امام تمہارے باپ کا نوکر نہیں ہے ‼️
26 اپریل، 2026
میں تقریباً چار دن سے بے چین ہوں، دل کسی انجانی تکلیف میں مبتلا ہے، ایک خیال، ایک درد، ایک فکر نے مجھے جکڑ رکھا ہے اور میں مسلسل اسی سوچ میں مختلف تدابیر اور پلاننگ میں مصروف ہوں۔ میں لگاتار سن رہا ہوں کہ فلاں مسجد کے امام کو کسی مصلی نے مار دیا، فلاں نے گالی دی، کہیں بے عزتی، کہیں ذلت، کہیں تضحیک… یہ سب سن کر دل دہل جاتا ہے۔ ارے! یہ کیا ہو رہا ہے ہماری مساجد میں؟ کیا یہی وہ جگہیں ہیں جہاں سکون ملتا تھا، جہاں رحمتیں نازل ہوتی تھیں؟
چند دن پہلے میرے قریبی علاقے کے ایک امام صاحب نے مجھے ویڈیو بھیجی، واللہ وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ آنکھوں میں آنسو، آواز میں درد اور دل میں ٹوٹا ہوا اعتماد۔ وہ کہنے لگے: حضرت! میں اس علاقے میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتا ہوں اور مکتب میں تدریس بھی کرتا ہوں، میری ماہانہ تنخواہ صرف 9000 روپے ہے، میں اپنی فیملی کو چھوڑ کر دوسرے علاقے میں دین کی خدمت کے لیے آیا ہوں۔ سوچو! 9000 روپے؟ آج کے دور میں ایک عام مزدور بھی اس سے زیادہ کما لیتا ہے۔
وہ آگے کہتے ہیں: میرے کھانے کی ذمہ داری گاؤں کے متعدد افراد کو دی گئی ہے، میں تقریباً 60 طلباء و طالبات کو دن میں دو وقت مکتب پڑھاتا ہوں، یعنی دن رات دین کی خدمت، بچوں کو قرآن سکھانا، لوگوں کی رہنمائی کرنا، اور بدلے میں؟ وہ رک گئے، پھر کہنے لگے: اصل عرض یہ ہے کہ جب بھی مسجد کے صدر صاحب کی باری آتی ہے کھانا پہنچانے کی تو کھانے کی حالت کچھ اس طرح ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے ویڈیو دکھائی۔ چار ڈبوں والا ٹفن، ایک ڈبہ جس میں سالن نہیں صرف مرچ کا پانی، دوسرا ڈبہ چند بے جان سے بیگن کے ٹکڑے، اور تیسرے میں تھوڑے سے چاول۔
میں جانتا ہوں کھانے میں عیب نہیں نکالنا چاہیے، لیکن یہاں مسئلہ کھانے کا نہیں ہے، یہاں مسئلہ عزت کا ہے، یہاں مسئلہ انسانیت کا ہے، یہاں مسئلہ ایک عالم دین کی توقیر کا ہے۔ کیا ایک امام کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟ کیا یہی بدلہ ہے اس کا جو تمہارے بچوں کو قرآن سکھاتا ہے، جو تمہارے نکاح پڑھاتا ہے، جو تمہارے جنازے میں کھڑا ہوتا ہے، جو ہر نماز میں تمہاری امامت کرتا ہے؟ ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچو، اگر یہی کھانا تمہارے گھر بھیجا جائے تو کیا تم برداشت کرو گے؟ اگر کسی نے تمہارے باپ کے ساتھ ایسا سلوک کیا ہوتا تو کیا تم خاموش رہتے؟ پھر ایک امام کے ساتھ یہ رویہ کیوں؟
میرا سوال قارئین سے ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس مضمون کو پڑھنے والے اکثر اہل علم ہوں گے، کیا آپ کا ضمیر یہ گوارا کرتا ہے کہ آپ کے ہی میدان سے تعلق رکھنے والے محنتی علماء کے ساتھ یہ ظلم ہو؟ اگر نہیں تو آپ نے اپنے حصے کا حق اب تک کیا ادا کیا؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ ہمارے ائمہ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی ان کی تنخواہ بڑھانے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے کبھی ان کے لیے باوقار رہائش کا انتظام کیا؟ کیا ہم نے کبھی ان کی عزت کے لیے کھڑے ہو کر آواز اٹھائی؟ اگر نہیں تو ہمیں صرف افسوس کرنے کا کوئی حق نہیں، ہم بھی اس ظلم کے برابر کے شریک ہیں۔
میرے نزدیک اس وقت ایک ہی حل نظر آتا ہے، علماء کو خود کفیل بنایا جائے، انہیں ایسی تجارت، ایسے ذرائع معاش کا حصہ بنایا جائے جو ان کے وقار کے مطابق ہوں تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ رہیں اور اپنی پوری توانائی اور اپنا قیمتی وقت دین کی خدمت اور آنے والی نسلوں کی تربیت میں لگا سکیں۔ لیکن یہاں ایک سوال کھڑا ہوتا ہے، وہ کون سے ذرائع ہو سکتے ہیں؟ کون سی تجارت؟ کون سا نظام؟ یہ کام اکیلے کسی ایک شخص کا نہیں، یہ پوری امت کی ذمہ داری ہے۔
لہٰذا میں اہل علم، اہل فکر اور ہر درد رکھنے والے انسان سے اپیل کرتا ہوں، آگے آئیں، خاموش نہ رہیں، اپنے حصے کا فریضہ انجام دیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی بہتر تجویز ہے، کوئی ایسا راستہ ہے جو علماء کو باوقار زندگی دے سکے تو ضرور شیئر کریں۔
اپنی تجاویز اس نمبر پر ارسال کریں: 8341829383
شیخ اسلم الہند
یاد رکھیں، آج اگر ہم نے اپنے امام کی عزت نہ کی تو کل ہماری نسلیں دین سے محروم ہو جائیں گی، اور اس دن نہ کوئی بہانہ چلے گا نہ کوئی عذر قبول ہوگا۔ سوچو… ابھی بھی وقت ہے۔