی جائیں گی جس میں اول پوزیشن پر کم از کم 1500₹ کا انعام ہوگا اور موقع کے لحاظ سے اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ ان شاءاللہ تعالی
شعبۂ خطابت تو محتاجِ تعارف نہیں ہے، مگر مسٔلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں مظاہر علوم قدیم میں صوبائی انجمنوں کا سلسلہ بند ہے، انجمن برائے خطابت مدرسہ کی جانب سے متعین ہوتی ہیں، صوبوں، ضلعوں اور درجات کے اختلاط کے ساتھ، نیز ہر انجمن کے لیے باقاعدہ کسی استاذ کو نگراں بھی بنایا جاتا ہے، اس لیے ہم نے الگ سے مستقل ہفتہ واری انجمن کا نظام نہیں رکھا بل کہ درمیانی صورت یہ تجویز کی کہ طلبہ پورے ماہ مدرسہ کی جانب سے متعینہ انجمن میں شریک ہوں گے، پھر ہم ہر ماہ کے آخر میں ماہانہ مسابقۂ خطابت منعقد کریں گے جس میں ہر طالب علم کے لیے کم از کم پانچ یا سات منٹ کی تقریر کرنا ضروری ہوگا اور اس میں پوزیشن لانے والے احباب کو انعامات سے بھی نوازا جائے گا اور اواخرِ سال میں سالانہ مسابقۂ صحافت کی طرح مسابقۂ خطابت کا بھی انعقاد ان شاء اللہ تعالی۔
اس کے بعد سبھی میواتی احباب کا مختصر سا ناشتہ کرایا گیا اور الحمدللہ بہ حسن وخوبی اور بہت ہی عافیت کے ساتھ ہماری یہ تعارفی میٹنگ اختتام پذیر ہو گئ، اللہ تعالی ان چھوٹی اور ٹوٹی پھوٹی کوششوں کو اپنی بار گاہ میں قبول فرمائے اور معاونین ومحسنین کو جزائے خیر عنایت فرماۓ,آمین یارب العالمین۔
عبداللہ یوسف
مظاہر علوم وقف سہارن پور
١٢/ ذوالقعدہ ١٤٤٧ھ۔ بہ روز جمعرات